راولپنڈی: پاکستان کے مڈل آرڈر بیٹر سلمان علی آغا نے سری لنکا کے خلاف سہ ملکی ون ڈے سیریز کے افتتاحی میچ میں شاندار سنچری بنا کر انٹرنیشنل کرکٹ میں یادگار واپسی کی۔
ان کی 107 رنز کی اننگز کے ساتھ منفرد انداز میں جشن منانے نے بھی شائقین کی توجہ حاصل کی، جس کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق، سلمان علی آغا نے 18 اکتوبر 2026 کو راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں 90 گیندوں پر 107 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں 10 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ اس کارکردگی کی بدولت پاکستان نے 305 رنز بنائے اور بعد ازاں سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دے دی۔
منفرد جشن، مداحوں میں بحث شروع
سنچری مکمل کرنے کے بعد سلمان علی آغا کے جشن کے انداز نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی۔ بعض شائقین نے خیال ظاہر کیا کہ شاید وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی کپتانی سے محرومی اور ٹیسٹ اسکواڈ سے باہر ہونے کے بعد اپنے ناقدین کو جواب دے رہے ہیں۔تاہم، سلمان کے جشن کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس میں اسے ان کے بیٹے سے بھی جوڑا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا ٹیلی ویژن پر کرکٹ دیکھتے ہوئے اسی انداز میں خوشی کا اظہار کرتا ہے، اس لیے انہوں نے بھی سنچری کے بعد ایسا ہی کیا۔دوسری جانب، میچ کے بعد گفتگو میں سلمان نے کرکٹ سے اپنی محبت اور پاکستان کی نمائندگی کو اپنی توجہ کا مرکز قرار دیا۔ اس لیے ان کے جشن کو صرف ناقدین کے لیے پیغام سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
82 گیندوں پر چوتھی ون ڈے سنچری
سلمان علی آغا نے سری لنکا کے خلاف اپنی سنچری صرف 82 گیندوں پر مکمل کی۔ یہ ان کے ون ڈے کیریئر کی چوتھی سنچری تھی اور دستیاب رپورٹس کے مطابق ان کی تیز ترین ون ڈے سنچری بھی ہے۔ان کی ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ نے اس وقت پاکستان کو سہارا دیا جب ٹیم ابتدائی وکٹیں گنوانے کے بعد ایک بڑے اسکور کی جانب بڑھنے کے لیے جدوجہد کر رہی تھی۔ سلمان نے دیگر بیٹرز کے ساتھ مل کر اننگز کو سنبھالا اور پاکستان کو 300 رنز سے زیادہ کا مجموعہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کپتانی سے محرومی اور ٹیسٹ اسکواڈ سے باہر ہونے کے بعد واپسی
سلمان علی آغا کی یہ اننگز ایسے وقت میں سامنے آئی جب حالیہ ہفتوں کے دوران انہیں ٹیم میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اکتوبر 2026 میں انہیں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی کپتانی سے ہٹا کر صاحبزادہ فرحان کو قیادت سونپی، جبکہ انہیں آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے اسکواڈ میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔اس سے قبل انگلینڈ کے دورے کے دوران انہیں ٹیسٹ ٹیم سے بھی واپس بلایا گیا تھا۔ ان حالات کے بعد سری لنکا کے خلاف سنچری ان کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنی صلاحیتیں دوبارہ منوانے کا اہم موقع ثابت ہوئی۔
ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی بڑی اننگز
انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی سے پہلے سلمان علی آغا نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی اپنی بیٹنگ کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، انہوں نے پریذیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون کے ایک میچ میں ناقابلِ شکست 300 رنز بنائے، جس سے ان کی بڑی اننگز کھیلنے کی صلاحیت ایک مرتبہ پھر نمایاں ہوئی۔
پاکستان کی فتح میں فیصلہ کن کردار
سلمان کی سنچری کے بعد پاکستان نے 305 رنز کا ہدف دفاع کرتے ہوئے سری لنکا کو 268 رنز پر آؤٹ کردیا اور میچ 37 رنز سے جیت لیا۔ پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے تین جبکہ نسیم شاہ، حارث رؤف اور فہیم اشرف نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔ سلمان علی آغا کو ان کی شاندار بیٹنگ پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ سلمان علی آغا کی سنچری نے جہاں پاکستان کو سہ ملکی سیریز میں فاتحانہ آغاز دلایا، وہیں ان کے منفرد جشن نے بھی شائقین کی دلچسپی بڑھا دی۔ ان کی وضاحت کے مطابق جشن کو بیٹے سے منسوب کیا گیا، جبکہ ان کی بیٹنگ نے میدان میں ان کی کارکردگی کو نمایاں کردیا۔