ندیم ملک
صوبہ پنجاب کی سڑکیں آج محض گاڑیوں کی بھیڑ نہیں بلکہ ایک عجیب مظاہرہ ہیں قانون کی پکڑ، ٹارگٹ کی دوڑ، اور شہریوں کی روزمرہ مزاحمت۔ لاہور، فیصل آباد، نارووال راولپنڈی اور ملتان سمیت ہر بڑے شہر میں ایک ہی منظر ہے تجاوزات نے سڑکیں نگل لی ہیں، ٹوٹے سگنلز نے راستوں کو معمّا بنا دیا ہے، پارکنگ کا فقدان شہریوں کو پریشان کر رہا ہے، اور پبلک ٹرانسپورٹ تقریباً ایک خواب بن چکی ہے۔
شہر کے چوراہوں پر اہلکار کھڑے ہیں، ہاتھ میں چالان بْک، آنکھوں میں ٹارگٹ پورا کرنے کا جذبہ، اور شہری قطار میں کھڑے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ٹریفک کا اصل مقصد شہری کو نظم میں لانا نہیں بلکہ ماہانہ ٹارگٹ کی تکمیل ہے۔ اگر کسی نے سگنل توڑا یا ہیلمٹ نہیں پہنا، تو اہلکار فوراً موجود، مگر اگر کسی بڑے کاروباری مرکز کے سامنے تجاوزات ہیں یا مہنگی گاڑی غلط جگہ کھڑی ہے، تو آنکھیں بند یہی وہ منظر ہے جس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بارہا چیخ چیخ کر کہہ چکی ہیں شہریوں کو عزت و تکریم کے ساتھ پکارا جائے۔ لیکن یہاں سڑکوں پر بدتمیزی، ڈانٹ ڈپٹ اور سخت لہجے معمول بن چکے ہیں۔ شاید اہلکار سمجھ بیٹھے ہیں کہ قانون کی تعریف صرف چالان کی تعداد سے ہوتی ہے، اور شہری صرف ہدف پورا کرنے کی مشین ہیں
مغربی مفکرین، قانون دان اور صحافی ہمیں صدیوں سے یہ سکھا چکے ہیں کہ قانون کی پاسداری خوف سے نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔ یونانی فلسفی Aristotle فرماتے ہیں: ‘‘At his best, man is the noblest of all animals; separated from law and justice he is the worst.’’ یعنی انسان سب سے شریف مخلوق ہے، مگر اگر قانون اور انصاف سے جدا ہو جائے تو سب سے بدترین بن جاتا ہے۔
اسی تناظر میں دیکھا جائے تو پنجاب کی سڑکیں ایک عجیب تضاد پیش کرتی ہیں: قانون ہے، لیکن انصاف کی کمی ہے؛ عملداری ہے، مگر مساوات نہیں؛ سختی ہے، مگر وقار نہیں۔ برطانوی قانون دان A. V. Dicey کے مطابق قانون کی حکمرانی کا مطلب ہے کہ سب اس کے تابع ہوں، چاہے وہ حکمران ہوں یا عام شہری۔ یہاں تو بظاہر قانون کا اصل مقصد صرف کمزور کو سزا دینا اور اہلکار کا ٹارگٹ پورا کرنا ہے۔
امریکی صدر Thomas Jefferson نے کہا تھا: ‘‘When injustice becomes law, resistance becomes duty.’’ یعنی جب ناانصافی قانون بن جائے، تو شہریوں کی مزاحمت فرض بن جاتی ہے۔ یہی وہ مزاحمت ہے جو آج سڑکوں پر شہری خاموشی سے کر رہے ہیں: سگنل توڑیں، لائن توڑیں، مگر دل میں اعتراض رکھتے ہیں۔ اور اہلکار ہر بار ٹارگٹ پورا کرنے کے بہانے سختی دکھاتے ہیں
صحافت کے میدان میں George Orwell فرماتے ہیں: ‘‘Journalism is printing what someone else does not want printed; everything else is public relations.’’ آج سڑکوں پر جو ہو رہا ہے، وہ عوام کی خاموش مزاحمت، اہلکاروں کی ٹارگٹ کی دوڑ اور شہریوں کی عزت کے لیے جدوجہد کی کہانی ہے، جسے بیان کرنا صحافت کی ذمہ داری ہے
یہ مزاحمت طنز بھی پیدا کرتی ہے۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ اہلکار چالان کی دوڑ میں خود بھی بھٹک گئے ہیں۔ ایک طرف شہری ہیں جو سگنل کا انتظار کرتے ہیں، دوسری طرف اہلکار ہیں جو انتظار کو جرم سمجھتے ہیں۔ شہری خاموشی سے کہتے ہیں: ‘‘یہ قانون نہیں، یہ ٹارگٹ کا کھیل ہے!’’ اور اہلکار جواب دیتے ہیں: ‘‘ہم اپنا ہدف پورا کریں گے، پھر دیکھیں!’’
