سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
ایران نے1985میں پہلی بارلیبیاسے روسی ساختہ’’سکڈ بی‘‘میزائل خریدے اور30میزائلوں کی کھیپ کے ساتھ ہی لیبیاسے تکنیکی مددکیلئے مشیربھی ایران آئے اورایران کامیزائل آپریشن ان کی مددسے ہی سرانجام پایا۔اس وقت پاسدارنِ انقلاب کی ایروسپیس فورس کے کمانڈر،امیرعلی حاجی زادہ،میزائل یونٹ کی تشکیل کے ذمہ داربنے اورمیزائل سرگرمیوں کیلئے ایران کے مغرب میں واقع شہرکرمان میںپہلااڈہ تیارکیاگیا۔عراق پرایران کی جانب سے پہلامیزائل حملہ21مارچ 1985کوہواجس میں کرکوک شہرکونشانہ بنایاگیا۔دودن بعد،دوسراایرانی حملہ بغدادمیں عراقی آرمی آفیسرزکلب پرکیاگیاجس میں تقریبا200عراقی کمانڈرمارے گئے۔
اگرچہ ایران نے سینکڑوں میزائل اسرائیل پرداغے ہیں لیکن دوسرے ملک میں جاکرگوریلاآپریشن کرنے کازیادہ تجربہ اسرائیل کا ہے اوروہ ہمیشہ ہی اس میں کامیاب ہواہے لیکن جب بات ہوتی ہے دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ کی توایران کے رقبے اورفوج میں زیادہ تعدادکودیکھتے ہوئے یہ صاف نظرآتاہے کہ اسرائیل ایسانہیں کرے گا۔اس کی برتری فضائی طاقت،میزائل اور ڈرونزہیں اوراگراس نے ردِعمل ظاہرکیاتوممکنہ طورپران ہی کے ذریعے ہی کرے گا۔ویسے ماضی میں ایران کے ہائی پروفائل فوجی اورسویلین شخصیات بھی اسی طرح کے حملوں میں ہلاک کی گئی ہیں اگرچہ اسرائیل نے اکثر اوقات اس کا باقاعدہ اعتراف نہیں کیالیکن اس سے انکاربھی نہیں کیاہے۔اس جنگ کاایک اورپہلو سائبراٹیک بھی ہوسکتاہے اوراس جگہ اسرائیل کافی ولنرایبل (کمزور)لگتاہے۔وجہ صاف ہے کہ ایران کا دفاعی نظام اسرائیل کے دفاعی نظام جتناایڈوانس نہیں ہے،اس لیے اسرائیل کے نظام پرسائبرحملہ زیادہ آسان ہے۔
اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ بشارالاسدکی حکومت کے خاتمے کے بعدآیت اللہ علی خامنہ ای چارمرتبہ اپنے ملک،شام اور مشرق وسطی کے مستقبل کے حوالے سے تقاریرکرچکے ہیں۔ان کی تقاریرکامواداتناہی اہم ہے جتنے وہاں بیٹھے سامعین۔ایرانی رہبر اعلی کوسننے والوں میں ایرانی سپاہی،ایرانی حمایت یافتہ ملیشیایاحکومت کے حامی تھے۔یہ تمام افرادکسی نہ کسی طرح شام میں ایک دہائی قبل خانہ جنگی کے واقعات سے جڑے تھے۔عراق کے خلاف1980سے1988تک جاری رہنے والی8سالہ جنگ میں ان ایرانی فوجیوں کواپنی شناخت ملی تھی۔حالیہ تقریرخطے میں ہلاک ہونے والے ایرانی فوجیوں کے اہل خانہ کوبھی سنائی گئی جنہیں ایرانی حکومت"شہید‘‘کہتی ہے۔
اس صورتحال کے دوران آیت اللہ خامنہ ای پردباہے کہ وہ حسن نصراللہ اورقاسم سلیمانی جیسی اہم شخصیات کی عدم موجودگی میں اپنے حامیوں کوجواب دیں کہ:اسدحکومت کے دفاع کیلئے ایران شام کیوں گیا؟اس بارشام کادفاع کیوں نہیں کیاگیا؟اورایران کے ’’مزاحمت کے محور‘‘کامستقبل کیاہوگا؟بظاہرایسالگتاہے کہ ایران عسکری اورسفارتکاری دونوں میدانوں میں ناکام ہوگیاہے۔
بین الاقوامی امورکے بیشترایرانی ماہرین اس بات پرمتفق ہیں کہ ایران کوعلاقائی تنازعات پرناکامی کوتسلیم کرناچاہیے اوراب وقت آگیاہے کہ ایک نئی حکمت عملی اپنائی جائے۔ ایرانی حکومت کو’’فتح کے ادب‘‘کی عادت ہوچکی ہے مگراب اسے’’شکست کے ادب‘‘کوسیکھناپڑے گا۔عراق کے خلاف جنگ کے اختتام پراس وقت کے ایرانی رہبرِاعلی آیت اللہ خمینی نے واضح طورپرجنگ بندی کی قراردادکی منظوری کو’’زہرکاپیالہ پینے‘‘سے تشبیہ دی تھی۔ تاہم موجودہ ایرانی رہبراعلی آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی پے در پے تقریروں میں تاحال صاف گوئی کااظہارنہیں کیااورنہ ہی ایرانی حکمت عملی کے کمزورہونے کااعتراف کیاہے۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ انھوں نے پیغمبرِاسلامﷺکاحوالہ دیتے ہوئے’’جنگ احد‘‘کاذکرکیاجوکہ اسلامی تاریخ کی سب سے اہم جنگوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔اس جنگ میں مسلمانوں کوعارضی شکست ہوئی تھی۔خامنہ ای نے اپنی تقریرکے دوران کہاکہ ’’اسلام کی آمدکے ابتدائی عرصے میں احدکے میدان میں مسلمانوں کوبھاری نقصان اٹھاناپڑااورامیر المومنین حمزہ شہیدہوئے۔امیر المومنین علی ابن ابی طالب سرسے پیرتک زخمی ہوئے۔اس جنگ میں پیغمبراسلام زخمی ہوئے اورکئی لوگ شہیدہوئے۔جب وہ مدینہ واپس آئے تو منافقین نے دیکھاکہ یہ فتنہ پھیلانے کااچھاموقع ہے اورانہوں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے پروپیگنڈا شروع کردیا‘‘۔
بظاہرایسالگتاہے کہ ایرانی رہبراعلی کوناکامی کی وضاحت کرنے سے زیادہ’’فتنے ‘‘اوراپنے حامیوں میں ابھرتے شکوک وشبہات کی فکرہے۔شام کی ناکامی کے بعدخطے میں ایران کی پوزیشن کمزورنظرآرہی ہے۔نئی نسل میں ایران کی اسلامی جمہوریہ کی حمایت کرنے والوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے علاقائی جنگوں اور’’مزاحمت کے محور‘‘کے ذریعے اپنی پہچان پائی۔ایرانی حکومت کے بہت سے حامیوں کوخدشہ ہے کہ جوشام کے سابق حکمرانوں کے ساتھ ہوا،وہ ایران میں دہرایاجاسکتاہے۔
قاسم سلیمانی کی پانچویں برسی کے موقع پرآیت اللہ خامنہ ای نے اپنی تقریرمیں ان خدشات کاجواب دینے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہاکہ’’بعض ممالک کی بڑی غلطیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ استحکام اورحاکمیت کے اہم عوامل کومنظرسے ہٹادیتے ہیں۔ (مگر)نوجوانوں کاگروہ اپنی جانیں قربان کرنے کیلئے تیاررہتاہے۔یہ کسی قوم میں حاکمیت کے سب سے اہم عوامل میں سے ایک ہے۔انہیں منظرسے ہٹایانہیں جاناچاہیے۔ہمارے لیے بھی یہی سبق ہے۔خداکاشکرہے یہاں یہ محفوظ ہیں۔کچھ دوسرے ممالک کوبھی اس طرف توجہ دینی چاہیے۔انہیں معلوم ہوناچاہیے کہ ان کے استحکام کے عوامل کیاہیں۔جب انہیں نکالاجاتا ہے توخطے کے بعض ممالک میں ایساہی ہوتاہے۔(جب)وہ استحکام اور حاکمیت کے عوامل کوباہرنکال دیتے ہیں تووہ شام بن جاتاہے‘‘۔
ایرانی رہبر اعلی نے یہ کہہ کردراصل اپنے حامیوں کودعوت دی ہے کہ وہ اس مشکل مرحلے میں انہیں ان کی ضرورت ہے۔اسد حکومت کے خاتمے کے بعداپنی پہلی تقریرمیں انہوں نے کہاتھاکہ ان کی اس تقریرکامقصدرائے عامہ کے سوالات اورابہام کا جواب دیناہے۔وہ چاہتے ہیں کہ ان کے حامیوں کے خدشات دورہوں اوران کے حوصلے بلندرہیں۔اسی لیے انہوں نے ایک ماہ کے عرصے میں چوتھی مرتبہ خطے میں ایران کی حکمت عملی اورمزاحمت کے محورپر بات کی۔
سقوط دمشق کے صرف تین دن بعدایرانی رہبراعلی نے اپنی پہلی تقریرمیں بغیرکسی تمہیدکے شام کے مسئلے کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ’’وہ جاہل اورنادان تجزیہ کارجوان واقعات کو ایران کوکمزورکرنے کے مترادف سمجھتاہیانہیں سمجھ لیناچاہیے کہ ایران مضبوط ہے یہ طاقتورسے مزیدطاقتورہوجائے گا۔دراصل شام کی موجودہ صورت حال اورمصائب شامی فوج کی مزاحمت اورمزاحمت کے جذبے کی کمزوری اورکمی کانتیجہ ہیں۔شام کی کمزوری کے برعکس ایرانی مسلح افواج کے اعلی حکام کے حوصلے بلندہیں۔
ایران کے رہبراعلی نے ان تمام تقاریرمیں بشارالاسدکانام لینے سے بھی گریزکیا۔حالیہ برسوں کے دوران ایران اوربشارالاسدکے بیچ تعلقات اتنے قریبی نہیں تھے جتنے شام میں خانہ جنگی کے دوران ہواکرتے تھے۔شام کی تعمیرنوکے برسوں میں اورخاص طورپرپچھلے چارسالوں میں بشارالاسدنے اقتصادی دبااورسخت پابندیوں کے باعث ایران کے علاقائی حریفوں بشمول متحدہ عرب امارات اورسعودی عرب کے ساتھ تعلقات کوبہتربنایاتھا۔اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے پے درپے حملے اورشام میں سکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے ایرانی افواج کی موجودگی کمزورپڑ گئی تھی۔
ایسالگتاہے کہ آیت اللہ خامنہ ای اچھی طرح جانتے ہیں کہ بشارالاسدکی حکومت کاخاتمہ ایران کیلئے ایک نئے دورکاآغازہے۔یہ ایک ایسانیادورہے جس میں خطرات کے ساتھ ساتھ دوست،دشمن اورجنگ کی لکیروں کونئے سرے سے متعین کیاجائے گا۔یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیاآیت اللہ خامنہ ای’’زہرکاپیالہ‘‘ پیئیں گے اورمغرب کے ساتھ مذاکرات کریں گے یا’’جنگ احد‘‘کی طرح شکست تسلیم کرنے کاانتخاب کریں گے۔