میسور کی رانیاں

نازیہ آصف 
آجکل ملک پاکستان کو چاروں اطراف سے دشمن کے گھیرے میں دیکھ کر ٹیپو سلطان  اور سلطنت میسور یاد آتی ہے۔  
نہیں معلوم آجکل یہاں کتنے  (خدانخواستہ)  بنگال کے میر جعفر، سرنگاپٹم کے میر صادق گھوم رہے ہیں ، کتنی میسور کی رانیاں اپنے دام کھرے کر رہی ہیں اور کتنے پورنیاں ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں۔ جس کی تصدیق کل اسلام آباد کے مضافات سے اڑائے جانے والے ڈرون سے ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایجنسیوں نے اسے فضا میں  ناکارہ کر دیا ورنہ دشمن نے کھیل تو خوب کھیلا تھا۔
دریائے کاویری کی شمالی شاخ سے کوء دو سو گز کے فاصلے پہ سلطان ٹیپو کا محل دریا دولت  واقع تھا۔ سلطان عدل و انصاف اور انتظامی امور سے متعلق فیصلے یہیں بیٹھ کر کرتا تھا یہ دو منزلہ عظیم الشان عمارت تھی دوسری منزل کے کشادہ جھروکے میں جس کے نیچے ایک وسیع ہال تھا یہیں سلطان کی نشست گاہ تھی۔ قصر دریا دولت کی تمام دیواروں اور ستونوں پر طلائی نقوش تھے۔ اب وہاں  چند نہایت ہی معنی خیز تصاویر آویزاں ہیں۔ 
  " بائیں جانب دو تصاویر ہیں اوپر کی تصویر میں حیدر علی کا شاہانہ جلوس دکھایا گیا ہے اور نیچے کی تصویر میں اس سازش کا پورا حال کھولا گیا ہے 
اس تصویر میں سلطان گھوڑے پر سوار ہے سامنے میر صادق آداب بجا لاتا ہوا منہ پھیر کر انگریزی فوج کو اشارہ کر رہا ہے کہ یہی سلطان ہے اس کو شہید کر دیں۔
سلطان کی پشت کی جانب بھی ایک گھڑسوار ہے وہ منہ پھیر کر ہاتھ سے انگریزی فوج کو بتا رہا ہے کہ یہی سلطان ہے ، تیسری طرف ایک ہندو کی تصویر ہے جو یقینا پورنیا ہو گا وہ بھی ایسا اشارہ ہی کر تھا ہے۔ دوسرے امراء￿  وزراء￿  سلطان کا منہ تک رہے ہیں یا انگریزی فوج کی طرف حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔سلطان کے دائیں بازو گھوڑے پر میر قمرالدین کو بوجہ سید ہونے کے سبز لباس میں دکھایا گیا ہے۔
یہ تصویر کرنل آرتھرولزلی نے کھینچواء تھی"۔
                                  (تاریخ سلطنت خدادا میسور)
قارئین !یہ تصویر یہ بات عیاں کرنے کے لیے کافی ہے کہ ریاست میسور وقت شکست و ریخت کس قدر غداروں میں گھر چکی تھی۔ ایک زمانہ تھا جب انگریز تجارت کے بہانے یہاں پاؤں رکھنا چاہتے تھے اب وہ بلاشرکت غیرے ہندوستان کے مالک بن بیٹھے تھے۔
کسی ماہر سیاست کا قول ہے کہ 
" اگر سراج الدولہ کی سلطنت لینی ہو تو میر جعفر پیدا کرو۔اگر ٹیپو سلطان سے لڑنا ہے تو پورنیا و میر صادق، 
 روٹی اپنے ہاتھ میں رکھو ہندوستان کی قومیں آپس میں لڑتے ہوئے کس طرح تمھاری غلام بنے ہوئے رہتی ہیں۔
قارئین ! کء صدیاں پہلے کے ہندوستان کے حالات اور آجکل کی صورتحال میں چنداں فرق نہیں ، آج ہم تقسیم بھی ہیں اور ہمارے بھائی بند دشمن کی صف میں کھڑے بھی نظر آتے ہیں۔ اپنے ملک کے دارالحکومت پہ اپنے ہی ملک سے ڈرون حملے ہو رہے ہیں۔ 
دوسری طرف سوشل میڈیا پہ اصلی اور جعلی اکاؤنٹس سے وطن عزیز اور ہماری افواج پہ ایک یلغار کی جا رہی ہے جو تمام اخلاقی جنگی ضوابط کی حدود و قیود سے بالاتر ہے، 
