دِیدم شُنیدم

  شہزاد حسین بھٹی

ٹیکسٹ بک بورڈ پنجاب کے زیرِ اہتمام تعلیمی نظام میں ایک سنگین خامی نے نہ صرف والدین اور طلباء بلکہ اساتذہ کی بے چینی کا باعث بنایا ہے۔ ہر سال تعلیمی سال کے آغاز میں نصابی کتب کی قلت اور دستیابی میں تاخیر ایک معروف روایت بن چکی ہے، جس کی وجہ سے طالب علم اور ان کے والدین ایک ناقابلِ برداشت معاشرتی و تعلیمی بحران کا سامنا کرتے ہیں۔ عوام کو نہ صرف کتب کی عدم دستیابی سے اذیت ہوتی ہے بلکہ اس معاملے میں‘‘کالی بھیڑوں’’کی موجودگی نے مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے؛ ایسے عناصر جو نصابی کتب کی تقسیم کے عمل میں ناانصافی کا باعث بنتے ہیں اور طلباء کو بلیک میں یا ذلیل و رسوا کر کے کتب کئی مہینوں بعد میسر آتی ہیں، جو کہ ہر سال ایک بھیانک اور بدقسمت داستان بن جاتی ہے۔


کچھ دن قبل مجھے ایک اسلامیات کی کتاب برائے جماعت دہم کی ضرورت پیش آئی، اور شہر کے تمام بڑے کتب فروش مراکز کا چھان مار کرنے کے باوجود وہ کتاب کہیں دستیاب نہ ہو پائی۔ یہ ذاتی تجربہ اس بات کی دلیل ہے کہ تعلیمی مواد کی فراہمی میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ اس بحران کے نتیجے میں بچوں کی تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے، کیونکہ ابتدائی مراحل میں صحیح اور بروقت نصابی کتب کا حصول تعلیمی تسلسل اور امتحانی کارکردگی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔


ایک اور تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ نصاب تشکیل دینے والا بورڈ ہر سال اکثر نصابی کتب میں تبدیلی کر دیتا ہے، جس سے ہر سال طلباء کو نئی نصابی کتب خریدنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف مالی بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ طلباء کے لیے مطالعہ کے وسائل کا تسلسل بھی متاثر ہوتا ہے۔ مزید برآں، ہر سال کرابیں کم معیار کی چھپائی کے باعث منظرِ عام پر آتی ہیں اور ان کی چھپائی کے کاروبار میں مافیاز اپنا مال بنا لیتے ہیں، جس سے تعلیمی مواد کے معیار اور عوامی اعتماد دونوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔ نصاب کو کم از کم پانچ سال کے لیے لازم قرار دیا جانا چاہیے تاکہ وقت کے ساتھ مناسب تبدیلیاں کی جا سکیں، بجائے اس کے کہ ہر سال طلباء کو مالی و ذہنی بوجھ میں مبتلا کیا جائے۔


ماضی میں جب نصابی کتب کی دستیابی محدود تھی، تب لوگ ہمسائیوں سے یا پرانی کتب فروش دکانوں سے یا لائبریریوں سے کام چلا لیتے تھے۔ اس طریق? کار میں کتب کی قیمتیں اور معیار دونوں کنٹرول میں رہتے تھے۔ لیکن آج کے بدلتے حالات میں اس طرزِ عمل کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ڈیجیٹل نصابی کتب کے ذریعے مطالعہ کی سہولت بھی ہر بچے کے لیے ممکن نہیں ہے کیونکہ ہر گھر میں انٹرنیٹ، کمپیوٹر یا موبائل کی
 سہولت میسر نہیں ہوتی۔ اس تناظر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تعلیمی مواد تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ ایک جامع اور ہر طالب علم کی پہنچ میں رہنے والا نظام بھی ناگزیر ہے۔


اس پورے تعلیمی بحران کا ازالہ کرنے کے لیے حکومت، وزارتِ معارف اور متعلقہ اداروں کو مل کر نہایت فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ متبادل ذرائع جیسے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تو ایک حل ہو سکتے ہیں مگر محدود رسائی کو مدنظر رکھتے ہوئے روایتی کتابی تقسیم کے نظام میں بھی جدیدیت لانا بے حد ضروری ہے۔ ہر طالب علم کو اس کے حق سے محروم نہ کرنے کے لیے نصابی کتب کی بروقت تقسیم، معیار کی یقین دہانی اور مسلسل نگرانی ایک ہمہ جہت حکمت عملی کا تقاضا ہے۔


اگرچہ موجودہ حالات میں‘‘کالی بھیڑوں’’کا غلبہ اور مافیازانہ کنٹرول نے تعلیمی مواد کی فراہمی کے عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے، یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ایک جامع، شفاف اور مؤثر نظام کے ذریعے ہر طالب علم تک معیاری تعلیم پہنچائی جائے۔ نصاب کو پائیدار بنیادوں پر پانچ سال تک مقرر کیا جائے تاکہ تعلیمی تسلسل پیدا ہو اور اس عمل میں ہونے والی بے ترتیبی کو کم کیا جا سکے۔ اس طرح نہ صرف ادارے کی ساکھ میں بہتری آئے گی بلکہ والدین اور طلباء کا اعتماد بھی دوبارہ بحال ہو پائے گا۔


یہ معاملہ، جو کہ صرف ایک تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ معاشرتی انصاف اور ترقی کا بھی سوال ہے، اس روشنی میں واضح ہے کہ فوری اقدامات اور مربوط حکمت عملی کے بغیر مستقبل قریب میں تعلیمی معیار میں شدید کمی متوقع ہے۔ ہر طالب علم کو معیاری اور بروقت نصابی کتب فراہم کرنا تعلیم کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور ملک کی ترقی کی ضمانت دینے کا واحد ذریعہ ہے۔