والد کی جانب سے وفات سے پہلے بیٹے کو پلاٹ ہبہ کرنے کے کیس میں چیف جسٹس کا فیصلہ

والد کی جانب سے وفات سے پہلے بیٹے کو پلاٹ ہبہ کرنے کے کیس میں چیف جسٹس کا فیصلہ

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران والد کی جانب سے ایک بیٹے کو پلاٹ ہبہ کرنے سے متعلق تنازع پر اہم فیصلہ سنایا۔

کیس کے مطابق 1969 میں محمد بوٹا نے اپنے ایک بیٹے محمد حسین کو پلاٹ ہبہ کیا تھا، جس کے خلاف بعد میں دوسرے بیٹے محمد نذر نے 2000 میں عدالت سے رجوع کیا۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دعویٰ کرنے والے بیٹے نے جرح کے دوران گفٹ کو تسلیم کیا تھا، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ صرف جرح میں اعتراف کافی نہیں ہوتا، دعویٰ کو قانونی طور پر ثابت کرنا ضروری ہے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایک بیٹے کو پلاٹ دیا گیا ہے، تاہم دوسرے بیٹے کے حق میں دستیاب قانونی تقاضوں کو بھی دیکھا جانا ضروری ہے، اور عدالت استدعا اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔عدالت نے کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد دوسرے بیٹے کو بھی پلاٹ میں حصہ دینے کا حکم جاری کیا۔