اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں مجوزہ انسانی ہمدردی کے کیمپ درحقیقت فلسطینی عوام کے خلاف استحصالی حربہ بن کر سامنے آئیں گے۔
کیمپ کی تعمیر نسل کشی کے زمرے میں آتی ہے
بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایہود اولمرٹ کا کہنا تھا کہ:"فلسطینیوں کو زبردستی کیمپوں میں بھیجنے کا تصور ایک نسل کشی پر مبنی پالیسی کا حصہ بن سکتا ہے، جس کا انسانی ہمدردی سے کوئی تعلق نہیں۔"انہوں نے اسرائیلی وزیر دفاع کی اس تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جس میں کہا گیا تھا کہ غزہ کی زمین کو صاف کر کے وہاں کیمپ قائم کیے جائیں۔ اولمرٹ نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ فلسطینیوں کو بچانے کے بجائے، ان کے بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے کا ایک منصوبہ لگتا ہے۔
اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے: اولمرٹ
ایہود اولمرٹ نے کہا کہ موجودہ اسرائیلی حکومت غزہ اور مغربی کنارے میں جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے، اور اگر کیمپوں کی تعمیر عمل میں لائی گئی تو یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ:"یہ کیمپ نہ صرف فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو محدود کریں گے بلکہ انہیں ایک انسانی قید خانے میں تبدیل کر دیں گے۔ اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی۔"
عالمی برادری سے نوٹس لینے کی اپیل
ایہود اولمرٹ نے عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اسرائیلی حکومت کی ان پالیسیوں کا سخت نوٹس لیں، جو نہ صرف انسانی حقوق کے خلاف ہیں بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ:"یہ وقت ہے کہ بین الاقوامی برادری مداخلت کرے اور فلسطینی عوام کو اس ذلت آمیز سلوک سے بچایا جائے۔"