کراچی: پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف جوڑی عروسہ قریشی اور بلال قریشی کے درمیان ممکنہ علیحدگی سے متعلق افواہیں سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہیں، تاہم دونوں فنکاروں کی جانب سے تاحال طلاق یا علیحدگی کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں اس وقت شروع ہوئیں جب عروسہ قریشی نے انسٹاگرام پر بے وفائی اور ازدواجی تعلقات سے متعلق چند مبہم پوسٹس شیئر کیں۔ ان پوسٹس کے بعد مداحوں نے ان کے پیغامات کو ان کی نجی زندگی سے جوڑنا شروع کردیا۔
عروسہ قریشی کی پوسٹس نے توجہ حاصل کرلی
عروسہ قریشی کی جانب سے شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’’بے وفائی غلطی نہیں بلکہ ایک انتخاب ہے۔‘‘ اس کے علاوہ بعض پوسٹس میں ایسے مردوں پر تنقید کی گئی جو اپنی بیویوں کے بجائے دوسری خواتین میں دلچسپی لیتے ہیں۔ان پیغامات کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے مختلف اندازے لگانا شروع کردیے۔ تاہم، عروسہ قریشی نے ان پوسٹس میں کسی کا نام لے کر اپنے ازدواجی تعلقات کے حوالے سے کوئی واضح بیان نہیں دیا۔
انسٹاگرام پر اَن فالو کرنے کا معاملہ بھی زیرِ بحث
معاملے کو مزید توجہ اس وقت ملی جب سوشل میڈیا صارفین نے نشاندہی کی کہ عروسہ قریشی نے انسٹاگرام پر بلال قریشی کو اَن فالو کردیا ہے، جبکہ فراہم کردہ معلومات کے مطابق بلال اب بھی انہیں فالو کر رہے ہیں۔اس پیش رفت کو بعض صارفین نے ممکنہ ازدواجی اختلافات سے جوڑا، لیکن سوشل میڈیا پر اَن فالو کرنے یا مبہم پوسٹس شیئر کرنے سے کسی جوڑے کی علیحدگی ثابت نہیں ہوتی۔
مداحوں کی جانب سے تشویش کا اظہار
عروسہ اور بلال کی جوڑی کو پسند کرنے والے مداحوں نے ان افواہوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بعض صارفین نے امید ظاہر کی کہ دونوں کے درمیان سب کچھ ٹھیک ہو اور یہ قیاس آرائیاں حقیقت پر مبنی نہ ہوں۔تاہم، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے تبصروں اور قیاس آرائیوں کو دونوں فنکاروں کے نجی تعلقات کی حتمی صورتِ حال نہیں سمجھا جاسکتا۔
عروسہ اور بلال کی شادی کو 11 سال سے زائد عرصہ گزر چکا
عروسہ قریشی اور بلال قریشی نے 14 فروری 2015 کو شادی کی تھی۔ دونوں کے دو بیٹے ہیں اور وہ پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف جوڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
تاحال علیحدگی کی تصدیق نہیں ہوئیعروسہ قریشی اور بلال قریشی، دونوں کی جانب سے اب تک طلاق یا علیحدگی کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ اس لیے فی الحال اس معاملے کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ افواہوں اور قیاس آرائیوں کے تناظر میں ہی دیکھا جانا چاہیے۔