پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ، انتظامی فیصلے کرنے میں معاون ثابت ہوگی: آئی جی عبدالکریم
لاہور(کرائم رپورٹر)54ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے زیرِ تربیت 6 افسران نے سنٹرل پولیس آفس لاہور کا دورہ کیا اور آئی جی پنجاب عبدالکریم سے ملاقات کی۔ وفد میں پولیس سروس آف پاکستان کے 3، فارن سروس آف پاکستان کے 2 جبکہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کا ایک افسر شامل تھا۔اس موقع پر آئی جی پنجاب عبدالکریم نے کہا کہ عملی پولیسنگ، زمینی حقائق کا مشاہدہ اور بروقت فیصلہ سازی کا تجربہ زیرِ تربیت افسران کے پیشہ ورانہ کیریئر کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ مختلف محکموں اور شعبوں کے امور سے آگاہی افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے اور بہتر انتظامی فیصلے کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔آئی جی پنجاب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں پولیسنگ کے نظام کو جدید وسائل اور آئی ٹی پر مبنی ایپلی کیشنز سے ہمکنار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے ’’محفوظ پنجاب ویڑن‘‘ کے تحت خواتین اور بچوں پر تشدد، زیادتی اور ہراسگی کے واقعات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس سیف سٹی نظام کے ذریعے شہریوں کے تحفظ اور جرائم کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق زیرِ تربیت افسران کو پانچ روز کے لیے پنجاب پولیس کے مختلف شعبوں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے، جہاں انہیں آپریشنز، انٹیلی جنس بیسڈ امور (آئی اے بی)، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر شعبوں کی ورکنگ، ذمہ داریوں اور عملی طریقہ کار سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی۔اس موقع پر اے آئی جی کوآرڈینیشن فاروق امجد، اے آئی جی ایڈمن اینڈ سکیورٹی فاروق سلطان سمیت دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے