دھندا ہے پر گندا ہے!

 رفیع احمد   

  پاکستانی قوم میں بڑھتی ہوئی منشیات کی وجوہات میں ،تعلیم سے دوری،بے روزگاری،حرام ذرائع  سے کمائی،  بیہودہ فیشن ،   آبادی کا بے ہنگم پھیلاؤ اور سب سے بڑھ کر انسداد منشیات میں سرکاری اداروں کی عدم دلچسپی شامل ہے۔ ماضی قریب میں منشیات کا حصول مشکل تھا لیکن بدقسمتی سے اب سہل ہوگیا ہے،پہلے پہل منشیات کی فروخت کے مخصوص اڈے   تھے لیکن اب یہ پان کی دکان، چائے کے  ڈھابے ، ہوٹل اور کوریئرز کے ذریعے مخصوص طریقوں سے فراہم  کی جاتی ہے۔  صرف کراچی شہر میں "تیس ہزار" سے زائد چائے کے ہوٹل و ڈھابے ہیں اور اتنے ہی تعداد میں پان شاپس موجود ہیں، ظلم تو یہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر الیکٹرانک سگریٹ (vapes) کی شاپس میں اضافہ ہوتا ہی جا رہا ہے۔ منشیات مافیا نے کمال مہارت سے ہماری  نوجوان نسل کو تباہ و برباد کرنے کے لئے شیشہ کیفے، خوبصورت ہوٹل، پرکشش چائے کے ڈھابوں کے نام سے، ویٹرز لڑکیاں رکھ کر اپنی طرف تیزی سے متوجہ کر رہے ہیں۔ابتدا میں یہ کیفے پوش علاقوں میں کھلے،موثرروک تھام نہں ہونے کی وجہ سے اب یہ متوسط علاقے میں حشرات الارض کی طرح پھیلتے جارہے ہیں۔ چائے کا مناسب استعمال  نقصان دہ نہیں ہے  مگر چائے کی پتی میں پولی فینولز کیمیکل، ملاوٹ والا دودھ جس میں ڈیٹرجنٹ لیکوئیڈ شامل کر کے جھاگ پیدا کیا جاتاہے، جو معدہ پر زخم کرتا ہے انسانی صحت کے لیے زہر قاتل ہے، اس کے علاؤہ افیون کی شاشنی،ٹراما  ڈول (Tramadol)، ڈایزے پام(ولیم) کی گولیوں کو پیس کر چائے میں ملایا جاتا ہے اس طرح کی متعدد نشہ آور گولیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے، جوڑیا بازار، سہراب گوٹھ وغیرہ جیسے علاقوں سے خرید کر سفید پوڈر (ڈائی ایسٹائل مورفین ) چائے میں  ملا یا جا رہا ہے۔ چائے پینے والے کو ابتداء￿  میں وقتی سکون،لذت،ذائقہ، جسم میں پھرتی،جنسی خواہش کا پیدا ہونا،رات کو دیر تک جاگنا،بھوک کا نہ لگنا۔۔۔۔۔لیکن وہ بتدریج ذہنی و جسمانی کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے اور بالآخر وہ آہستہ آہستہ موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔"نشء چائے" کا استعمال نوجوانوں کے ساتھ  فیملیز  میں بھی فیشن بن گیا ہے،فیملیز کے آنے کی وجہ یہ ہے کہ شہر میں تفریح سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے یہ ہی وجہ ہے کہ کراچی دنیا میں منشیات استعمال کرنے والا دوسرا بڑا شہر بن چکا ہے یعنی روزانہ  50،لاکھ روپے کی منشیات استعمال کی جارہی ہے۔جرائم میں  ملوث افراد  سب سے زیادہ اسی شہر قائد میں ملیں گے، یہاں  کے ہوٹلز میں بیٹھ کر، کرسٹل آئس کا نشہ کر کے  واردات کرتے ہیں، نشہ سے ان کا دماغ سن ہو جاتا ہے، ان کے نزدیک انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں ، یہ ہی وجہ کہ گزشتہ سال موبائل یا پرس چھیننے پر 110، معصوم لوگوں کی جانیں لی گئیں۔اس گزرتے  سال کے صرف 5، ماہ میں 47، قیمتی جانوں کا ضیاع  ہوا ہے۔
   سپریم کورٹ آف پاکستان نے نومبر 2015 میں شیشہ کیفے پر پابندی عائد کردی تھی یہ فیصلہ درست فیصلہ تھا لیکن وطن عزیز  کی سرکار نے اس پر  عمل درآمد کروانے کی زحمت ہی نہیں کی بلکہ ایسا معلوم  ہوتا ہے کہ ان کیفوں کو پولیس کی مکمل سرپرستی حاصل ہو۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت میڈیکل اسٹورز  کو پابند کرے کہ بغیر  ڈاکٹری نسخے کے  نشہ آور ادویات فروخت نہ کی جائیں،کمشنرز، پولیس و رینجرز کے اعلیٰ حکام، اینٹی نارکوٹکس فورس،فوڈز اتھارٹی،بلدیاتی نمائندے ، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا، مذہبی،سیاسی و سماجی تنظیمیں منشیات کے خلاف اپنا مضبوط اور بھرپور کردار ادا کریں۔ہوٹلز و پان شاپس کے مالکان کو بھی سمجھنا چاہیے کہ نسلوں کی تباہی  کے لیے منشیات کایہ"دھندا گندہ دھندا"ہے۔۔