قاسم علی
لاہور میں جمعرات کے روز پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے پسِ پردہ حقائق جاننے کے لیے ہمیں چند سال پیچھے جانا ہوگا۔ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے باپ اور بیٹے کے اس راستے پر جانے کی کہانی، اس کے مبینہ محرکات اور ان کرداروں کو سمجھنا ہوگا جنہوں نے اس پورے معاملے میں اہم کردار ادا کیا۔اس کہانی کا ایک اہم کردار فیضان بٹ تھا۔ ذرائع کے مطابق فیضان بٹ ایک سول سیکیورٹی ادارے کے لیے گلی محلوں میں مخبری کرتا تھا اور اس کے عوض اسے معاوضہ بھی ملتا تھا۔ تاہم جب مخبری کی ضرورت ختم ہوئی تو مبینہ طور پر اس کا معاوضہ بھی بند ہوگیا۔ فیضان بٹ اس اہلکار سے کام اور رقم کا مطالبہ کرتا رہا، جس کے بعد اسے ایک مقدمے میں جیل بھیج دیا گیا۔ذرائع کے مطابق جیل میں فیضان بٹ کا رابطہ عبدالرؤف گجر سے ہوا۔ عبدالرؤف گجر پر ماضی میں اہم شخصیات کے قتل سمیت ٹارگٹ کلنگ کے متعدد مقدمات میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تفتیشی حکام کے مطابق اسے شاکر رضوی، شمس الرحمان معاویہ، علامہ ناصر عباس سمیت 21 افراد کے قتل کے مقدمات سے جوڑا گیا تھا۔ تاہم ان الزامات کے باوجود عبدالرؤف گجر کو آج تک ان مقدمات میں سزا ملنے کی تصدیق سامنے نہیں آتی۔جیل میں مبینہ طور پر فیضان بٹ اور عبدالرؤف گجر کے درمیان معاملات طے ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق فیضان بٹ کی ضمانت کے لیے تقریباً چھ لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جس کے بعد وہ جیل سے باہر آگیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رہائی کے بعد فیضان بٹ کی زندگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا اور وہ مبینہ طور پر ایک کالعدم تنظیم کے رابطے میں آیا، جہاں اسے تربیت اور ذہنی طور پر تیار کیے جانے کے بعد لاہور میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا ٹاسک دیا گیا۔تفتیشی ریکارڈ کے مطابق فیضان بٹ نے مبینہ طور پر اس ٹاسک پر عمل درآمد شروع کیا۔ اس کی فائرنگ سے تین پولیس اہلکار شہید جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا۔ مسلسل حملوں کے بعد آف ڈیوٹی پولیس اہلکاروں کے لیے یونیفارم نہ پہننے کا ایس او پی بھی جاری کیا گیا۔چند روز بعد سی ٹی ڈی نے ڈیفنس کی الفلاح کالونی میں کارروائی کرتے ہوئے فیضان بٹ کو گرفتار کیا، تاہم گرفتاری کے تقریباً دس روز بعد وہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ یہ تمام واقعات 2024 کے دوران پیش آئے۔فیضان بٹ کے پولیس مقابلے کے بعد اس کا بھائی ریحان بٹ بھی منظرِ عام پر آیا۔ ذرائع کے مطابق ریحان بٹ نے جمعرات کو شہید ہونے والے سب انسپکٹر عدیل، جو 2024 میں اے ایس آئی کے عہدے پر تعینات تھے، کو مبینہ طور پر دھمکی دی کہ وہ اپنے بھائی کی ہلاکت کا بدلہ لے گا۔ اس دھمکی کے معاملے پر لاہور کے تھانہ شفیق آباد میں ریحان بٹ کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا، تاہم اس کے بعد ایک طویل خاموشی رہی۔یہ خاموشی جمعرات کے روز ایک بار پھر ٹوٹ گئی۔تفتیشی حکام کے مطابق ریحان بٹ نے اپنے والد فیاض بٹ کے ہمراہ لاہور میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ دونوں کے پاس مبینہ طور پر بھاری اسلحہ موجود تھا۔ بادامی باغ سے نکلنے کے بعد وہ نوانکوٹ کے علاقے میں تحریک لبیک کے مرکز کے قریب پہنچے، جہاں فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید جبکہ دو اہلکار اور ایک شہری زخمی ہوئے۔ذرائع کے مطابق ملزمان مختلف مقامات پر کارروائی کے دوران تحریک لبیک سے منسلک نعرے لگاتے بھی دکھائی دیے۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پر ایک کالعدم تنظیم کی جانب سے مبینہ طور پر ان کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے اور ملزمان کو مبارک باد دینے کے پیغامات بھی سامنے آئے۔کارروائی کے دوران ملزمان نے مبینہ طور پر ایل ڈبلیو ایم سی کی گاڑی، اس کے ڈرائیور سمیت، قبضے میں لی اور لاہور سے فرار ہوگئے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کا تعاقب کیا اور دونوں ملزمان شیخوپورہ کے قریب مقابلے میں مارے گئے۔یوں فیضان بٹ سے شروع ہونے والی یہ کہانی ریحان بٹ اور فیاض بٹ تک پہنچی، جس میں جیل، مبینہ انتہاپسند عناصر سے روابط، ٹارگٹ کلنگ کے الزامات، پولیس اہلکاروں کو دھمکیاں اور بالآخر لاہور میں خونریز کارروائی جیسے واقعات ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دیتے ہیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ فیضان بٹ اور ریحان بٹ جیسے افراد کو اس راستے پر کون لے کر گیا، ان کے رابطے کہاں تھے، انہیں وسائل اور اسلحہ کس نے فراہم کیا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مستقبل میں ایسے نیٹ ورک کا راستہ کیسے روکیں گے؟