ویب ڈیسک: پنجاب کے مختلف اضلاع میں مون سون کی شدید بارشوں نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا۔
جہلم، چکوال، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، اسلام آباد سمیت کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال، مکانوں کی چھتیں گرنے اور ندی نالوں کے بپھرنے سے اب تک درجنوں افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
جہلم اور چکوال میں سیلابی صورتحال، 40 افراد ہیلی کاپٹر سے ریسکیو
جہلم کے علاقے ڈھوک بدر میں ندی کے ریلے میں پھنسے 40 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کر لیا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق متاثرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔چکوال میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں ہونے والی ریکارڈ بارش کے بعد کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، اور سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ڈھوک مستانی، پادشہان اور دیگر علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا،شہری محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔کھیوال میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص اور ایک بچہ جاں بحق، جبکہ خاتون اور ایک بیٹی زخمی ہوئیں۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بلال بن حفیظ کے مطابق ضلع میں 370 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جس سے ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ سول انتظامیہ اور ریسکیو ادارے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ سپیشل فورسز کی معاونت بھی طلب کر لی گئی ہے۔
پنجاب بھر میں بارش اور آندھی سے ہلاکتیں
صوبے بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں اور آندھی سے متعلق حادثات میں کم از کم 33 افراد جاں بحق اور 176 زخمی ہوئے۔
لاہور: 13 افراد ہلاک
فیصل آباد: 8 افراد جاں بحق
پاکپتن، شیخوپورہ، اوکاڑہ: 3، 3 افراد
ننکانہ صاحب، ساہیوال: 1، 1 شخص جاں بحق
مزید یہ کہ چھتیں، دیواریں گرنے اور کرنٹ لگنے کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
اسلام آباد و راولپنڈی: نالہ لئی خطرے کی سطح پر
اسلام آباد اور راولپنڈی میں رات سے اب تک 175 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے نالہ لئی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے۔
کٹاریاں پل: پانی کی سطح 16 فٹ
گوالمنڈی: پانی کی سطح 15.4 فٹ
نالہ لئی کے اطراف کے علاقوں گوالمنڈی، نیو کٹاریاں، پیرودھائی میں پانی گھروں میں داخل ہو چکا ہے۔ واسا، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور دیگر ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ایمرجنسی کی صورت میں پاک فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ٹرپل ون بریگیڈ سے بھی رابطہ کیا جا چکا ہے۔
سب سے زیادہ بارش چکوال میں
پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق حالیہ بارشوں کے دوران:
چکوال: 423 ملی میٹر
کلرکہار، وہالی زیر: 325 ملی میٹر
چوآسیدن شاہ: 310 ملی میٹر
راولپنڈی، اسلام آباد: 175 ملی میٹر
چکوال میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی، جس نے کلاؤڈ برسٹ کی صورت اختیار کی، نتیجتاً درجنوں دیہات متاثر، سیلابی پانی آبادیوں میں داخل، اور لوگ بے گھر ہو گئے۔
ریسکیو سرگرمیاں اور شہریوں کو الرٹ
ریسکیو ادارے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں، جبکہ نکاسی آب اور فوری امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ نشیبی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں، اور پری الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ترجمان واسا کے مطابق:
"بارش کے مکمل رکنے کے بعد نکاسی آب کا آپریشن تیز کیا جائے گا۔"