تصور حسین شہزاد
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر اور جہانِ تشیع کے رہبراعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای اپنے اجداد کی سنت پر عمل کرتے ہوئے حق اور اسلام کی سربلندی کیلئے قربان ہو گئے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے پہلے روز اپنے چند اہلِ خانہ سمیت شہید ہوئے تھے۔ اْن کیساتھ ایران کے کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور مشیران بھی شہید ہوئے جن میں میجر جنرل عبدالرحیم موسوی، ریئر ایڈمرل علی شمخانی اور میجر جنرل محمد پاکپور شامل تھے۔ شہداء کی نماز جنازہ ’’مصلیٰ امام خمینی تہران‘‘ میں ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اڑہ ای، شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے تین بیٹے مسعود خامنہ ای، میثم خامنہ ای اور مصطفیٰ خامنہ ای سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کفر کے حلقوں پر لرزہ طاری ہے۔ مزید پریشانی شہید کے جنازے نے پیدا کر دی۔ یہ جنازہ کوئی عام جنازہ نہیں تھا، بلکہ ایک ریفرنڈم تھا۔ جس نے عصرِ حاضر میں حق اور باطل کے درمیان حدِفاصل کھینچ کر ثابت کر دیا کہ اس بار بھی جان قربان کرنے والے ہی فاتح ٹھہرے ہیں، اور جو زندہ ہیں، وہ محض لاشیں اور مردہ ہیں۔ پہلی بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی نیوز ویب سائٹ ’’ایگزیوس‘‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں اعتراف کرنا پڑا کہ ’’لوگوں کو روتا ہوا دیکھ کر مجھے احساس ہوا لوگ تو ان (سید علی خامنہ ای) سے محبت کرتے ہیں، مجھے تو لگا تھا کہ لوگ نفرت کرتے ہیں‘‘۔ دنیا کا شائد یہ پہلا جنازہ ہے، جس میں غیر جانبدار حلقوں کے مطابق اڑھائی سے تین کروڑ لوگوں نے شرکت کی ہے۔ اس نمازِ جنازہ میں دنیا بھر سے 120 سے زائد ممالک کے اعلیٰ حکومتی و سیاسی نمائندوں، سربراہان اور وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ روس، چین، پاکستان، بھارت، ترکی، عراق، قطر، عمان، مصر، لبنان، آذربائیجان، افغانستان، بنگلہ دیش، ملائیشیا، سری لنکا، ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان، آرمینیا، جارجیا، کیوبا، سربیا، تیونس، کانگو، گھانا، نمیبیا، میانمار، تھائی لینڈ، گیمبیا اور نکاراگوا سمیت متعدد ممالک کے سرکاری وفود شریک ہوئے۔ مختلف ممالک سے آنے والے اعلیٰ حکام، مذہبی اور سیاسی شخصیات کی آمد کے پیش نظر سکیورٹی فورسز کی نفری میں اضافہ کیا گیا تھا اور باقاعدہ ٹرمپ پر واضح کیا گیا تھا کہ جنازے پر حملے کی حماقت کی گئی تو اس کا ردعمل فوری اور شدید ترین ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے بھی بیان جاری کر دیا کہ نماز جنازہ کی ادائیگی کیلئے ایران کیساتھ جنگ بندی کرکے اسے مہلت دی گئی ہے۔ ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنی تقریر میں ایران کا بھی ذکر کیا۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جو طوفان کے باعث کئی گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی، صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ انسانی تہذیب کی سب سے عظیم کامیابی ہے اور اب ان کی قیادت میں اپنی شان و شوکت کے عروج پر ہے۔امریکی صدر نے ایران کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ہم نے ایران کی عسکری قوت کو تباہ کر دیا ہے۔ دنیا میں اگر جھوٹ بولنے پر کوئی ایوارڈ ہوتا، تو اس کے اصلی حقدار ڈونلڈ ٹرمپ ہی ہوتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو دنیا میں سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والے حکمران کا ’’ایوارڈ‘‘ لازمی ملتا۔ وہ جو دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکہ نے ایران کی عسکری قوت کو تباہ کر دیا ہے، تو ایک تباہ حال ملک سے معاہدے اور مذاکرات کی بھیک
کیوں مانگ رہے ہیں؟ ایران کا ہر مطالبہ ماننے پر تیار نظر آنیوالا ٹرمپ، دوسری جانب جھوٹ بولنے سے بھی باز نہیں آتا۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں جو زیادہ قابل دید منظر تھا وہ ’’سرخ پرچم‘‘ تھے، جو انتقام کی علامت ہیں۔ نمازِ جنازہ کے بعد تقریب میں سید علی خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے اور انتقام کے نعرے بھی لگائے گئے۔ جوانوں کیساتھ ساتھ بزرگ اور خواتین بھی اس معاملے میں بڑی پرجوش دکھائی دیں اور سب کی زبان پر ایک ہی مطالبہ تھا کہ ہم اس خون کا بدلہ لیں گے۔ ایرانی ایک تحمل مزاج قوم ہیں، وہ مشتعل نہیں ہوتے، تحمل اور ٹھنڈے دماغ سے فیصلے کرتے ہیں اور ان کے فیصلے فریق مخالف کو جھکنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یہ ایرانی حکمت عملی ہی تھی کہ جس نے ٹرمپ کو نیتن یاہو کیساتھ جھگڑا کرنے پر مجبور کر دیا۔ اب امریکہ میں موجود اسرائیل نواز حلقوں نے معاملہ ٹھنڈا کیا ہے، اور توقع ہے کہ جلد ہی نیتن یاہو وائیٹ ہاوس کا دورہ کریں گے اور ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرکے معاملہ سلجھائیں گے۔ نماز جنازہ میں شرکت کیلئے پاکستان سے جانیوالے وفد کی قیادت وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کی، جبکہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، بلاول بھٹو زرداری، محسن نقوی، عطااللہ تارڑ، سید یوسف رضا گیلانی، سردار ایاز صادق اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی وفد کا حصہ تھے۔ پاکستانی وفد نے ایرانی حکام سے تعزیت کی اور اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ جبکہ عوام کی جانب سے نماز جنازہ میں سرخ پرچموں کیساتھ شرکت قاتلوں سے انتقام لینے کا مطالبہ تھا۔ جس پر ایران کی فوج کے کمانڈر میجر جنرل امیر حاتمی کو بیان دینا پڑا کہ سپریم لیڈر کو شہید کرنے والوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایرانی قوم اور مسلح افواج انہیں انجام تک پہنچانے سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گی اور ان سے حساب لیں گے۔ میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ شہید سپریم لیڈر نے عزت، وقار، آزادی اور سربلندی کے راستے کا تعین کیا تھا اور اس راستے پر قوم کی رہنمائی کے لیے تمام ضروری بنیاد بھی فراہم کر دی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں فخر ہے کہ ہم نے آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں کام کیا اور آئندہ بھی نئے رہبرمعظم کی قیادت میں اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔ اب ایران کی شہداء کا بدلہ لینے کیلئے کیا حکمت عملی ہوتی ہے، یہ آنے والا وقت بتائے گا البتہ ایران دنیا بھر سے حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہا جبکہ امریکہ کی 250ویں آزادی کی تقریبات میں ویرانی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کو تنہا کرنیوالا امریکہ خود دنیا میں اکیلا ہو گیا ہے۔