بگرام کی بازگشتس

سیع اللہ ملک پہلی قسط
تاریخ کے اوراق پرکبھی کبھی ایسے باب کھلتے ہیں جن میں زمانے کے زوال وعروج کے مناظرایک ساتھ جمع ہوجاتے ہیں۔تاریخ اپنی جولانگاہ میں عجیب تماشے دکھاتی ہے۔کبھی ایک شکستہ قلعہ عالمی طاقتوں کامسکن بنتاہے اورکبھی ایک ویران گوشہ سلطنتوں کی سیاست کامرکز۔ایک ہی قلعہ کبھی کسی سلطنت کافخرہوتاہے اورکبھی کسی سامراج کی شکست کی علامت ۔ بگرام ایئربیس کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے،جہاں زمانے کے نشیب وفرازنے اپنے اپنے وقت کی جارح قوتوں کوباری باری خیمہ زن ہوتے دیکھا۔بگرام ایئربیس بھی اسی نوعیت کاایک باب ہے جہاں سوویت یونین نے اپنے لوہے کے بازوپھیلائے،جہاں امریکانے اپنی عسکری برتری کے نعرے بلندکیے،اورآج پھرایک باروہاں عالمی طاقتوں کی نگاہیں مرکوزہیں۔یہ محض ایک فوجی اڈہ نہیں،یہ تاریخ کی عدالت ہے جہاں ہرمتکبرطاقت کی آزمائش ہوئی اورہرسامراجی غرورخاک میں مل گیا۔قرآن حکیم کی صداآج بھی گونج رہی ہے یہ دن ہم لوگوں کے درمیان گردش میں رکھتے ہیں(العمران:140)
یعنی طاقتوں کاعروج وزوال کوئی حادثہ نہیں بلکہ خدائی سنت ہے۔آج بگرام ایئربیس پرجوکشمکش جاری ہے،وہ دراصل اسی ازلی اور ابدی قانون کی ایک تازہ تفسیرہے۔اس منظر نامے میں سوال یہ ہے کہ پاکستان،مسلم دنیااورامتِ اسلامیہ اپنی ذمہ داری کوکس بصیرت سے نبھائیں گے؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیاپلیٹ فارم پراعلان کیااگرافغانستان نے بگرام ایئربیس اس کے اصل معماریعنی امریکاکے حوالے نہ کیاتواس کے سنگین نتائج برآمدہوں گے۔یہ جملہ محض ایک سیاسی دھمکی نہیں بلکہ اس امرکاغمازہے کہ امریکاآج بھی افغانستان کے قلب میں اپنی واپسی کے خواب بن رہاہے۔یہ بیان محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ امریکاکی اندرونی کمزوری اوربیرونی عزائم دونوں کاپتہ دیتاہے۔ٹرمپ نے اس دہمکی کودہراتے ہوئے بریکنگ نیوزبھی قراردیاہے۔اس لئے یہ بیان اس حقیقت کااظہارہے کہ امریکاآج بھی وسطی ایشیامیں اپنی واپسی کے درپے ہے۔بگرام کوامریکااپنے’’حق‘‘کے طورپردیکھتاہے حالانکہ اس کے انخلاکے بعداب وہ افغان اقتدارکاحصہ ہے۔گویاجودروازہ بائیڈن انتظامیہ نے خودبندکیاتھا،اب اسی کودوبارہ کھٹکھٹایاجارہاہے۔اس سے ظاہرہے کہ موجودہ حکومت بھی سابقہ پالیسیوں سے پیچھانہیں چھڑاپارہی۔یہ اعلان اس تضادکوظاہرکرتاہے کہ انخلاکوفتح قراردینے والے آج واپسی کی منصوبہ بندی پر مجبورہیں۔
ٹرمپ نے دلیل دی کہ بگرام چین کے جوہری ہتھیاروں کے مراکزسے محض ایک گھنٹے کی مسافت پرہے۔اس کے پس پردہ یہ پیغام واضح ہے کہ امریکا کی اصل فکرافغانستان نہیں بلکہ چین ہے۔بگرام ایک اسٹریٹیجک نکتہ ہے جسے امریکاچین کے خلاف مستقبل کے معرکوں کیلئے استعمال کرناچاہتاہے۔گویااصل ہدف افغانستان نہیں بلکہ چین کابڑھتاہوااثرو رسوخ ہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ بگرام ایئر بیس مستقبل کی اس گریٹ گیم کاپیش خیمہ بننے جارہاہے جس میں چین کے ایٹمی منصوبے امریکی فکرکااصل محورہیں۔