شہزاد احمد۔۔۔۔فن و شخصیت

نوید مرزا
شہزاد احمد اردو کے بے مثال شاعر،مترجم ،دانشور،ڈرامہ نگار اور گفتگو کے ہنر سے شناسا ایک ایسی شخصیت کا  نام ھے،جنھیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔شہزاد احمد کی شاعری اور دیگر ادبی ورثے کو دیکھا جائے تو وہ ہمیں ادب کی ایک بے مثال ،منفرد اور ہمہ جہت شخصیت کے طور پر نظر آتے ہیں۔
شہزاد احمد صاحب سے میری پہلی ملاقات 1990 ء میں صابر جالندھری مرحوم کے جواں مرگ شاگرد شاعر عارف جلیل کی برسی کے موقع پر ھونے والے مشاعرے میں ھوئی۔میرے والد شاعر درویش بشیر رحمانی بھی اس مشاعرے میں موجود تھے۔وھاں میں نے اپنی ابتدائی طور پر لکھی گئی غزل پڑھی۔۔۔۔
ایک لہجے میں بولتے ھیں سبھی
کون جھوٹا ھے کون سچا ھے
کل ستاروں کا بہہ رھا تھا لہو
آج سورج بھی سرخ نکلا ھے
آسماں پر نہ کیوں ھو اس کا دماغ 
اس کی آنکھوں کا رنگ نیلا ھے
مشاعرے کے بعد شہزاد صاحب مجھ سے ملے اور الگ سے داد دی۔مجھے  ان کے اس انداز پر حیرانی بھی ھوئی اور خوشی بھی ھوئی۔اس وقت میری عمر 22برس تھی۔والد محترم،شاعر درویش،مصوراحساس جناب بشیر رحمانی نے انھیں بتایا کہ میں کئی برس سے بچوں کے لئے کہانیاں بھی لکھ رہا ہوں۔شہزاد صاحب بہت خوش ہوئی۔میں والد صاحب  کے ساتھ  اپنی زندگی کے دوسرے یا تیسرے مشاعرے میں شریک ھوا تھا۔یوں شہزاد صاحب سے ایک ادب و احترام کا رشتہ قائم ھوا۔بعد ازاں یہ غزل ،ٹھنڈا سورج میں شامل ھوئی۔شہزاد احمد صاحب نے میرے دوسرے مجموعے،چہروں سے بھری آنکھیں کا دیباچہ لکھا کتاب کا یہ خوب صورت نام ھمارے منفرد لہجے کے شاعر جناب اظہار شاھین کے ذریعے مجھ تک پہنچا تھا۔استاد صاحب علامہ ذوقی مظفر نگری کا ذکر بھی ھوا۔یوں شہزاد صاحب سے ایک ادب و احترام کا رشتہ قائم ھوا۔بعد ازاں یہ غزل ،ٹھنڈا سورج میں شامل ھوئی۔شہزاد احمد صاحب  نے میرے دوسرے مجموعے،چہروں سے بھری آنکھیں کا دیباچہ بعنوان ،رہائی نہ پانے کی خواہش ،لکھا تھا۔کتاب کا نام اظہار صاحب کے اس  شعر سے اخذ کیا گیا تھا :
اتنا تجھ کو ڈھونڈا ھے
آنکھیں بھر گئیں چہروں سے
اظہار شاھین صاحب سے دوستی کی ایک الگ داستان ھے۔اس کے بعد ایک طویل عرصہ لاھور کینٹ کے مشاعروں میں جانا ھوتا رھا۔شہزاد صاحب کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ مشاعرے کے لئے شعراء  کو خود مدعو کرتے تھے۔اس وقت۔ موبائل تو نہیں تھا۔لیکن وہ ٹیلی فون کرتے یا رابطے کا کوئی اور طریقہ اختیار کرتے،لیکن ان کے لاھور کینٹ کے مشاعروں میں نوجوان اور سینئر شاعروں سمیت ایک بہت بڑی تعداد موجود ھوتی تھی۔ان مشاعروں کی کامیابی میں ھمارے والد محترم کے دوست اور نامور شاعر جناب علامہ بشیر رزمی اور جناب احسان اللہ ثاقب بھی پیش پیش ھوتے تھے۔دنیائے ادب جانتی ہے کہ ہمارے 
شہزاد صاحب ایک بہترین انسان   شاعر،مترجم ،مقرر،ادیب،ڈرامہ نگار اور سکرپٹ رائٹر کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔وہ ایک کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے۔ایک نفیس انسان تھے ،جو ہر  عمر کے شاعر و ادیب کو ایک جیسی محبت دیتے تھے۔۔شہزاد احمد 16 اپریل 1932ء  کو امرتسر میں پیدا ہوئے اور 1 اگست 2012 ء  کو لاہور میں وفات پائی۔۔دعا ہے کہ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائیں،آمین
آخر میں شہزاد صاحب کے چند مشہور شعر ملاحظہ کریں۔۔۔
میں ایسی پستیوں میں گھر گیا ہوں
کہ سورج بھی دیا لگنے لگا ہے
چھوڑنیمیں نہیں جاتا اسے دروازے تک
لوٹ جاتا ہوں کہ اب کون اسے جاتا دیکھے
میں ترا کچھ بھی نہیں ہوں مگر اتنا تو بتا
دیکھ کر تجھ کو مرے ذہن میں آتا کیا ہے
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا
یہ زندگی نہیں شہزاد کار عبرت ہے
جہاں سے دل نہ لگا یہ جہاں کسی کا نہیں
شہزاد احمد 1اگست 2012ء  کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔اس وقت آپ مجلس ترقی ء  ادب کے ناظم اعلیٰ تھے۔۔یہ تحریر اس عظیم شخصیت کے یوم ولادت کے موقع پر لکھی جارہی ہے۔۔۔دعائے مغفرت ہے