لاہور میں ایل پی جی کی سپلائی معطل ہونے کا خطرہ منڈلانے لگا

لاہور میں ایل پی جی کی سپلائی معطل ہونے کا خطرہ منڈلانے لگا

لاہور میں ایل پی جی ڈیلرز نے ضلعی انتظامیہ کی مبینہ کارروائیوں کے خلاف ہڑتال کی دھمکی دے دی، جس کے باعث شہر میں ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو ہفتے تک کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی دکانوں کے خلاف کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔راوی روڈ لاہور میں ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے اجلاس اور تحفظِ حقوق ایل پی جی دکاندار کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں تاجروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرمین میاں محمد اجمل، عبداللہ خان، تحصیل خان، زرداد خان اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ شرکاء نے ایل پی جی کاروبار سے وابستہ دکانداروں کو درپیش مسائل اور انتظامی کارروائیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ پیرا فورس، سول ڈیفنس اور بلدیہ کے اہلکار دکانوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے سامان ضبط اور دکانیں سیل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض اہلکار مبینہ طور پر رشوت اور بھتہ طلب کرتے ہیں، جبکہ مطالبات پورے نہ کرنے والے دکانداروں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ایل پی جی ڈیلرز کا دعویٰ ہے کہ مختلف آپریشنز کے دوران اب تک تقریباً 14 کروڑ روپے مالیت کا سامان تباہ کیا جا چکا ہے۔

 ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہفتے تک کارروائیاں بند نہ کی گئیں تو شہر بھر میں کاروبار بند کرکے احتجاج اور ہڑتال کی جائے گی۔ ایسی صورت میں شہریوں کو ایل پی جی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایل پی جی کی دکانوں کے لیے واضح، یکساں اور قابلِ عمل معیاری ضابطہ کار (ایس او پیز) مرتب کیے جائیں۔ رہنماؤں کے مطابق دکانداروں کو حفاظتی اقدامات کے حوالے سے مناسب تربیت فراہم کرکے لائسنس جاری کیے جانے چاہییں، تاکہ کاروبار کو قانونی دائرے میں لاتے ہوئے حفاظتی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے غیر قانونی دکانوں کی نشاندہی اور حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی پیشکش بھی کی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ مسئلے کا حل غیر واضح کارروائیوں کے بجائے مؤثر قواعد، تربیت اور باہمی مشاورت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