پاکستان کا پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی، شہباز شریف

پاکستان کا پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی، شہباز شریف

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کا پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی۔

 انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے۔مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مالدیپ کے صدر کا 11 سال بعد پاکستان کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ ملاقات میں مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے اور باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے امکانات پر تعمیری اور مثبت گفتگو ہوئی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تعلیم، صحت، تجارت اور دیگر شعبوں میں تعاون کی مضبوط بنیاد موجود ہے۔ مالدیپ کے متعدد طلبہ پاکستانی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ پاکستانی ڈاکٹرز اور معاون طبی عملہ مالدیپ میں انسانی خدمت انجام دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان برادر ملک مالدیپ کی ضروریات پوری کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے میں خوشی محسوس کرے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں کو عملی جامہ پہنانا بھی مشترکہ ترجیحات میں شامل ہے۔

پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے کہا کہ دونوں ممالک تعلیم، صحت، تجارت، دفاع اور دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال باہمی تعاون اور دوستی پر مبنی ہیں۔صدر مالدیپ کے مطابق دونوں ممالک کو دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو نئی جہت دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو سال کے دوران پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تجارتی حجم کو 13 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔انہوں نے پاک مالدیپ بزنس فورم کو تجارتی اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے تبادلے کے پروگرام کے تحت وفود کے تبادلوں کو بھی وسعت دی جائے گی۔ڈاکٹر محمد معیزو نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

پاکستان اور مالدیپ کے درمیان 20 مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ
وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر کی ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے 20 مفاہمتی یادداشتوں اور متعلقہ دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔ان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں میں انسدادِ منشیات، سماجی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور مالدیپ فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے درمیان تعاون پر اتفاق کیا گیا، جبکہ طبی ماہرین کی بھرتی کے حوالے سے بھی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔دونوں ممالک نے دفاعی تعاون بڑھانے اور بحری سلامتی کے شعبے میں باہمی روابط مضبوط کرنے سے متعلق دستاویزات کا بھی تبادلہ کیا۔ ان اقدامات کا مقصد ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں عملی شراکت داری کو وسعت دینا ہے۔

مصنوعی ذہانت، صحت اور تعلیم میں تعاون بڑھانے کا عزم
پاکستان اور مالدیپ نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم، تجارت اور سیاحت سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اقدامات کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے، طبی شعبے میں تعاون، تعلیمی مواقع میں اضافے اور کاروباری روابط کو فروغ دینے کے امکانات پر توجہ دی جائے گی۔صدر مالدیپ نے امید ظاہر کی کہ پاک مالدیپ بزنس فورم دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان روابط بڑھانے اور تجارت کے نئے مواقع تلاش کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

مالدیپ کے صدر کو سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں اعزازی ڈاکٹریٹ
دورۂ پاکستان کے دوران مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کو اعزازی ڈگری تفویض کرنے کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔یہ اعزاز مالدیپ کی ترقی کے لیے ان کی خصوصی کاوشوں کے اعتراف میں دیا گیا۔ تقریب میں دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

پاک مالدیپ تعلقات میں نئے تعاون کی توقع
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی ملاقات کے نتیجے میں تجارت، دفاع، صحت، تعلیم، سیاحت اور جدید ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