ٹُوٹاامن

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
ادھرمعاہدہ عدم پھیلاایک ایسا عالمی فریم ورک ہے جس کامقصدجوہری ہتھیاروں کے پھیلاکو روکناہے مگرحقیقت یہ ہے کہ کچھ ممالک کے پاس جوہری ہتھیارموجودہیں جبکہ دوسروں کواس سے روکاجاتاہے۔یہ دوہرامعیار اس معاہدے کی اخلاقی حیثیت پرسوالیہ نشان لگادیتاہے۔ایران اسی تضادکوبنیادبناکراپنے مؤقف کومضبوط کرتاہے۔
اس پورے منظرنامے کواگرایک جملے میں سمیٹاجائے تویوں کہاجاسکتاہے کہ یہ محض یورینیم کی افزودگی کاتنازع نہیں،بلکہ طاقت، خودمختاری اورعالمی انصاف کی ایک ہمہ گیرکشمکش ہے ۔یہ داستان ابھی اپنے عروج کونہیں پہنچی،ابھی کچھ اوراہم سوالات باقی ہیں جن میں ممکنہ معاہدے کی نوعیت،ایران کی آئندہ حکمت عملی،عالمی معیشت پراثرات اورایک ممکنہ جنگ کے مضمرات وقت کے افق پرمعلق ہیںاورجن کے جوابات ابھی تاریخ کے قلم نے رقم کرنے ہیں۔
تاریخِ سفارت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ معاہدے کبھی محض کاغذی دستاویزنہیں ہوتے بلکہ وہ طاقت،مصلحت اورحکمت کے نازک امتزاج سے جنم لیتے ہیں۔ایران اورامریکاکے درمیان جوممکنہ معاہدہ زیرِبحث ہے،اس کی متوقع شقیں ایک ایسے آئینے کی مانندہیں جس میں ہرفریق اپنامفادتلاش کرتاہے۔اس معاہدے کی پانچ ممکنہ بنیادیں کچھ یوں سمجھی جا
سکتی ہیں:
٭افزودگی کی حدبندی(مثلا 3.67%یااس سے کم،یورینیم کے ذخائر میں کمی،بین الاقوامی معائنہ کاروں کی بلارکاوٹ رسائی،اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی اورعلاقائی کشیدگی میں کمی کے وعدے پرمشتمل ہیں۔یہ شقیں بظاہر وازن کی علامت ہیں،مگرحقیقت میں یہ ایک ایسی بساط ہیں جہاں ہرچال کے پیچھے کئی پوشیدہ مقاصدکارفرماہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ذہن میں یہ سوال ابھرتاہے کہ معاہدے کی سطریں وہی نہیں ہوتیں جولکھی جاتی ہیں،بلکہ وہ بھی ہوتی ہیں جوخاموشی کے پردوں میں چھپی رہتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے افق پراگرکوئی تنازع مستقل سایہ فگن ہے تووہ ایران اوراسرائیل کے درمیان نظریاتی وتزویراتی کشمکش ہے۔یہ تصادم محض سرحدوں یاوسائل کانہیں بلکہ نظریات کا تصادم،وجودکی جنگ اورعلاقائی بالادستی کی کشمکش ہے۔اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کواپنی بقاکیلئے خطرہ سمجھتاہے،جبکہ ایران اسرائیل کوایک ناجائزریاست قراردیتا ہے، یوں یہ کشیدگی ایک ایسے دہکتے ہوئے الاکی مانندہے جس کی چنگاریاں کبھی بھی شعلہ بن سکتی ہیں۔یہی وہ پس منظرہے جوہرمعاہدے کومشکوک اورہرامن کوعارضی بنادیتاہے۔
ایران کامسئلہ محض سیاسی یاعسکری نہیںیہ عالمی معیشت کے دل میں دھڑکنے والی ایک حساس رگ بھی ہے۔مشرقِ وسطی، خصوصاخلیجی خطہ،دنیاکی توانائی کامرکزہے،اگرایران کے خلاف کوئی بڑی عسکری کارروائی ہوتی ہے توتیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ،عالمی منڈیوں میں بے چینی اورمعاشی عدم استحکام ناگزیرہوجاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ بڑی طاقتیں جنگ سے گریز بھی کرتی ہیں اوراس کے سائے کوبرقرار بھی رکھتی ہیںکیونکہ یہی سایہ بعض اوقات ان کے اقتصادی مفادات کوتقویت دیتاہے۔گویایوں کہاجاسکتاہے کہ یہ وہ بازار ہے جہاں امن بھی بکتاہے اورجنگ بھی فرق صرف خریدارکے ارادے کاہے۔
