جماعتِ اسلامی کے امیر نے تحریک کے تیسرے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے کراچی اور سندھ کے تعلیمی نظام، سرکاری تعلیمی بجٹ اور عوامی وسائل کے استعمال پر سوالات اٹھائے۔
کراچی: جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے اپنی تحریک کے تیسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعے کے روز ملک کے 150 شہروں میں لیوی کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کراچی میں تعلیمی نظام کی بہتری، مفت اور معیاری تعلیم کی فراہمی اور تعلیم کے لیے مختص بجٹ کے استعمال پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔کراچی میں خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ شہریوں کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق یہ واضح ہونا چاہیے کہ تعلیم کے لیے مختص بجٹ کہاں اور کس طرح خرچ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کراچی سمیت سندھ بھر میں تعلیمی نظام کی صورتِ حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
150 شہروں میں احتجاج کا اعلان
حافظ نعیم الرحمٰن نے بتایا کہ جماعتِ اسلامی اپنی تحریک کا تیسرا مرحلہ شروع کر رہی ہے، جس کے تحت جمعے کو ملک کے 150 شہروں میں لیوی کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت عوامی مسائل کے حل اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
کراچی میں تعلیم کارڈ جاری کرنے کا منصوبہ
امیر جماعتِ اسلامی نے کراچی میں تعلیم کارڈ متعارف کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جماعت کے زیرِ انتظام ٹاؤنز میں طلبہ کی تعلیمی معاونت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مستحق طلبہ کو باعزت طریقے سے وظائف فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ خاندانوں پر تعلیمی اخراجات کا بوجھ کم ہو اور بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد ملے۔انہوں نے بتایا کہ گلبرگ ٹاؤن میں 10 ہزار تعلیم کارڈ جاری کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ کی مدد اور تعلیمی مواقع تک ان کی رسائی بہتر بنانا ہے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ تعلیمی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں، تاہم ریاست کو ہر شہری کے لیے معیاری تعلیم کی دستیابی یقینی بنانی چاہیے۔
پنجاب کے تعلیمی نتائج اور اخراجات پر تنقید
حافظ نعیم الرحمٰن نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبے کے خراب معاشی حالات کے باوجود 11 ارب روپے کا طیارہ خریدا گیا۔ انہوں نے پنجاب کے سرکاری اسکولوں کے نتائج پر بھی تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی معیار بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔انہوں نے سرکاری اخراجات اور تعلیم کے شعبے کی کارکردگی کے حوالے سے سوالات اٹھائے اور کہا کہ حکومتوں کو عوامی وسائل خرچ کرتے وقت ترجیحات کا تعین کرنا چاہیے۔
کراچی یونیورسٹی اور سندھ کے تعلیمی نظام پر تحفظات
جماعتِ اسلامی کے امیر نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جامعہ کراچی میں پہلے سوا سو پوائنٹس چلتے تھے، جبکہ اب یونیورسٹی کے حالات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے سندھ حکومت کی قیادت پر کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ کراچی سمیت صوبے کے تعلیمی نظام کو متعدد مسائل درپیش ہیں۔ یہ الزامات ان کے بیان کا حصہ ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔
محدود وسائل میں ترقیاتی کام جاری رکھنے کا دعویٰ
حافظ نعیم الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ فنڈز کی کمی کے باوجود جماعتِ اسلامی کے زیرِ انتظام ٹاؤنز میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔ ان کے مطابق تعلیم کارڈ اور طلبہ کے لیے وظائف شہریوں کو سہولتیں فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