ٹرمپ بارہایہ کہہ چکے ہیں کہ امریکاکوافغانستان سے نکلتے وقت بگرام بیس نہیں چھوڑناچاہیے تھا۔یہ بیان دراصل ان کی عسکری پالیسی کی ناکامی کااعتراف ہے جوامریکی تاریخ میں ایک’’ سقوط کابل ‘‘کے نام سے درج ہوگئی ہے۔یہ ندامت ایک ایسی اسٹریٹیجک غلطی کی طرف اشارہ ہے جس نے امریکی وقارکوطالبان کے ہاتھوں پامال کردیا۔
بگرام محض ایک فوجی اڈہ نہیں بلکہ ایک شہرہے جو77مربع کلومیٹرپرپھیلاہواہے۔اس کے بیرکس اوررہائش گاہیں ایک وقت میں دس ہزارفوجیوں کوپناہ دینے کی صلاحیت رکھتاہے ۔اس حیثیت سے یہ خطے کاسب سے بڑافوجی مرکزرہاہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ بیس دو دہائیوں تک القاعدہ اورطالبان کے خلاف امریکی جنگ کااصل مرکزرہا۔بگرام کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ تین امریکی صدور(جارج بش،براک اوبامااورڈونلڈ ٹرمپ)اس کے مہمان رہ چکے ہیں۔جو بائیڈن بھی2011میں یہاں بطورنائب صدرآچکے ہیں ۔اس سے ظاہرہے کہ یہ اڈہ محض عسکری نہیں بلکہ سیاسی علامت بھی ہے۔یہ بیس1950کی دہائی میں سوویت یونین نے پروان صوبے میں قائم کیا۔1980کے عشرے میں یہ سوویت سامراج کاسب سے اہم مرکزاور بڑاگڑھ سمجھاجاتاتھالیکن تقدیرنے دیکھاکہ جس قلعے سے سوویت طاقت نے دنیاکوللکاراتھا،وہی قلعہ اس کے زوال کاپیش خیمہ بنا۔ لیکن تقدیرکی ستم ظریفی کہ وہی اڈہ بعدمیں نہ صرف امریکیوں کے ہاتھ میں آگیابلکہ اسی اڈے سے امریکی تابوت کاایک برا سلسلہ اورانخلا جیسی تذلیل کازخم بھی ان کے قلب وجگر کاحصہ بن گیا۔اورآج پھرعالمی سیاست کاکونابن گیا ہے۔اس تقابلی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اڈہ ہر سامراجی قوت کیلئے افغانستان کا دروازہ رہا ہے۔
سوویت یونین نے یہاں سے اپنی عسکری طاقت کامظاہرہ کیالیکن آخرکارشکست کھائی۔امریکانے اسے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا مرکزبنایا،جدیدٹیکنالوجی اوروسائل کے باوجود طالبان سے شکست کھائی مگربالآخررسوائی کے ساتھ انخلاکیا۔اب امریکی توجہ کا اصل مرکزچین ہے اوربگرام کواس کے خلاف استعمال کرنے کی خواہش کھل کرسامنے آرہی ہے۔اب چین کے ابھرتے ہوئے کردار کے خلاف یہ اڈہ مستقبل کامورچہ بن سکتاہے۔یوں ایک بارپھرعالمی طاقتوں کاقبرستان ثابت ہونے والاافغانستان ایک مرتبہ پھرعالمی سامراج کے میدان کااکھاڑہ بننے جارہاہے۔
سوال یہ ہے کہ کیاٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعدپاکستان پردباؤبڑھے گاکہ وہ بگرام پرقبضے کیلئے امریکاکوزمینی راستہ فراہم کرے؟ قوی امکان ہے کہ پاکستان کوایک بارپھرعالمی دباؤکی چکی میں پیساجائے لیکن سابقہ تجربہ ثابت کرتاہے کہ افغانستان کے ساتھ لاکھ کشیدگی کے باوجودپاکستان اب کبھی امریکاکے فریب میں نہیں آئے گالیکن کیاپاکستان امریکا کوانکارکرکے خطے میں ایک نئی کشمکش کامقابلہ کرنے کیلئے تیارہے؟۔
