تصدیقِ قلب

امجد علی
 گواہی یا شہادت کا مقصد کسی دعوے یا واقعے کی حقیقت کو ظاہر کرنا ہوتا ہے، یعنی یہ اعلان کہ ‘‘میں نے یہ بات دیکھی، سنی یا جانی ہے، اور یہ درست ہے۔’’ گواہی دراصل سچائی کا ظاہری ثبوت ہے، جو کسی معاملے کی صداقت کو نمایاں کرنے کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ کتابِ الٰہی میں بارہا یہ ہدایت دی گئی ہے کہ گواہی اللہ کے لیے دو، اور انصاف پر قائم رہو۔

ایمان کا اصل مادہ عربی زبان میں ‘‘ا۔م۔ن’’ ہے، جس سے کئی الفاظ جنم لیتے ہیں۔ امن یعنی سکون و نجاتِ، امان یعنی حفاظت و امانت، امین یعنی سچا و دیانتدار، اور ایمان یعنی یقین، اعتماد اور دل کی تصدیق۔ گویا ایمان کا بنیادی تعلق امن، سکون، تصدیق اور اعتماد سے ہے۔ دنیاوی معاملات میں بھی تصدیق کا یہی مفہوم ہے۔ جب کسی دستاویز کی نقل کسی ادارے کو دی جاتی ہے تو وہ اس وقت تک معتبر نہیں ہوتی جب تک کسی مجاز افسر کی مہر سے ‘‘تصدیق شدہ’’ نہ ہو، یعنی یہ کہ یہ نقل اصل کے عین مطابق ہے۔

اسی طرح ایمانِ مجمل میں ‘‘اقرار باللسان و تصدیق بالقلب’’ کا مفہوم بھی یہی ہے کہ زبان سے اقرار اور دل سے یقین دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ وجود کی سچائی کے لیے صرف ‘‘ہونا’’ کافی نہیں، بلکہ اس ہونے کی گواہی بھی از حد لازم  ہے۔ زبانی اقرار اور تحریری گواہی، دونوں شہادت کی صورتیں ہیں مگر ان کے مدارج جدا ہیں۔ ابتدائے آفرینش میں یکتائی کے ماسواء￿  کچھ نہیں تھا عالم ہو تھا۔ کل نے اجزاء￿  کی کائنات کثیر تخیلق کی۔ کثرت میں ہر لمحہ ہر سطح پر تغیر لازم ہے۔ ظہور پر دلیل شرط ہے۔ مگر ذرّہ اور کْل اپنی اپنی حیثیت میں الگ ہونے کے باوجود دونوں کے لیے شہادت درکار ہے۔ مشاہدے کے بغیر کوئی وجود معتبر نہیں ٹھہرتا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جتنا ہونا ضروری ہے، اتنی ہی اس کی گواہی بھی لازم ہے۔ یہی گواہی پھر محبت اور عشق کی متقاضی ہو جاتی ہے، وہ عشق جو جہان اجزائے وجود کو "کل" کے طواف پر مجبور کر دیتا ہے۔ اجزاء￿  کا کل سے یہی عشق تصدیق کی معراج ہے۔

ابتدائے انسانیت سے گواہی کی دو بنیادی صورتیں۔۔۔زبانی اور تحریری۔۔رائج رہیں۔ مگر آج کے دور میں گواہی نے نئی صورتیں اختیار کر لی ہیں۔ ریکارڈ شدہ آواز، ویڈیو، یا سی سی ٹی وی فوٹیج اب شہادت کے معتبر ذرائع سمجھے جاتے ہیں۔ مگر اصل شہادت تو وہ ہے جو ازل سے جاری ہے، جب خود خالقِ کائنات نے اپنی الوہیت اور رسالتِ محمدی  کی گواہی کو لازم قرار دیا۔ نبی اکرم  کی ذات معراجِ شہادت پر فائز ہوئی جب اللہ نے فرمایا: ‘‘میرا نبی خواہشِ نفس سے کلام نہیں کرتا ( یعنی ذات محبوب مقام فنا فی اللہ میں مستغرق تھی ) ’’ یوں ربِ کائنات نے اپنے محبوب کی گفتار پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ اسی لیے اسلام میں داخل ہونے کی بنیاد ہی ‘‘کلمہہ شہادت’’ قرار پائی۔

اب سوال یہ ہے کہ زبانی اقرار، تحریری گواہی اور قلبی تصدیق میں کیا فرق ہے؟ دراصل ایمان کے بظاہر دو بنیادی  اور بلا واسطہ تین مدارج ہیں: زبانی اقرار ابتدا ہے، تحریری گواہی اس کا ظہور، اور قلبی تصدیق اس کا کمال۔ ایمان اس وقت جنم لیتا ہے جب کلمہ شہادت کی حقیقت زبان سے نکل کر روح میں اتر جائے، پھر روح وجود کے لوں لوں میں تنز کرتی تو ہر سیل گواہ بن جاتا ہے۔ یہی لمحہ ایمان کا حقیقی ظہور ہے، جب انسانی وجود کا ہر ذرہ، ہر سانس خدائے واحد کے حکم کے تابع ہو جاتا ہے۔

