سیدہ کرن فاطمہ
جب ہم کسی قوم کی ترقی، تہذیب اور فکری بلوغت پر گفتگو کرتے ہیں تو سب سے پہلا حوالہ تعلیم ہی بنتا ہے۔ تعلیم وہ سنگِ بنیاد ہے جس پر ایک باوقار، مہذب اور متمدن معاشرہ استوار ہوتا ہے۔ لیکن اگر اسی تعلیم میں صنفی تفریق گھل مل جائے اور معاشرہ اپنی بیٹیوں کو شعور کی روشنی سے محروم رکھے تو یہ عمل گویا اپنے وجود کے نصف حصے کو تاریکی کے غار میں دھکیل دینے کے مترادف ہے۔ لڑکی کی تعلیم کا تکمیل پذیر ہونا محض ایک فرد کی فلاح کا استعارہ نہیں بلکہ پوری قوم کی بیداری اور سرفرازی کا پیش خیمہ ہے۔
ہمارے یہاں اکثر والدین بیٹوں کی تعلیم کو اولین اور بیٹیوں کی تعلیم کو ثانوی درجے پر رکھتے ہیں۔ ان کے اذہان میں عورت کا کردار محض گھر سنبھالنے، بچوں کی پرورش اور شوہر کی دلجوئی تک محدود ہے۔ جیسے ہی یہ مفروضہ قائم ہو جائے کہ عورت کی دنیا صرف چار دیواری میں مقید ہے، تعلیم کو غیر ضروری قرار دینا آسان ہو جاتا ہے۔ مگر یہ نظریہ نہایت پست اور گمراہ کن ہے جس نے ہماری اجتماعی ذہنیت کو جمود کا شکار کر رکھا ہے۔
ایک لڑکی جب اپنی تعلیم کو بہ حسنِ خوبی مکمل کر لیتی ہے تو وہ صرف درسی علوم تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ اعتمادِ ذات، عزتِ نفس، معاشرتی شعور، قانونی آگہی، اخلاقی اقدار اور زندگی کی باریکیوں کو سمجھنے کا سلیقہ بھی سیکھ لیتی ہے۔ تعلیم یافتہ لڑکی اپنی زندگی کے فیصلے اپنی بصیرت سے کر سکتی ہے اور اپنے مستقبل کی سمت متعین کر کے ایک فعال شہری کے طور پر معاشرے میں اپنا مقام پیدا کر سکتی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے دیہی علاقوں میں آج بھی لڑکیوں کی تعلیم کو لاحاصل سمجھا جاتا ہے۔ غربت، سماجی دباو?، فرسودہ رسوم، ونی اور کاروکاری جیسے رواج، کم عمری کی شادی، تعلیمی اداروں کا فقدان اور پدرسری نظام کی گرفت لڑکی کے تعلیمی سفر کے لیے سدِ راہ بنے ہوئے ہیں۔ پھر اکثر والدین لڑکیوں کو محض ابتدائی تعلیم دلا کر یہ فرض ادا سمجھ لیتے ہیں اور جیسے ہی وہ سنِ بلوغت کو پہنچتی ہیں، تعلیم کو پسِ پشت ڈال کر شادی کو اولین ترجیح دے دیتے ہیں۔
لیکن ایک لڑکی جب اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہوتی ہے تو وہ معاشی طور پر خود کفیل بن کر ابھرتی ہے۔ اس کی شناخت کسی کی بیوی یا ماں ہونے تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ استاد، معالج، وکیل، انجینئر یا ایک رول ماڈل کے طور پر نسلِ نو کے لیے منبعِ تحریک بن جاتی ہے۔
تعلیم یافتہ عورت اپنی عزت و وقار کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی ظلم اور استحصال کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ وہ دنیا کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ رہتی ہے اور معاشرتی و معاشی میدانوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں خواتین تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابیاں سمیٹ چکی ہیں اور ریاستی سطح پر کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ پاکستان میں بھی ملالہ یوسفزئی، ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور بے شمار دیگر خواتین ایسی ہیں جنہوں نے تعلیم کے ذریعے اپنی ذات اور قوم کو روشنی عطا کی۔
اسلام نے بھی عورت کی تعلیم کی پْرزور حمایت کی ہے۔ رسول اللہ کا ارشاد گرامی ہے: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔"
یہ حدیث اس امر کی صریح دلیل ہے کہ علم کا دروازہ مرد و زن دونوں کے لیے یکساں کھلا ہے۔ عورت کی راہ میں رکاوٹیں معاشرتی ہیں، نہ کہ دینی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، حکومت، اساتذہ اور مذہبی رہنما مل کر لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دیں۔ دیہی علاقوں میں تعلیمی اداروں کا قیام، اسکالرشپس اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تاکہ ہر بچی اپنی تعلیم مکمل کر سکے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ تعلیم یافتہ خواتین کو بطور رول ماڈل پیش کرے، نہ کہ محض گلیمر اور تفریح تک محدود رکھے۔
یاد رکھیے! لڑکی کی تعلیم کا مکمل ہونا ایک خاندان، ایک نسل اور ایک قوم کی ذہنی و اخلاقی آبیاری ہے۔ یہ عمل صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ پوری ملت کی بیداری کی ضمانت ہے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کے خوابوں کی تکمیل کے لیے ان کا دست و بازو بننا ہوگا۔
تعلیم یافتہ بیٹی محض ماں یا بیوی نہیں، بلکہ ایک مکمل انسان ہے۔ اور جب وہ تعلیم کے سنگھاسن پر جلوہ افروز ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک قوم، ایک نظریہ اور ایک روشن مستقبل بھی تشکیل پاتا ہے۔