ڈیرہ اسماعیل خان میں پرندوں کے تحفظ اور ان کی رہائش کے لیے ایک منفرد اور تاریخی نوعیت کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کا نام 'چڑیا مینار' ہے۔
یہ مینار پرندوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ اور گھونسلہ بنانے کا مقام فراہم کرنے کے لیے تعمیر کیا گیا ہے، تاکہ شہروں میں بڑھتی ہوئی ماحولیات اور درختوں کی کمی کے باعث پرندوں کو درپیش مشکلات کا حل نکالا جا سکے۔اس 'چڑیا مینار' کی تعمیر میں قدیم اور روایتی طریقہ کار اپنایا گیا ہے، جس میں مٹی اور لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ مواد اس علاقے کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں اور قدرتی طور پر ماحول دوست بھی ہیں۔ محکمہ جنگلات کی جانب سے شہر کے مرکز میں قریشی مور کے قریب یہ ٹاور تعمیر کیا گیا ہے، جو نہ صرف ایک عملی اقدام ہے بلکہ ایک تعلیمی اور شعور بیدار کرنے والی علامت بھی ہے۔رکن قومی اسمبلی فیصل امین گنڈاپور کے مطابق، اس منصوبے کا آئیڈیا ایران میں دیکھنے کو ملا، جہاں کبوتروں کے ٹاورز یا ’کبوتروں کے خانے‘ تاریخی اور ثقافتی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایران میں یہ ٹاورز کم از کم پچھلے 800 سال سے موجود ہیں، اور ان کا استعمال کبوتروں کی رہائش اور خوراک کے لیے ہوتا ہے۔ یہ ٹاورز قدیم زمانے میں کھاد کے طور پر استعمال ہونے والے کبوتروں کے فضلے جمع کرنے کے لیے بنائے گئے تھے، جس سے زراعت کو فائدہ ہوتا تھا۔اس منفرد 'چڑیا مینار' کی اونچائی تقریباً 32 فٹ ہے، اور یہ پرندوں جیسے چڑیاں، طوطے، کبوتر اور فاختائیں کے لیے رہائش فراہم کرے گا۔
یہاں پرندے خوراک کے لیے گندم اور باجرہ تلاش کر سکتے ہیں، جس سے ان کی ہجرت اور رہائش میں مدد ملے گی۔ اس اقدام کا مقصد شہروں میں پرندوں کی ہجرت کو روکنا اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے، تو اس کے بعد مختلف شہروں میں مزید دو ایسے ٹاورز تعمیر کرنے کا ارادہ ہے تاکہ شہر کے ماحول میں رہنے والے پرندوں کو مناسب رہائش اور خوراک فراہم کی جا سکے۔ اس طرح، یہ منصوبہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور شہری زندگی میں حیاتیاتی تنوع کو بڑھانے کے لیے ایک مثبت اور دیرپا قدم ثابت ہوگا۔تاریخی طور پر، ایران میں ایسے ٹاورز کو ’کبوتر خانہ‘ کہا جاتا ہے، اور ان کی تاریخ کم از کم 800 سال پرانی ہے۔ ابن بطوطہ جیسے مشہور مسافر نے بھی ان کبوتروں کے ٹاورز کا ذکر اپنی سفرناموں میں کیا ہے۔ تیمور لنگ نے اپنے دارالحکومت بخارا میں بھی ایسے ڈھانچے تعمیر کرنے کے احکامات دیے تھے، جن سے اس قدیم روایت کی اہمیت اور تاریخی ورثہ کا اندازہ ہوتا ہے۔ یوں، یہ 'چڑیا مینار' نہ صرف ایک جدید ماحولیاتی اقدام ہے بلکہ ایک ثقافتی اور تاریخی ورثہ کو زندہ رکھنے کا بھی ذریعہ ہے۔