آج جب دنیا ملحدانہ نظریات میں مقید ہے، انسان سائنسی دلائل کا طالب ہے۔ وہ ہر شے کو تجربے کی بنیاد پر پرکھنا چاہتا ہے۔ بہت سے لوگ دل کی سائنسی حیثیت کو محض جسمانی سمجھتے ہیں، لیکن ایمان اور دل کی تصدیق کا تعلق ایک لطیف اور باطنی (درون ذات کیفیت) تجربے سے ہے جسے ناپا نہیں جا سکتا، البتہ محسوس ضرور کیا جا سکتا ہے۔ سائنس کے مطابق دل صرف خون پمپ کرنے والا عضو نہیں، اس کے اپنے نیورونز بھی ہیں جو دماغ سے رابطہ رکھتے ہیں۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ جب کوئی شخص ایمان، محبت یا یقین کی بات کرتا ہے تو دماغ کے مخصوص حصے متحرک ہو جاتے ہیں۔ گویا سائنس ایمان کی اصل کو تو نہیں چھو سکی، مگر اس کے اثرات کے سگنلز ضرور محسوس کر پائی ہے، کیونکہ ہر موجود کو اظہار اور اقرار کی شہادت درکار ہے۔ یہ ثبوت مادے سے متعلق ہونے کی وجہ سے کہیں نہ کہیں سینسرز کی زد میں آ ہی جاتے ہیں۔

ایمان کا لغوی معنی ہے، دل سے کسی بات کی تصدیق کرنا، اس پر کامل اعتماد و یقین رکھنا، اور امن و اطمینان کے دائرے میں آ جانا، نیز دوسروں کے لیے بھی امن کا ذریعہ بننا۔ شریعت کی اصطلاح میں ایمان اس کیفیتِ قلب کا نام ہے جس میں انسان دل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول  کی لائی ہوئی ہدایت کو سچ مانے، زبان سے اس کا اقرار کرے، اور اپنے عمل سے اس کی سچائی کی گواہی دے۔

دل کی یہ تصدیق محض ایک احساس نہیں، بلکہ ایک لطیف اور گہرا باطنی یقین ہے ایک ایسی گواہی جو مادی جہان کی عام شہادتوں سے یکسر مختلف ہے، کیونکہ یہ دل کے اندر سے ابھرتی ہے اور انسان کے وجود کے ہر ذرّے میں اپنے کلمے کی شہادت کا نور بھر دیتی ہے۔ جو اعمال میں نمود کرتا ہے۔

دینی اصطلاح میں "دل کی تصدیق" سے مراد ہے یقین، یعنی کسی بات کو دل و دماغ کی گہرائی سے سچ مان لینا۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ایمان محض اقرار نہیں رہتا بلکہ وجود کے ہر رگ و ریشے میں اتر کر روح کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ ایک باطنی اور لطیف عمل ہے جو انسان کے اندر وقوع پذیر ہوتا ہے، جس کی بنیاد جذب? عشق کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ اگر انسان تعمیل حکم الہی میں بعد از فرائض، ہر سانس ہر لحظہ اٹھتے بیٹھتے کروٹیں بدلتے اسی کا ذکر کرے، اسی کی حمد کرے، احوال لوں لوں دے مڈھ لکھ لکھ چشماں جیسا  ہو جائے تو یہی عشق اور یہی طواف ہے۔ ایمان والا دل (بطور جز) اس وقت بھنورے کی مانند اپنے محور (کل) کے گرد مطاف میں گردش طواف میں پیہم محو رقص رہتا ہے. حریم قلب میں تجلیات و انوار کی تنزیل ہوتی ہے۔ اس لمحہ خوشنودی الہ کا ورود عروج کرتا ہے۔  پھر عشقِ الٰہی کی گرمی اسے مدہوش کر دیتی ہے۔ وہ کیفیتِ فنا میں قربِ آفرینش کی نورانی لطیف حدت کے کیف کی گرفت میں گم ہو جاتا ہے، اور اپنے من کی گہرائیوں میں اتر کر وجود کے کائناتی تخلیہ میں "جز’’ (مخلوقات کثیر کا جہان) خود کو ‘‘کل’’ کے حضور حاضر کر دیتا ہے۔ تب کثرت، یکتائی کی طرف حالت نفی سے لمحاتی ادغام کرتی ہے اسی لمحے وہ کائناتی خاموشی میں الہامی کلام کی لذتِ آفرینی سے سرشار ہو جاتا ہے۔ اس لمحے جز (نورانی حالت میں) کے لبوں سے نکلتا لفظ لفظ حکم الٰہی کے درجہ پر فائز ہو جاتا ہے

اس باطنی واردات کی نورانی شعائیں پھر کردار، عمل، اور رویوں میں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ دین کی زبان میں "دل کی تصدیق" دراصل اسی باطنی گواہی کا نام ہے وہ اقرار جو شعور و یقین کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر کر جزوِ جاں بن جاتا ہے۔ قرآن مجید اسی کیفیت کو یوں بیان فرماتا ہے
‘‘یاد رکھو! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔’’ (الرعد)