اصل بات یہ ہے کہ پنجاب میں ٹریفک کی بہتری صرف جرمانے سے ممکن نہیں۔ بنیادی ڈھانچے میں اصلاح، تجاوزات کا خاتمہ، فعال سگنلز، منظم پارکنگ، اور بااعتماد پبلک ٹرانسپورٹ ناگزیر ہیں۔ چالان صرف آخری حل ہونا چاہیے، پہلا نہیں قانون کی طاقت اس کی مساوات اور اخلاقی جواز میں ہے، نہ کہ صرف سختی میں۔
مزاحمت کا مطلب انتشار نہیں، بلکہ اصلاح کا مطالبہ ہے شہری جب سوال اٹھاتے ہیں تو وہ قانون کے مخالف نہیں، بلکہ انصاف کے متلاشی ہوتے ہیں۔ اگر ایک مزدور دن بھر کی کمائی کا حصہ جرمانے میں دے اور ساتھ بدتمیزی بھی سہے تو وہ قانون کو اپنا دشمن سمجھے گا، نہ کہ محافظ۔ لیکن اگر وہ دیکھے کہ بااثر افراد بھی قانون کے تابع ہیں، تجاوزات ختم ہو رہی ہیں، سڑکیں محفوظ ہیں، تب وہ خود قانون کا محافظ بن جائے گا مگر یہاں جابجا طنز بھی نظر آتا ہے: ایک طرف وزیراعلیٰ مریم نواز بار بار شہریوں کو عزت و تکریم کے ساتھ پکارنے کا حکم دیتی ہیں، دوسری طرف سڑکوں پر اہلکار ٹارگٹ پورا کرنے کے بہانے شہریوں کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں۔ شاید اہلکار سمجھتے ہیں کہ طاقت کا مظاہرہ قانون ہے، لیکن مغربی مفکرین کا سبق یہی ہے کہ قانون کا احترام انصاف اور مساوات کے بغیر ممکن نہیں۔
ٹریفک کا بحران صرف گاڑیوں کی بھیڑ نہیں بلکہ شہری اور ریاست کے باہمی تعلق، اعتماد اور احترام کا امتحان ہے۔ آج پنجاب کی سڑکیں دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ انتظامیہ نے قانون کو ڈنڈے کا نام دے دیا اور شہری کو کھیلنے والی چیز سمجھ لیا۔ اگر اصلاح حقیقی معنوں میں ممکن ہے تو ضروری ہے کہ ریاست سب کے لیے یکساں، اخلاقی اور مؤثر ہو ٹریفک نظم و ضبط کا اصل مقصد صرف گاڑیاں نہیں بلکہ اعتماد، تحفظ اور شہری وقار ہے۔ جب شہری محسوس کریں گے کہ ریاست ان کی جان، عزت اور وقار کی حفاظت کر رہی ہے، تب ہی وہ قوانین کی پاسداری کریں گے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر عمل درآمد سے پنجاب کی سڑکیں محفوظ، منظم اور شہری دوست بن سکتی ہیں۔ اور تب شاید اہلکار بھی محسوس کریں کہ ٹارگٹ پورا کرنا مقصد نہیں، خدمت کرنا مقصد ہے
نبی کریم ? نے قانون اور انصاف کے بارے میں کئی ارشادات دیے ہیں جو آج بھی عدل و انصاف کے اصول کے لیے رہنما ہیں۔ ایک اہم ارشاد یہ ہے:
ال?مْس?لِمْونَ عَلَ? شْرْوطِ?ِم?
ترجمہ: مسلمان اپنے وعدوں اور شرطوں کے پابند ہیں۔
اسی طرح ایک اور اہم حدیث ہے:
اَل?مْس?لِمْ مَن? سَلِمَ ال?مْس?لِمْونَ مِن? لِسَانِ?ِ وَ?َدِ?ِ
ترجمہ: مسلمان وہ ہے جس سے دوسرے مسلمان زبان اور ہاتھ سے محفوظ ہوں۔
یہ دونوں ارشادات قانون اور سماجی انصاف کے بنیادی اصولوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں: وعدہ خلافی، دھوکہ دہی، ظلم اور دوسروں کے حقوق کی پامالی قانون کے تحت ممنوع اور ناپسندیدہ ہیں