ایرانی خبر ایجنسیوں کے مطابق ایران اس وقت امریکہ کی جانب سے بھیجے گئے حالیہ پیغام کا باضابطہ جواب تیار کر رہا ہے، جس میں ممکنہ معاہدے کے لیے وسیع فریم ورک، بعض تکنیکی تفصیلات اور اعتماد سازی کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں یہ پیش رفت اہم قرار دی جا رہی ہے، اور کہا جا رہا ہے کہ اس پیغام کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان بعض اختلافات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم ایرانی مؤقف کے مطابق ان اختلافات کو مزید کم کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے جنگی دھمکیوں کے خاتمے کو ضروری شرط قرار دیا گیا ہے۔اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی تھی کہ ایران کو امریکہ کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہوئی ہیں جن کا جائزہ اعلیٰ سطح پر لیا جا رہا ہے۔دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور سفارتی ڈیل کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
ان رپورٹس کے مطابق گفتگو کے دوران ممکنہ معاہدے کی تجاویز اور ثالثی کے ذریعے تیار کیے جانے والے ایک “اظہارِ ارادہ” کے خط پر بھی بات چیت ہوئی، جس پر امریکہ اور ایران دونوں کے دستخط متوقع بتائے جا رہے ہیں۔تاہم اب تک نہ تو واشنگٹن اور نہ ہی تہران کی جانب سے ان تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق کی گئی ہے، اور صورتحال کو سفارتی سطح پر جاری حساس مذاکراتی عمل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