لندن: برطانیہ میں ایک نوجوان لڑکی نے سوشل میڈیا انفلوئنسر بننے اور ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایشن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے تقریباً 30 ہزار برطانوی پاؤنڈ خرچ کر دیے، جو پاکستانی کرنسی میں ایک کروڑ روپے سے زائد بنتے ہیں۔
اس غیر معمولی تعلیمی انتخاب کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا انفلوئنسر بننے کے لیے اتنی مہنگی ڈگری حاصل کرنا ضروری ہے؟برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 21 سالہ ڈیسٹنی میک گوون نے ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی سے ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایشن میں تین سالہ ڈگری حاصل کی۔ اس دوران ان کی تعلیم پر تقریباً 30 ہزار پاؤنڈ خرچ ہوئے۔
انفلوئنسر بننے کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم
ڈیسٹنی میک گوون کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے کاروباری شخصیت بننے کی خواہش رکھتی تھیں اور ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایشن کی ڈگری نے انہیں اپنے اس مقصد کی جانب بڑھنے میں مدد فراہم کی۔ان کے مطابق یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران انہیں نہ صرف پیشہ ورانہ مہارتیں سیکھنے کا موقع ملا بلکہ جدید اسٹوڈیو آلات استعمال کرنے اور اس شعبے سے وابستہ تجربہ کار افراد کے ساتھ روابط قائم کرنے میں بھی مدد ملی۔ڈیسٹنی کے نزدیک اس ڈگری کی اہمیت صرف کلاس روم میں حاصل ہونے والی تعلیم تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ذریعے انہیں عملی تجربہ اور ڈیجیٹل میڈیا کی صنعت کو سمجھنے کا موقع بھی ملا۔
کورس میں کیا سکھایا جاتا ہے؟
ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایشن کے اس کورس میں طلبہ کو سوشل میڈیا کے لیے معیاری مواد تیار کرنے اور اسے مؤثر انداز میں پیش کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔کورس کے اہم موضوعات میں ویڈیو ایڈیٹنگ، سوشل میڈیا پر فالوورز بڑھانے کی حکمت عملی، کاپی رائٹ قوانین اور برانڈز کے ساتھ اشتہاری معاہدے حاصل کرنے کے طریقے شامل ہیں۔اس کے علاوہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد کی تیاری، تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال اور آن لائن کاروبار سے متعلق مہارتیں بھی اس شعبے کا حصہ ہیں۔ ان مہارتوں کے ذریعے طلبہ سوشل میڈیا کو محض تفریح کے بجائے کاروبار اور آمدنی کے ایک ممکنہ ذریعے کے طور پر استعمال کرنا سیکھتے ہیں۔
اب فیشن ویڈیوز اور ٹک ٹاک لائیو کے ذریعے کام
ڈگری مکمل کرنے کے بعد ڈیسٹنی میک گوون فیشن سے متعلق ویڈیوز بناتی ہیں اور ٹک ٹاک پر مصنوعات فروخت کرنے کے لیے لائیو ہوسٹنگ بھی کرتی ہیں۔سوشل میڈیا پر لائیو ہوسٹنگ کے دوران تخلیق کار مختلف مصنوعات متعارف کراتے، ان کی خصوصیات بیان کرتے اور ممکنہ خریداروں کے سوالات کے جواب دیتے ہیں۔ اس سرگرمی کے ذریعے مصنوعات کی تشہیر اور فروخت میں مدد مل سکتی ہے۔ڈیسٹنی کا کام ڈیجیٹل مواد کی تیاری اور آن لائن تجارت کے امتزاج کی ایک مثال ہے، جہاں تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ مارکیٹنگ اور صارفین سے رابطے کی مہارتیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین نے مہنگی ڈگری پر سوال اٹھا دیے
ڈیسٹنی کی تعلیم پر خرچ ہونے والی رقم کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے۔ بعض صارفین نے سوال کیا کہ جب ویڈیو ایڈیٹنگ، سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور کانٹینٹ کری ایشن کی متعدد مہارتیں انٹرنیٹ پر مفت یا کم قیمت پر سیکھی جا سکتی ہیں تو ان کے لیے اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ڈیجیٹل دور میں یوٹیوب، آن لائن کورسز اور دیگر تعلیمی پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی مواد تیار کرنے، ویڈیوز ایڈٹ کرنے اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے کے طریقے سیکھے جا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض افراد کے نزدیک انفلوئنسر بننے کے لیے مہنگی یونیورسٹی ڈگری لازمی شرط نہیں۔تاہم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ باقاعدہ ڈگری کے دوران طلبہ کو منظم نصاب، اساتذہ کی رہنمائی، عملی تربیت، جدید آلات اور پیشہ ورانہ روابط بنانے کے مواقع مل سکتے ہیں، جو خود سے سیکھنے کے طریقے میں ہر کسی کو یکساں طور پر میسر نہیں ہوتے۔
ڈیسٹنی کے مطابق تعلیم پر خرچ فائدہ مند ثابت ہوا
تنقید اور سوالات کے باوجود ڈیسٹنی میک گوون کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ سرمایہ کاری فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔ ان کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اس ڈگری کو محض سوشل میڈیا پر مقبول ہونے کے بجائے ڈیجیٹل مواد کی تیاری اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق پیشہ ورانہ مہارتیں حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا۔تاہم اس بات کا تعین کرنا کہ ڈگری پر خرچ ہونے والی رقم مالی طور پر کتنی کامیاب سرمایہ کاری ثابت ہوئی، ان کی آمدنی، کاروباری اخراجات اور طویل مدتی پیشہ ورانہ کامیابی سے متعلق معلومات کے بغیر ممکن نہیں۔