82 فیصد صارفین کاخریداری میں مدد کیلئے اے آئی کا استعمال

 ڈیجیٹل تجارت، آن لائن شاپنگ اور فراڈ سے متعلق رویوں اور آگاہی کا جائزہ لیا گیا
اسلام آباد (آئی این پی )پاکستان میں 82 فیصد صارفین خریداری میں مدد  کیلئے  مصنوعی ذہانت(اے آئی) کا استعمال کر تے ہیں۔ یہ انکشاف  ویک فیلڈ ریسرچ کی جانب سے کی جانے والی ویزا کی اسٹے سیکیور اسٹڈی 2025 میں   کیا گیا  ہے ۔رپورٹ کے مطابق  کہ پاکستانی صارفین کی خریداری میں مصنوعی ذہانت(اے آئی ) کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اور صارفین قیمتوں کا موازنہ، اشیا پر صارفین کی رائے اور تحائف کے آئیڈیاز حاصل کرنے کے لئے  اے آئی کا ٹول استعمال کر رہے ہیں۔ویزا   نے پاکستان میں اپنی سالانہ Stay Secure رپورٹ جاری کرتے ہوئے ڈیجیٹل تجارت، آن لائن شاپنگ اور فراڈ سے متعلق صارفین کے رویوں اور آگاہی کا جائزہ لیا ہے۔  ویک فیلڈ ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 82 فی صد صارفین خریداری کے دوران  اے آئی  ٹولز استعمال کر چکے ہیں۔رپورٹ  کے مطابق56 فی صد نے قیمتوں کا موازنہ کرنے  ، 53 فی صد نے مصنوعات کے ریویوز اور ریٹنگز جانچنے کے لئے، اور 47 فی صد نے تحائف (گفٹ آئیڈیاز)  تلاش کرنے کے لئے کیا۔اے آئی اور آن لائن شاپنگ کے تجربے کے حوالے سے 93 فی صد صارفین کا خیال ہے کہ اے آئی سمیت نئی ٹیکنالوجیز نے آن لائن خریداری کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز اور آسان بنا دیا ہے۔ 55 فی صد صارفین آن لائن خریداری کے دوران نئی برانڈز یا ریٹیلرز دریافت کرتے ہیں۔پاکستانی صارفین مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر کس حد تک اعتماد کرتے ہیں؟ معلوم ہوا کہ اگرچہ صارفین خریداری میں اے آئی سے مدد لیتے ہیں لیکن لین دین مکمل کرنے کے معاملے میں اعتماد کم ہے، صرف 42 فی صد صارفین اے آئی ایجنٹس پر اعتماد کرتے ہیں کہ وہ ان کی جانب سے چیک آٹ یا خریداری کا عمل مکمل کریں