ہمیں 30 منٹ پہلے پھانسی دی جانی تھی: شام کی جیلوں سے آزاد قیدیوں کی داستانیں

دمشق(آئی این پی ) بشار الاسد حکومت کا تختہ الٹنے اور باغیوں کی فتح کے بعد شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں سامنے آرہی ہیں۔ الجزیرہ نے سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو کی تصدیق کی جس میں ایک قیدی نے بتایا کہ ' قید میں میرا کوئی نام نہیں تھا، بس ایک نمبر تھا، مجھے بشار حکومت نے اٹھا کر قید میں ڈال دیا اور میرے گھر والے سمجھتے رہے کہ میں مر گیا۔ نوجوان نے بتایا کہ بہت سے دیگر افراد کو بھی ان کے گھر والوں کو بتائے بغیر جیل میں رکھا گیا اور انہوں نے سالوں جیل میں گزار دئیے۔ رپورٹ کے مطابق جیل سے آزاد ہونے والے کچھ اور افراد نے بتایا کہ انہیں آج کے دن کچھ دیر قبل  ہی پھانسی دی جانی تھی مگر اب وہ آزاد ہیں۔ ایک شخص نے بتایا ' مجھ سمیت 54 لوگوں کو آج کے دن  30 منٹ پہلے پھانسی دی جانی تھی مگر اب ہم آزاد ہیں،