اگرمذاکرات ناکام ہوجائیں اورجنگ کاطبل بج اٹھے تواس کے ممکنہ مناظرنہایت ہولناک ہوسکتے ہیں:
الف:محدودفضائی حملے یعنی جوہری تنصیبات کونشانہ بنایاجائے گا،ایران جوابی کارروائی کرے گا۔
ب:علاقائی جنگ،لبنان،شام،عراق اویمن میں پراکسی جنگیں شدت اختیار کریں گی۔خلیجی ریاستیں براہِ راست یابالواسطہ ملوث ہوں گی۔
ج:عالمی کشیدگی،روس اورچین ایران کی حمایت میں سامنے آسکتے ہیں۔امریکااوراس کے اتحادی مقابل صف میں ہوں گے۔یہ منظرنامہ گویاایک ایسی زنجیرہے جس کی ہرکڑی ایک نئی تباہی کوجنم دے سکتی ہے۔
ایران کی حکمت عملی تین ستونوں پرقائم ہے،اس کواگرایک لفظ میں بیان کیاجائے تووہ ہیمزاحمتی صبریعنی،سفارتی مزاحمت، مذاکرات میں سخت مقف۔ دفاعی قوت کااظہار،عسکری تیاری، علاقائی اثرورسوخ۔یہی وہ مثلث ہے  اتحادی گروہوں کے ذریعے دباؤجوایران کوایک کمزورریاست کے بجائے ایک مؤثرعلاقائی طاقت بناتی ہے۔
امریکا کا طرزِ عمل ہمیشہ دو پہلوں پر مشتمل رہا ہے، زیادہ سے زیادہ دبا،سفارتی روابط ۔یہی دوہرارویہ ایران کے ساتھ بھی اختیار کیاگیاہے۔یہ حکمت عملی گویاایک ایسے دریاکی مانند ہے جس میں ایک طرف نرم لہریں ہیں اوردوسری طرف تندوتیزدھار۔چین اورروس کاایران کے ساتھ کھڑاہوناعالمی سیاست میں ایک نئی صف بندی کااشارہ ہے۔چین اقتصادی مفادات کے تحت ایران کے قریب ہے اورروس سیاسی وعسکری توازن کیلئے۔یہ اتحادمغربی بالادستی کے مقابل ایک متبادل نظام کی بنیادرکھتادکھائی دیتاہے۔
عالمی رائے عامہ بظاہراس تمام کھیل میں ایک خاموش تماشائی معلوم ہوتی ہے،مگرحقیقت میں میڈیا،تھنک ٹینکس اورعوامی دبا حکومتوں کے فیصلوں پراثراندازہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہرفریق اپنی کہانی کودنیاکے سامنے بہتراندازمیں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسلامی دنیا کاکرداراس معاملے میں نہایت اہم مگرافسوسناک حدتک منتشرہے۔کچھ ممالک امریکاکے قریب ہیں،کچھ ایران کے اورکچھ خاموش تماشائی۔یہ تقسیم اس امت کی اس کمزوری کوظاہرکرتی ہے جسے میں بارہا لکھ چکاہوں کہ جب امت اپنی وحدت کھو یتی ہے تو اس کی قوت بھی ریزہ ریزہ ہو اتی ہے۔یہ پورا منظرنامہ ایک ایسے پیچیدہ نقشے کی مانند ہے جس میں ہر لکیر ایک مفاد ہے۔ہرر نگ ایک نظریہ اورہرزاویہ ایک خطرہ ہے۔ایران کاجوہری مسئلہ دراصل عالمی نظام کے تضادات کاآئینہ ہے جہاں انصاف اورطاقت،اصول اور مفاد،امن اورجنگ ایک دوسرے سے برسرِپیکارہیں۔
