غلام علی جاوید
آج صبح جب آفس پہنچا تو پرسکون سے ماحول نے میرا استقبال کیا ۔جیسے جیسے قدم دفتر کی طرف بڑھ رہے تھے ایسے لگ رہا تھا جیسے تسکین کی عکس بندی کی جا رہی ہو۔ جیسے اطمینان کی کلیاں مجھ پر نچھاور کی جا رہی ہوں اور وفائوں کے کارپٹ میرے پائوں تلے ہوں۔پوچھنے پر پتا چلا کہ میرے صاحب ابھی نہیں پہنچے ہیں۔ اس پر دل ذرا اور مچلا ، خوشی کی لہر دوڑی ۔ یہ فطرتی عمل ہے جب انسان سرپرست کی آنکھوںسے اوجھل ہوتا ہے تو ذرا آزادی محسوس کرتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ اسی طرح ہوا۔ اپنے کمرے میں داخل ہوا تو ایک درویش صفت انسان نے اپنے موبائل پر قرآن پاک کی تلاوت لگائی ہوئی تھی جسے سن کر سوچ کی پاکیزگی جلوہ گر ہوئی، یادِ خداکا ربط بندھ گیااور نیت کا غسل ہو گیا۔چند ساعتوں کے بعد وہ صاحب کمرے سے باہر چلے گئے اور اچانک مجھے اپنے ایک جان سے پیارے دوست کا جملہ یاد آگیا۔وہ جملہ اتنا درد ناک تھا کہ اس کے سوچتے ہی میری آنکھوں سے بے اختیارآنسو ٹپک پڑے اوررخسار کی سلطنت سے ہوتے ہوئے زمین سے دامن گیر ہوگئے۔یہ تو نہیں معلوم کہ وہ اشک دیر تلک زمین کے بوسے کیوں لیتے رہے مگر اتنا یقین ہے کہ وہ توحید پرست ضرورتھے۔وہ سجدہ ریز تھے اور دورانِ معبودگی ہی دم توڑ گئے ۔ نجانے اُس دِلرُبا نے ایسا کیوں بولا تھا مگر اُس جملے نے نہ صرف میرا مان توڑا تھا بلکہ میری وفائوں کا جنازہ بھی نکالا تھا۔نگری دل میں کوئی طوفان آیاتھا جس کی وجہ سے گلشن دل کی بہار خزاں میں بدل گئی تھی۔ اُس جملے سے میرے اخلاص کی کرچیاں کرچیاں ہوئی تھیں۔ماضی کی رفاقت کے تقدس پر حرف بھی آیا تھا۔میری نظروں میں میری ہی شخصیت مجروح ہوئی تھی۔تب سے دل کی نگری ماتم کدہ بنی ہوئی تھی۔
میرا دل کہہ رہا ہے کچھ ایسا لکھوں کہ دوست کی ادائوں کے سب منظر نظر آجائیں لیکن عقل سراپا احتجاج ہو گئی ہے کہ ایسانہیں کرنا کیوں کہ اپنوں کے گلے شکوے دوسرے لوگوں کے سامنے نہیں کئے جاتے۔ دوست کی شکایت دراصل اپنی شکایت ہوتی ہے۔ دوست کی غیبت حقیقت میں اپنا حقیر پن ہوتا ہے۔ ویسے بھی ایسے طرزِ عمل سے رشتوں کاتقدس پامال ہوتا ہے، رکھ رکھائو کی ڈور کمزور ہوتی ہے۔وفائوں کا بھرم ٹوٹتا ہے۔اپنائیت رخ بدل لیتی ہے۔اعتمادکی مالا بکھر جاتی ہے۔چاہت کے حسن کو زوال آتا ہے۔ زندگی بھی کیا عجیب شے ہے کہیں نہ کہیں دوبارہ ملا دیتی ہے۔ کچھ غلط بولا ہو یا کیا ہوتو آنکھیں جھک جاتی ہیں۔شرمندگی پلٹ پلٹ کے منہ چڑاتی ہے۔کچھ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر قطع تعلقی کر لیتے ہیں ۔ایسا کیوں؟ سالوں کی رفاقت لمحہ بھر میں خاک۔تعلقات کا طویل سفر، شرم و حیا کی لمبی مسافت چند ساعتوں میں دفن کیوں؟رشتے کوئی روز بنتے ہیں؟ اخلاص کوئی بازار میں تھوڑا بکتا ہے۔ ہر کسی کے ساتھ نسبت تھوڑی ہوتی ہے۔ ذرا سا مفادات کو نقصان پہنچے تو راہیں جدا کر لینا کہاں کی عقل مندی ہے ۔ سنا تھا دولت جائے تو جائے مگردوست نہ ناجائے ۔ دولت کی تو قدر نہیں لیکن دوست کی کوئی قیمت نہیں ۔ہاںکچھ انسان سانپ نما ہوتے ہیں جب ان کو موقع ملتا ہے تو ڈس لیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں سے دوبارہ چوٹ نہ کھائیں۔
آپ سوچ رہے ہوں گے وہ جملہ کیا تھا؟ اس میں تلخی کیا تھی؟ کب، کیوں اور کس تناظر میں بولا گیا تھا؟یاد رکھیںجس سے جتنا لگائو ہوتا ہے وہ اُتناہی اہم ہوتا ہے۔ انسان کی وابستگی اُتنی ہی مضبوط ہوتی ہے۔ایسے شخص کی وفائوں، جفائوں، ندائوںاور ادائوں کا احساس بھی شدت بھرا ہوتا ہے۔اس لئے ہلکی سی تلخی بھی کاری ضرب لگتی ہے۔کہتے ہیں دوست کی غلطیوں کے لئے سینے میں ایک قبرستان رکھو جس میں غلطیاں دفن کرتے جائو۔پیشانی پہ بخت کا خمار نہ آئے۔ لب پہ شکوہ یار نہ آئے۔زمانہ بدل جائے، موسم بیت جائیں مگر یاد ِ یار کی تسبیح بندنہ ہو۔ اپنوں کی وفائوں کا قرض اپنے سر رکھو، خودکو رکھ رکھائو کی قید میںبند رکھو ،دوست کے راز فصیلِ بھرم میں ہی رہیں تو بہتر ہوتا ہے۔اور ہاں،رشتوں کی بقاء کے لئے محبت میں ہارنا سیکھو۔