پچھلے سال ہم نے ہمسایہ ملک ایران کے تمام سرکردہ لیڈران کو چوبیس گھنٹے سے پہلے دشمن کا نشانہ بنتے دیکھا تھا جس کی وجہ ایران میں موجود غداران وقت تھے، جن کا  بعد میں اگرچہ ایران نے کافی حد تک خاتمہ بھی کر دیا تھا مگر ابھی وہ ایرانی حکومت کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔
ہم بھی ہر طرف سے جنگ میں گھرے بلکہ حالت جنگ میں ہیں ہماری افواج دیدہ نادیدہ دشمن سے چومکھی لڑ رہی ہیں۔وہ بھی جنھیں ہم نے چالیس سال تک سینے سے لگائے رکھا ، جن کی دنیا بھر میں وکالت کی ، دانے درمے سخنے مدد کی آج وہ بھی ہمیں للکار رہے ہیں اور وہی ہمارے ملک کی بنیادوں میں بارود بھر رہے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ کہ ایک میٹھی ہو کر میدان جنگ میں ہیں نہیں بلکہ سوشل میڈیا پہ چھوڑے گئے تہذیبی صوبائی، مسلکی ، لسانی پراپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔
حالیہ ایران اسرائیل و امریکہ جنگ میں سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک  پہ  کء ایسے میزائیل حملے بھی  ہوئے ہیں جن کی ایران تردید کر چکا ہے ، دوسری طرف سعودی عرب کے ایران پر جوابی حملہ نہ کرنے پہ امریکی وزیر خارجہ کافی مایوسی کا اظہار بھی کر چکے ہیں ، دراصل یہی ساری سازش تھی کہ خلیجی سرزمیں پر، خلیجی دولت سے، خلیجی ممالک کو لڑا کر ان کے بچی کھچی طاقت اور دولت کو بھی ہڑپ کر لیا جائے، تاکہ گریٹر اسرائیل ، اکھنڈ بھارت اور سپر پاور امریکہ،  تھری ان ون،  خوابوں کی تکمیل ہو پائے۔
لیکن یہ بات باعث اطمینان ہے کہ ایرانی فوج کے اتحاد ، خلیجی ممالک کی سمجھداری ، صبرو تحمل بردباری اور  پاکستان کی بہترین سفارتکاری نے اس آگ کے شعلوں کو کافی حد تک سرد رکھا ہے۔ ایسے میں روس اور چین کی دانشمندانہ اور گہری و معنی خیز خاموشی کو بھی ضرور سراہنا چاہیے۔
لیکن ان سب کے باوجود پاکستان کے اندر بڑھتے ہوئے   خلفشار پہ قابو پانا ازحد ضروری ہے۔یہ اندرونی دہشت گرد اور غدار ایسے نازک وقت میں راکھ میں دبی چنگاری ثابت ہو سکتے ہیں ، جو زرا سی ہوا ملنے پہ میر صادق، میر جعفر ، پورنیا اور میسور کی رانیاں ثابت ہوں گے جو  ابھی بھی ہاہاکار مچا کر دشمن کو دعوت دے رہے ہیں اور اس کی مقدور بھر مدد کر رہے ہیں۔
قارئین غداری چاہے کسی بھی مذہب میں ہو کوئی بھی قوم اسے پسند نہیں کرتی، پورنیا آج بھی ہندو لٹریچر میں مطعون ہے سلطان کی شہادت کے بعد جب ہر سو لاشیں بکھری پڑی تھیں تو میجر ڈالس اور میجر آلن  لکھتے ہیں  کہ 
"ہم لاشوں کو دیکھنے کے لیے آگے بڑھے تو ایک شخص جو نیم مردہ تھا اس نے میرے پاؤں پکڑ لیے اور حیرت سے ہم اسے دیکھنے لگے ، میجر ڈالس نے اسے پہچانتے ہوئے پکارا " سید معین الدین۔۔۔ ہاں میں وہی ہوں اور وہ وہیں مر گیا۔
یہ تاریخ کا سبق ہے کہ 
" موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں "
قوم و ملک ہے تو ہم بھی ہیں ورنہ ان کے سوا ہم کچھ بھی نہیں ہیں۔