آکاش علی
پاکستان کی موجودہ سیاست محض فیورٹ ازم میں ڈھل چکی ہے ہر سیاسی پارٹی کے کارکنان اپنی اپنی پارٹی کے نئے ترقیاتی منصوبوں کی بجائے الزام تراشی اور بحث و تکرار میں سر فہرست دکھائی دے رہے ہیں لیکن عوام کو درپیش مسائل کے حل کی نہ تو کوئی تجویز سامنے لائی جا رہی ہے اور نہ ہی کوئی اقدام نشر کیا جا رہا ہے اگر کوئی بیان سامنے آتا بھی ہے جو عوام کی سہولیات کے لئے ہو تو بہر حال اُسے حقیقی طور پر ایمپلیمنٹ نہیں کیا جا رہا۔ عوام کو بھی اپنی کھلی آنکھوں میں خواب در خواب سجانے کا عادی بنا دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ ابھی تک مزدور اور محنت کش طبقہ غربت کے مر حلہ سے باہر نکلنے میں نجات حاصل نہیں کر سکا اور ناممکن ہے جب تک یہ طبقہ اپنے بنیادی حقوق سے آگاہ ہو کر ہم آواز نہیں ہو گا اُس وقت تک اس طبقہ کو یہ کہہ کر کہ غربت ان کا نصیب ہے گمراہ کیا جاتا رہا ہے اور کیا جاتا رہے گا۔ یہ ملک صرف سرمایہ داروں وڈیروں جاگیرداروں یا سیاستدانوں کا نہیں بلکہ یہ ملک پاکستان میں سانس لینے والے ہر پاکستانی کا ہے۔ جب تک عوام فیورٹ ازم کو ترک کر کے ملک کے ترقی کے لئے کوئی لائحہ عمل اختیار نہیں کرتے اُس وقت تک ملک کی ترقی کا ہر راستہ مستر د
ر ہے گا۔ المیہ یہ ہے کے ہماری عوام کو ابھی تک ایک قوم بننے ہی نہیں دیا گیا مختلف فرقہ واریت اور قبیلہ پرستی میں تقسیم عوام ابھی تک صوبہ پرستی اور نسل پرستی کے زیر اثر زندگی گزار رہے ہیں۔ تیسری دنیا جو دنیا کے امن کے لئے خود کو فلیگ کی طرح لہرانے میں مصروف ہے درحقیقت وہی اس کھیل کے پیشہ ور مداری ہیں جن کے شاتر اور دماغی فتور کی وجہ سے مملکت پاکستان کو آج معاشی بدحالی کا سامنا ہے ۔ آپ ماضی میں جھانکیں تو آپ کو خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ برٹش نے برصغیر سے نکلنے کے لئے 5 دہائیاں لگائیں اور ان 5 دہائیوں میں انہوں نے وہ بنیاد یں رکھیں جن کا پاکستان کو آج تک سامنا ہے لیکن 77 سال گزر جانے کے بعد بھی اگر آج ہم سوچیں کہ ہمیں مزید ترقی کے لئے کیا کرنا ہے تو آپ کو صاف دکھائی دے گا کہ یہ جو زبان پرستی کا تعصب ہے اس کا بائیکاٹ سب سے پہلے ضروری ہے اس کے بعد فرقہ واریت کی تقسیم کو رد کیا جائے تا کہ ہم فرقہ وارانہ تعصب سے آزاد ہو کر اپنے ملک سے محب کا رشتہ نبھا سکیں۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں اپنی توجہ ملکی مفادات اور ترقی پہ مرکوز رکھنی ہو گی ورنہ یہ ممکن ہی نہیں کہ پاکستان سے کرپشن اور بد نظامی کا خاتمہ کیا جا سکے اور نہ ہی غربت کی دلدل میں دھنسی عوام کو خوشحالی حاصل ہو سکتی ہے۔
مسائل ہر ملک میں نمودار ہوا کرتے ہیں لیکن مسائل کا ازالہ بھی کیا جاتا ہے اگر دنیا کے مختلف ممالک میں خوشحالی کی لہر سفر کر سکتی ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں؟ یاد رکھئے یہ آواز جب تک ہر پاکستانی فرد کے ضمیر کی آواز نہیں بنے گی اُس وقت تک خوشحالی محض ایک خواب ہی رہے گی۔ اب یہ ضروری ہے کہ ہم خیالی زندگی کو ترک کر کے حقیقی جد و جہد میں اپنا اپنا عملاً کردار ادا کریں کیونکہ مفلس اور مظلوم بے بس عوام کی آواز کو جب تک ترجیح نہ دی جائے گی اس وقت تک ہر غیر اصولی اقدام یہاں جاری وساری رہے گا اس لئے مظلوم اور بے بس عوام کو
با اختیار ہونے کا راستہ فراہم کیا جائے تا کہ ہر طبقہ اپنا اپنا نظریہ سیاستدانوں کے سامنے پیش کر سکے جس سے عوام اور حکمران کا تعلق بحال ہو سکے اور سیاستدانوں کو بھی چاہیے کہ پاکستان کی ترقی اور دفعاء کے لئے اپنا نمایاں کردار ادا کریں کم از کم یہاں جن تقاریر اور نعروں پرووٹ حاصل کئے۔
جاتے ہیں انہی کے بدلے میں ہی بے بس عوام کو ان کے بنیادی حقوق تک رسائی دی جائے اور جمہوریت کی پاسداری کی جائے تاکہ آئندہ بھی عوام ان کی قیادت کو قبول کریں اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر عوام کا بھروسہ سیاستدانوں سے اُٹھ جائے گا اور جو بچا کچا فیورٹ ازم رہ گیا ہے اس کی حثیت بھی بے اختیار ہو جائے گی۔ ملک سیاسی کھیل کے لئے کوئی میدان نہیں ہے یہ ملک 24 کڑور عوام کے بہترین مستقبل کی راہ گزر ہے آئیں مل کر سوچ کو بدلیں تا کہ بد نظامی سے ہر کسی کو آزادی حاصل ہو سکے۔ دنیا مانتی ہے کے کسی بھی ملک کے ستون اُس ملک کے عوام ہوا کرتے ہیں اس لئے لازم ہے کہ عوامی مسائل کو غور و فکر کی نگاہ ڈالتے ہوئے سلجھایا جائے اس سے پہلے کہ عوام اشتعال کی صورت اختیار کر کے خود کشیوں کو ترجیح دینے لگیں، جس سے ملک کے مفلس عوام کو اپنی زندگیوں کو ہاتھ دھونا پڑے اور دنیا کی نظر میں پاکستان کو عالمی سطح پر ہیومن رائٹس کی نظر میں بھی رسوا ہو نا پڑے یا در رکھئے عالمی سطح پہ ہمیں اپنے ملک کا ایمج ایک خوش نما ایمج بنا کر دکھانا ہوگا۔