پیرس: فرانس میں 17 اور 18 اکتوبر 2026 کو ہونے والے مظاہروں کے دوران دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات کے بعد لگژری برانڈز کے مہنگے ہینڈ بیگز انتہائی کم قیمتوں پر فروخت کیے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں بعض افراد کو مبینہ طور پر مہنگے ڈیزائنر بیگز معمول کی قیمت سے 80 سے 90 فیصد تک کم نرخوں پر فروخت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم ان اشیا کے چوری شدہ ہونے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
مہنگے برانڈز کے بیگز انتہائی کم قیمتوں پر فروخت کرنے کا دعویٰ
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز اور پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فرانس میں لگژری اسٹورز سے مبینہ طور پر حاصل کیے گئے ہینڈ بیگز سڑکوں پر فروخت کیے جا رہے ہیں۔ ان کی قیمتیں اصل قیمت کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک کم بتائی جا رہی ہیں۔رپورٹس کے مطابق بعض فروخت کنندگان کے پاس خریداری کی رسیدیں یا اصلی ہونے کے سرٹیفکیٹس موجود نہیں تھے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بعض دعوؤں میں یہ بھی کہا گیا کہ فروخت کنندگان اشیا کے حصول سے متعلق ویڈیوز دکھانے کی پیشکش کر رہے تھے۔ تاہم ان دعوؤں اور بیگز کی اصل شناخت کی تصدیق نہیں ہوئی۔
فرانس میں دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات
یہ معاملہ فرانس کے مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران دکانوں کو نقصان پہنچانے اور سامان لوٹے جانے کے واقعات کے بعد سامنے آیا ہے۔ 17 اکتوبر کو پیرس سمیت مختلف مقامات پر احتجاج کے دوران صورتِ حال بعض جگہوں پر پرتشدد ہوگئی، جس کے نتیجے میں دکانوں کے شیشے توڑے گئے اور سامان چوری کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔پیرس کے بعض معروف تجارتی علاقوں میں لگژری برانڈز کی دکانیں بھی متاثر ہوئیں۔ میڈیا رپورٹس میں سیلین، لوئی وٹون اور دیگر معروف برانڈز کی دکانوں کو نقصان پہنچنے یا وہاں سے سامان لوٹے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز نے نئی بحث چھیڑ دی
وائرل ویڈیوز کے بعد صارفین کی جانب سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ اگر فروخت ہونے والی اشیا واقعی لوٹ مار کے دوران حاصل کی گئی ہیں تو انہیں کھلے عام فروخت کرنے کی کوشش کیسے کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب بعض صارفین نے خبردار کیا ہے کہ صرف کم قیمت یا سوشل میڈیا پر موجود ویڈیو کی بنیاد پر کسی چیز کو چوری شدہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔اس معاملے میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ آیا ویڈیوز میں دکھائے جانے والے بیگز واقعی انہی دکانوں سے لیے گئے تھے جو مظاہروں کے دوران متاثر ہوئیں، یا ان کی فروخت سے متعلق دعوے غیر مصدقہ ہیں۔
آن لائن فروخت ہونے والی مشتبہ اشیا پر بھی تشویش
رپورٹس کے مطابق فرانس میں دکانوں سے لوٹے جانے کا شبہ رکھنے والی بعض لگژری اشیا آن لائن ری سیل پلیٹ فارمز پر بھی نظر آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس صورتِ حال نے ان اشیا کی اصل ملکیت، فروخت کنندگان کی شناخت اور خریداروں کے لیے ممکنہ قانونی مسائل سے متعلق تشویش بڑھا دی ہے۔ماہرین کے مطابق مہنگی برانڈڈ اشیا خریدتے وقت رسید، اصلی ہونے کے ثبوت اور فروخت کنندہ کی ساکھ کی جانچ ضروری ہے، خصوصاً اس وقت جب قیمت مارکیٹ کے معمول کے نرخ سے بہت کم ہو۔
ویڈیوز کی حقیقت کی تصدیق ضروری
اگرچہ فرانس میں مظاہروں کے دوران لوٹ مار کے واقعات کی خبریں سامنے آئی ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر فروخت کیے جانے والے ہر بیگ کو چوری شدہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ وائرل ویڈیوز میں دکھائی جانے والی اشیا کی اصل، ان کی ملکیت اور فروخت کے حالات کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