گریٹ ہال آف دی پیپلز میں ٹرمپ کا تاریخی استقبال، امریکی و چینی صدور کے درمیان ملاقات

گریٹ ہال آف دی پیپلز میں ٹرمپ کا تاریخی استقبال، امریکی و چینی صدور کے درمیان ملاقات

چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپلز میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، عالمی استحکام، تجارت اور خطے میں جاری کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ چین کے موقع پر ان کا گریٹ ہال کے باہر پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں انہیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا، اس کے بعد چینی صدر نے اپنے کابینہ اراکین کا تعارف کرایا اور دونوں وفود ملاقات کے لیے ہال کے اندر منتقل ہوئے۔ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا کو درپیش تمام بڑے بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ چین اور امریکا کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار سمجھنا چاہیے، کیونکہ دونوں ممالک عالمی استحکام کے لیے مشترکہ ذمہ داری رکھتے ہیں۔چینی صدر نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور ایران تنازع، توانائی کے بحران اور عالمی سپلائی چین جیسے مسائل پوری دنیا کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق بڑی طاقتوں کو ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

شی جن پنگ نے مزید کہا کہ اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات زیادہ ہیں اور مستحکم چین امریکا تعلقات پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو پرامن بقائے باہمی اور باہمی احترام کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کو اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اور چینی صدر کے تعلقات ہمیشہ بہترین رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے اور ان کا دورہ اسی مقصد کے لیے ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس دورے پر معروف کاروباری شخصیات کو بھی ساتھ لائے ہیں تاکہ سرمایہ کاری اور تجارت کے نئے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں بھی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا گیا ہے اور مستقبل میں بھی تعاون جاری رہے گا۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ چین اور امریکا کے تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ عالمی امن، تجارت اور معاشی استحکام کے لیے بھی اہم کردار ادا کریں گے۔