اب یہ داستان اپنے فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے۔اس تنازع کے ممکنہ انجام،عالمی نظام پراس کے دیرپااثرات اورایک نئی عالمی ترتیب نیوورلڈآرڈرکے امکانات۔یہ وہ سوالات ہیں جوآنے والی صدی کی سیاست کارخ متعین کرسکتے ہیں۔اب ہم اس داستان کے اس مرحلے پرنہیں پہنچے ہیں جہاں فکراپنے عروج کوہوتی ہے،تاریخ اپنے فیصلے رقم کرنے لگتی ہے،اوراقوام کے مقدرکے دھارے نئی سمت اختیارکرتے ہیں۔تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ہرتنازع تین ممکنہ راستوں میں سے کسی ایک کاانتخاب کرتاہے۔تصادم،توازن،مفاہمت۔ ایران کے جوہری مسئلے میں بھی یہی تین راستے سامنے ہیں۔اگرتصادم کاراستہ اختیارکیاگیاتویہ آگ صرف ایران تک محدودنہ رہے گی بلکہ پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے لے گی۔اگرتوازن قائم رہاتوکشیدگی ایک مستقل حقیقت بن جائے گی،ایک ایسی خاموش جنگ جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔اوراگرمفاہمت ہوگئی تویہ عالمی سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی ہوگی،مگراس کی قیمت دونوں فریقوں کواپنے اپنے اصولوں میں لچک پیدا کرکے اداکرنی ہوگی۔
یہ تنازع محض ایک علاقائی بحران نہیں بلکہ ایک بڑی عالمی تبدیلی کاپیش خیمہ ہے۔دنیاآہستہ آہستہ ایک نئی ترتیب کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں امریکاکی یک قطبی بالادستی کمزورپڑ رہی ہے۔چین ایک اقتصادی قوت بن کرابھررہاہے۔روس ایک تزویراتی توازن قائم کررہا ہے۔ایران اس نئی ترتیب میں ایک مزاحمتی علامت کے طورپرسامنے آرہاہے ایک ایسی
 ریاست جودباؤکے باوجوداپنے مؤقف پرقائم ہے۔یہی وہ منظرہے جسے ہم ایک نئے کثیرقطبی عالمی نظام کے طورپردیکھ سکتے ہیں۔اس پورے قضیے میں امتِ مسلمہ کیلئے کئی گہرے اسباق پوشیدہ ہیں:
1۔وحدت کی ضرورت۔۔۔۔۔۔مسلمان ممالک کی تقسیم ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔اگروہ متحدہوتے توعالمی سیاست میں ان کی آواز کہیں زیادہ مضبوط ہوتی۔
2۔علمی وسائنسی خودکفالت۔۔۔۔۔ایران کاجوہری پروگرام اس بات کی علامت ہیکہ علم اورسائنس ہی اصل طاقت ہیں۔
3۔ خودی اوروقار۔۔۔۔۔قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جواپنے اصولوں پرقائم رہتی ہیںخواہ اس کیلئے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔جنگ ہمیشہ تہذیبوں کیلئے ایک امتحان ہوتی ہے ۔یہ صرف ہتھیاروں کاٹکراؤنہیں بلکہ اقدارکاتصادم،انسانیت کاامتحان،اورتاریخ کافیصلہ ہوتی ہے۔اگرانسانیت نے اس باربھی جنگ کوترجیح دی تویہ ترقی کے تمام دعوؤں پر ایک سوالیہ نشان ہوگا۔
سوال یہ ہے کیاطاقت ہی حق کامعیارہے؟اگرجواب ہاں میں ہے توپھرانصاف،قانون اوراخلاقیات سب محض الفاظ بن کررہ جائیں گے اور اگر جواب نہیں ،توپھر عالمی نظام کو اپنے اصولوں پرازسرِنوغورکرناہوگا۔تاریخ ہمیشہ جلدی فیصلہ نہیں کرتی،وہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنے نتائج مرتب کرتی ہے۔آج جوفیصلے کیے جارہے ہیں،ان کے اثرات آنے والی نسلیں محسوس کریں گی۔اگراس پورے معاملے کوایک جامع زاویے سے دیکھا جائے تویہ واضح ہوتاہے کہ ایران اپنی خودمختاری کیلئے کھڑاہے۔امریکاعالمی نظام کے تحفظ کے نام پراپنااثرورسوخ قائم رکھناچاہتاہے،دیگر طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحت صف بندی کررہی ہیں۔یہ ایک ایساکھیل ہے جس میں ہرکھلاڑی جیتناچاہتاہے مگر شکست پوری انسانیت کی ہوسکتی ہے۔