پاکستان نے حالیہ کشیدگی میں کابل حکومت کودوٹوک پیغام دیاہے کہ یاٹی ٹی پی کاساتھ چھوڑویاپاکستان کودشمن نہ بناؤ۔اس کے پس منظرمیں یہ سوال اہم ہے کہ کیاامریکااوربھارت اس تنازع کے پردے میں اپنی شطرنج بچھارہے ہیں؟اس تناظرمیں بھارت کے کردار پرسوال اٹھتاہے کیونکہ وہ ٹی ٹی پی کوپراکسی کے طورپراستعمال کررہاہے۔ٹی ٹی پی کے دہشت گردی کے شواہداوراس میں انڈین’’را‘‘کے ملوث ہونے کے عملی ثبوت عالمی اداروں تک پہنچائے جاچکے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیاامریکابھی اس کھیل میں شریک ہے یا صرف تماشائی؟اوریہ امرپاکستان کے خدشات کوحقیقت کے قریب لے جاتاہے۔
ان حالات کے پیشِ نظریہ سوال اہم ہے کہ کیاامریکابگرام کی واپسی کیلئے پاکستان کوزمینی تعاون پرمجبورکرے گا؟پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اسے پھرعالمی طاقتوں کی آنکھ کاکانٹا بناسکتی ہے۔ٹرمپ کے بیان کے بعدیہ سوال اہم ہے کہ کیاپاکستان پردباؤبڑھے گاکہ وہ امریکاکوزمینی رسائی دے؟پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے عالمی طاقتوں کے کھیل میں ایک ناگزیرفریق بنادیتی ہے۔اگرپاکستان نے امریکاکوراستہ دیاتواندرونی اورعلاقائی مسائل بڑھ سکتے ہیں،اوراگرانکارکیاتودباؤاوربڑھ جائے گا۔
پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان نئے دفاعی معاہدے کوامریکا،اسرائیل اوربھارت اپنی پالیسیوں کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں ۔یہ تینوں قوتیں خطے میں ایک ایساتوازن چاہتی ہیں جو مسلم دنیاکی باہمی وحدت کوپارہ پارہ کرے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں رکھا جا سکے۔ سوال یہ ہے کہ کہیں بگرام بیس پردوبارہ قبضے کی سازش اسی تناظرمیں تونہیں؟ ممکن ہے بگرام بیس کی بحالی کے پس پردہ یہی مثلث(ٹرائیکا)کارفرما ہو؟
ممکن ہے کہ اقوام متحدہ کے آئندہ اجلاس میں پاک امریکاملاقات کے دوران بگرام بیس پرگفتگوہو۔عالمی سفارتکاری اکثرایسے ایجنڈوں کوبندکمروں میں زیرِبحث لاتی ہے جنہیں عوامی سطح پر بیان نہیں کیاجاتا۔عالمی سازش اکثرآہنی بند دروازوں کے پیچھے لکھی جاتی ہے۔عالمی سیاست کادستورہے کہ اصل فیصلے بندکمروں میں ہوتے ہیں اورایجنڈے کبھی عوام کے سامنے نہیں آتے۔
امریکانے بلوچستان میں معدنیات کی تلاش پربھاری سرمایہ کاری کااعلان کیاہے۔بلوچستان میں امریکی سرمایہ کاری پاکستان کیلئے ایک نیاامتحان ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ سوال کھڑا ہوتاہے کہ جب بھارت کی سرپرستی میں بلوچستان میں دہشتگردحملے جاری ہیں تویہ سرمایہ کاری کس مقصدکیلئے ہے؟معدنیات کی تلاش کے معاہدے کے باوجودپاکستان پردباؤ بڑھنے کاامکان ہے۔ممکن ہے امریکااس سرمایہ کاری کودباؤکے طورپراستعمال کرے۔یہاں سوال یہ ہے کہ کیاامریکااپنی سرمایہ کاری کے بہانے پاکستان کومجبورکرے گا کہ وہ اپنے دفاعی اورعلاقائی فیصلے امریکی مفادات کے مطابق ڈھالے؟(جاری ہے)