ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق حالیہ چار روز کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور پر تقریباً 2 کھرب ایرانی ریال خریدے گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی ممکنہ معاشی اور کرنسی تبدیلیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ان کے مطابق ابتدائی دن میں ہی بڑی سطح پر خریداری دیکھی گئی تھی، جب پہلے روز تقریباً 40 ارب ریال کی خریداری رپورٹ ہوئی۔ بعد ازاں آنے والے دنوں میں یہ سرگرمی مزید بڑھتی گئی اور مجموعی حجم کھربوں تک پہنچ گیا۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایرانی ریال کی طلب میں اضافے کے ساتھ اس کی قیمت میں بھی اتار چڑھاؤ اور مجموعی طور پر بڑھتی ہوئی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے، جس کی ایک وجہ علاقائی سیاسی صورتحال اور ممکنہ معاشی توقعات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں کرنسی مارکیٹ اکثر قیاس آرائیوں (speculation) سے بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے طلب وقتی طور پر بڑھ سکتی ہے، تاہم طویل المدتی رجحان کا انحصار حقیقی معاشی پالیسیوں اور علاقائی استحکام پر ہوتا ہے۔