محمد تسنیم رضا
تقریباً دس برس کی عمر کی بات ہے، ہمارے علاقے میں کسی کے گھر میں چوری ہو گئی۔ انہوں نے قانونی کارروائی کی یا نہیں یہ تو مجھے علم نہیں، اور اگر کی تو قانون نے ان کی مدد کی یا نہیں، اس کا بھی پتا نہیں۔ جو معلوم ہے وہ صرف اتنا ہے کہ انہیں کسی نے ایک ایسے عامل کا بتایا جو کسی سیانے بچے کے ناخن میں چوری کرنے والے شخص کی شبیہ واضح کر دیتا تھا، جس کے نتیجے میں چور پکڑا جاتا تھا۔ اب اس بچے کے ناخن میں دیکھی گئی شکل قانونی طور پر کوئی ٹھوس ثبوت سمجھی جاتی تھی یا نہیں، یہ بھی میں نہیں جانتا۔ جاننے کے خواہش مند کسی ماہرِ قانون سے مدد لے سکتے ہیں۔
بہرحال علاقے میں ہونے والی اس چوری کی بازیابی کے لیے ناخن میں شکل دیکھنے کے لیے جو بچہ چنا گیا، وہ میں تھا۔ اس چناؤ کی وجہ یہ تھی کہ عامل نے کہا تھابچہ ذہین اور ہوشیار ہو، اور اہلِ محلہ کے معیار کے مطابق اس وقت بچپن میں مجھے ذہین اور ہوشیار بچہ سمجھا گیا۔ جو کہ آج تک پچپن میں بھی اتنا ہی سمجھا جا رہا ہے۔ شاید میں بچپن سے نکل ہی نہیں پایا، اس لیے مجھے اہلِ علاقہ کی طرف سے مزید ترقی نہیں دی گئی، یا شاید انہوں نے بچپن اور پچپن تک میری ذہانت میں کسی فرق کو محسوس ہی نہیں کیا۔
قصہ مختصر، مجھے عامل صاحب کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے میرے انگوٹھے کے ناخن پر تیل لگایا اور مجھے بغیر پلک جھپکائے دیکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کچھ پڑھنا شروع کر دیا۔ پڑھائی کے درمیان رک رک کر پوچھتے رہے: ماشکی آ گیا ہے؟ کیا اس نے پانی چھڑکا دیا ہے؟ کیا کرسیاں لگ گئی ہیں؟ کیا قاضی آ گیا ہے؟ کیا چور کو پیش کیا گیا ہے؟ کیا چور کی شکل نظر آ رہی ہے؟ کیا کارروائی شروع ہو گئی ہے؟
عامل سوال کرتا رہا اور اس کے ہر سوال پر میں ایک ہی جواب دیتا رہا، اور وہ جواب تھا "نہیں"۔ اس "نہیں" کے نتیجے میں میرے انگوٹھے کے ناخن میں لگنے والی عدالتی کارروائی کا وہی حشر ہوا جو ہماری عدالتوں میں ہونے والی کارروائی کا ہوتا ہے۔ میرے اہلِ علاقہ کچھ غلط بھی نہیں کہ بچپن سے پچپن تک میری ذہانت کا سفر کچھ خاص آگے بڑھا نہیں، شاید میں بھی ان سے متفق ہوں۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ میری نوجوانی میں پیش آیا۔ ہم دو دوست کراچی کے لیے روانہ ہوئے۔ میرے دوست پاکستان کے ایک بڑے نامی گرامی حکیم صاحب کے صاحبزادے تھے۔ ان کے والد کے ایک شاگرد تھے جو بہت بڑے عالم تھے اور کراچی میں ایک بڑی مسجد میں خطیب بھی۔ انہوں نے کراچی میں ایک بڑا بنگلہ کرایہ پر لے کر اپنی پیری مریدی جمائی ہوئی تھی جہاں وہ لوگوں کا علاج جڑی بوٹیوں کے ساتھ ساتھ تعویزات اور عملیات سے کرتے تھے۔ انہوں نے ایک عامل کے طور پر اپنی دھاک بٹھا رکھی تھی اور بلا مبالغہ سینکڑوں لوگ روزانہ ان کے پاس اپنے مسائل حل کروانے کے لیے آتے تھے۔
