کراچی میں دو مختلف واقعات کے دوران ایک مزدور جاں بحق جبکہ تین افراد جھلس کر زخمی ہوگئے۔
پورٹ قاسم کے قریب کیمیکل کمپنی میں بوائلر پھٹنے سے ایک مزدور زندگی کی بازی ہار گیا اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا، جبکہ ابراہیم حیدری کے علاقے میں گھر میں مبینہ طور پر گیس کا چولہا پھٹنے سے میاں بیوی جھلس کر زخمی ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق پہلا واقعہ بن قاسم ٹاؤن تھانے کی حدود میں پورٹ قاسم کے قریب واقع ایم ای سی سی نامی کیمیکل کمپنی میں پیش آیا، جہاں بوائلر پھٹنے کے باعث زور دار دھماکا ہوا۔ حادثے کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے دو مزدور جھلس کر متاثر ہوئے، جن میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔
حادثے کی اطلاع ملنے پر ایدھی ایمبولینس کے ذریعے متاثرہ مزدوروں کو قریبی الخدمت اسپتال منتقل کیا گیا۔ جاں بحق مزدور کی شناخت 35 سالہ محمد سہیل ولد شاہ محمد کے نام سے ہوئی، جبکہ زخمی مزدور کی شناخت 45 سالہ وحید کے نام سے کی گئی۔ زخمی کو مزید طبی امداد کے لیے نجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔بن قاسم تھانے کے ایس ایچ او فیصل رفیق کے مطابق کمپنی میں ایک ورکر ویلڈنگ کا کام کر رہا تھا کہ اسی دوران گیس بھرنے کے باعث بوائلر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ واقعے کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے حادثے کی وجوہات اور حفاظتی انتظامات کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
ابراہیم حیدری میں گیس چولہا پھٹنے سے میاں بیوی جھلس گئے
دوسری جانب کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں بھی گیس چولہا پھٹنے کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں خاتون سمیت دو افراد جھلس کر زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق واقعہ کورنگی نمبر 6 کے علاقے جمعہ گوٹھ میں ٹی بی اسپتال کے قریب واقع ایک گھر میں پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر گیس کا چولہا پھٹنے سے آگ بھڑک اٹھی اور گھر میں موجود دو افراد اس کی زد میں آکر جھلس گئے۔زخمیوں میں 19 سالہ مہک زوجہ اسماعیل اور 25 سالہ اسماعیل ولد مقبول حسین شامل ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق دونوں آپس میں میاں بیوی ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر امدادی اہلکاروں نے زخمیوں کو طبی امداد کے لیے سول اسپتال کے برنس وارڈ منتقل کردیا۔
حادثات نے حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے
کراچی میں پیش آنے والے ان دونوں واقعات میں ایک شخص کی ہلاکت اور تین افراد کے زخمی ہونے سے صنعتی مقامات اور گھروں میں گیس سے متعلق حفاظتی اقدامات کی اہمیت ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔ تاہم، دونوں واقعات کی مکمل وجوہات اور ممکنہ غفلت سے متعلق حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ذمہ داری کا تعین کیا جاسکے گا۔