یہ درجہ اسی وقت نصیب ہوتا ہے جب نفی و اثبات انسان کی نس نس میں سرایت کر جائے۔ ایمان بیج کی مانند ہے بیج میں درخت نظر نہیں آتا، لیکن جب اسے زمین میں بو دیا جائے تو وقت کے ساتھ وہ پھوٹ کر نمودار ہوتا ہے۔ پھر ڈال، کونپلیں اور پتے نکالتا ہے نمود کی یہ تمام جہات بیج کی ہی صورتیں اور شہادتیں ہیں۔ ایمان اور عمل کا تعلق بھی بیج اور درخت جیسا ہے۔ جب ایمان دل میں اترتا ہے تو وہ خون کی روانی کے ساتھ جسم کے ہر خلیے تک پہنچ جاتا ہے۔ تب ہر رگ و ریشہ ‘‘امرِ الٰہی’’ کا تابع بن جاتا ہے۔ اعمال اسی جذبہ اطاعت میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ جو عین، تصدیق اور ایمان ہیں۔ کیونکہ ‘‘اور تمام امور اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔’’ القران

دل کی تصدیق محض ایک نظری کیفیت نہیں رہتی، بلکہ ایک زندہ، فعلی اور محسوس حقیقت بن جاتی ہے۔ جب یقین دل کی گہرائیوں میں اتر جائے تو ایمان جڑ پکڑ لیتا ہے۔ تب انسان اس آیت کا حقیقی مفہوم سمجھنے لگتا ہے
‘‘نہ اْن (قربانی کے جانوروں) کا گوشت اللہ تک پہنچتا ہے، نہ اْن کا خون، بلکہ تمہارا تقویٰ تمہارے رب تک پہنچتا ہے۔’’ (الحج) یعنی قربانی کی اصل روح گوشت یا خون نہیں، بلکہ اس کے پیچھے پوشیدہ نیت اور اخلاص ہے۔ وہ نیت جو دل کے عرشی نہاں خانے، لاہوت میں خلوص کے ساتھ پنپتی ہے، وہی تقویٰ کی خوشبو بن کر بارگاہِ الٰہی تک پہنچتی ہے۔ ایمان اسی وقت کامل ہوتا ہے جب نیت کی مرکزیت خالصتاً اللہ کے لیے ہو، اور دل کا ارتکاز صرف اسی کی رضا پر قائم رہے۔جب دل اس راز سے آشنا ہوتا ہے تو وجود میں جاری خون کی بوند بوند یقین میں ڈھل جاتی ہے۔ پھر حباب نما وجود کے گنبدِ آبگینہ محیط میں نفی کے پردے شق ہوتے ہیں اور وجود، بعد از نفی، صرف صورتِ نور میں باقی رہ جاتا ہے۔ من کے آئینوں بھرے گنبد میں ہر سو اْسی کے جلووں کا عکس پھیل جاتا ہے۔ یہی ‘‘من عرفہ ربہ’’ کی کیفیت ہے۔ یہی نفی اثبات ہے ‘تب دل امام اور مخلوقات یعنی جہان وجود کے "سیلز" مقتدی ہو جاتی ہے، نتیجتاً پورا وجود یکجان و یکزبان ہو کر ذاکرِ الٰہی بن جاتا ہے۔ دل ‘‘اللہ’’ بولتا ہے تو محیط گنبد میں بیکنار وسیع و عریض فضائیں ‘‘اللہ ہو’’ کی صداؤں سے گونج اٹھتی ہیں۔ اس مقام پر اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ رسول ? ہی ترجیحِ اول اور ترجیح کل بن جاتی ہے۔ مومن جب اس درجہ? تصدیق پر فائز ہوتا ہے تو ایمان اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ یہی تصدیقِ بالقلب ہے، یہی معراجِ انسانیت ہے۔سالکین و عاشقین کے لیے دم بہ دم اور لمحہ بہ لمحہ یہی مطالعہ وحدت ہی دراصل تصدیقِ قلب کا طریق ہے۔ جب ‘‘میں’’ یعنی وجود فرد بالکلیہ مٹ جاتا ہے تو فقط اللہ باقی رہتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قطرہ سمندر میں فنا ہو کر اس کی بقاء￿  میں شامل ہو جاتا ہے۔اگر کلمہ کی اثر پذیری اس درجہ تک پہنچ جائے کہ عشق کی قوت سے انسان کے رگ و ریشے، خون کے ہر ذرّے، اور نگاہ کے ہر گوشے میں ‘‘اللہ ہو’’ کی تحریر اْبھر آئے تو پھر تحتِ افلاک سے عرشِ بریں تک ہر شے اس عبدِ صالح کے لیے ایک ہی حقیقت بن جاتی ہے۔ اْس کے باطن و ظاہر، جسم و روح، سانس و احساس سب میں ایک ہی صدا مسلسل  گونج اٹھتی ہے ‘‘اللہ ہو، اللہ ہو، جل من مزیدایمان کی "اصل" صرف اللہ جانتا ہے، مگر ایمان کے "اثرات" انسان اور سائنس دونوں محسوس کر سکتے ہیں۔
سبحان اللہ واللہ اعلم