جو وسیع و عریض بنگلہ انہوں نے کرایہ پر لیا ہوا تھا وہ صرف انہی لوگوں کے لیے تھا جو ان سے دوائی اور تعویزات لینے کے لیے آتے تھے۔ ہم چونکہ ان کے آبائی علاقے سے تھے اور میرا دوست ان کے استاد کا بیٹا بھی تھا، تو ہمیں بڑی عزت دی گئی اور اسی بنگلے میں ٹھہرایا گیا جہاں حاجت مند آتے تھے۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ کراچی کے مختلف پکوان، جن میں بریانی سرِفہرست تھی، ہمیں ہر ذائقے کی دستیاب ہوئی کیونکہ وہاں آنے والے حاجت مند کچھ نہ کچھ پکا کر ضرور لاتے تھے۔ اور ظاہر ہے پیر صاحب کے حضور پیش کرنے والے پکوان خاص پکوان ہوتے تھے اور ان میں میٹھا اور نمکین سبھی شامل تھا۔
دن کے آغاز ہی سے حاجت مندوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ پیر محترم ہمیں بھی اپنے ساتھ بٹھا لیتے اور اپنے مریدین سے تعارف کرواتے کہ یہ ہمارے استاد کے صاحبزادے ہیں اور یہ ان کے دوست ہیں۔ یوں ان کے مریدین ہمیں بھی خاص توجہ اور احترام دینا شروع کر دیتے جس سے ہم بھی احساسِ تفاخر میں مبتلا ہو کر کمینی سی خوشی محسوس کرنے لگتے۔ اسی طرح کھاتے پیتے کوئی ہفتہ بھر گزرا ہوگا کہ مجھے دانتوں میں درد محسوس ہونے لگا ،ا?ء ینے میں دیکھا تو بظاہر دانت ٹھیک تھے
۔ یہ شاید ان کھانوں کا اثر تھا جو اپنی خوش خوراکی کے باعث میں زیادہ مقدار میں کھاتا رہتا تھا۔
ہم پیر صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو میں نے اپنے دوست کے کان میں چپکے سے کہا کہ میرے دانتوں میں تکلیف ہے، چلو کسی دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔ اس نے کہا ٹھیک ہے، مولانا سے اجازت لیتے ہیں اور چلتے ہیں۔ انہوں نے مولانا سے اجازت مانگی تو انہوں نے پوچھا کہاں کی تیاری ہے۔ میرے دوست نے جواب دیا کہ اس کے دانتوں میں تکلیف ہے، کسی ڈاکٹر کو دکھانا چاہتے ہیں۔ اتنا سننا تھا کہ مولانا جلال میں آگئے اور کہنے لگے: میرے ہوتے ہوئے کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے، ابھی پانچ منٹ میں دانتوں کا علاج کر دیتا ہوں۔
یہ کہہ کر انہوں نے قلم اٹھایا اور ایک تعویز لکھ کر مجھے دے دیا کہ اس کو دس جوتے مارو، گنتی پوری ہونے پر تکلیف دور ہو جائے گی۔ میں نے کمرے کے باہر سے انہی کے مرید کے ہاتھوں اپنا جوتا منگوایا اور اس تعویز کو، جس پر کچھ آڑی ترچھی لکیریں لگی ہوئی تھیں، مارنا شروع کر دیا۔ گنتی پوری ہوئی تو پیر صاحب نے فخر سے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا: آرام آیا؟ تو میں نے انکار میں سر ہلا دیا۔ پیر صاحب جلال میں آگئے اور کہنے لگے: مزید دس جوتے مارو۔ میں نے ان آڑی ترچھی لکیروں پر، جو میرے جوتے مارنے سے زیادہ آڑی ترچھی ہو چکی تھیں، مزید دس جوتے مار دیے۔
مولانا نے پھر پوچھا: درد ختم ہوا؟ تو میں نے انکار میں پھر بڑا سا سر ہلا دیا۔ اب سارے حاجت مند مریدین میری طرف اور مولانا صاحب کی طرف حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ مولانا نے اس بار بڑے جلال سے فرمایا: دس جوتے اور مارو۔ ان کے اس ارشاد کے ساتھ ہی میرے دوست نے آنکھ سے اشارہ کیا کہ اپنے درد کو ٹھیک کر لو، مولانا کی عزت کا سوال ہے۔ میں نے چرمرے ہوئے کاغذ پر دس جوتے اور مارے اور حیرانی سے اپنے منہ پر ایسے ہاتھ رکھ لیا جیسے درد کبھی تھا ہی نہیں۔ آخر کھایا ہوا کھانا بھی تو حلال کرنا تھا۔
نوٹ: اس واقعہ کو ٹرمپ اور غزہ کے حل کے معاملے سے نہ جوڑا جائے۔