چین کا امریکا کو سخت جواب: "جنگل کا قانون نہیں چلنے دیں گے

چین کا امریکا کو سخت جواب:

چین نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے والے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی ملک وقتی مفاد کے لیے دوسروں کے مفاد کو نقصان پہنچاتا ہے، تو وہ شیر کی کھال مانگ رہا ہے۔

چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ چین اپنے حقوق اور مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا اور اگر کسی نے اس کے مفادات کے خلاف معاہدہ کیا تو چین سخت جوابی اقدامات کرے گا۔ترجمان نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ تجارتی شراکت داروں کے ساتھ برابری کے نام پر زیادتی کر رہا ہے اور انہیں جوابی ٹیرف مذاکرات پر مجبور کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کا یہ رویہ عالمی تجارتی نظام کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اگر امریکہ کی یک طرفہ پالیسیوں کو تسلیم کیا گیا تو عالمی تجارتی نظام "جنگل کے قانون" کی طرف لوٹ جائے گا، جہاں طاقتور کمزوروں پر ظلم کریں گے۔

چینی ترجمان نے کہا کہ چین امریکی جنگل کے قانون کو قبول نہیں کرے گا اور اپنے مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا۔ اس بیان کے بعد، چین نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے اقتصادی مفادات کو بچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ نے کئی ممالک پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ وہ چین کے ساتھ اپنے تجارتی روابط محدود کریں تاکہ امریکی ٹیرف میں نرمی حاصل کی جا سکے۔ اس وقت امریکہ نے چین پر 145 فیصد تک کے ٹیرف عائد کر رکھے ہیں، جبکہ چین نے جوابی طور پر امریکی مصنوعات پر 125 فیصد ٹیرف نافذ کیے ہیں۔