کتھارسس

زاہد انصاری
چند روز قبل اسلام آباد پمز ہسپتال میں وفات پا جانے والے ایک شخص کو اسلام آباد الشفاء￿  ہسپتال میں سات روز رکھنے کے بعد مردہ قرار دیا گیا اور مرنے والے کے ورثاء￿  سے بھاری رقم وصول کی گئی 
یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر گردش کرتے کرتے میری نگاہ سے گزری تو سوچا کیوں نا آج میں اپنا یعنی خود کا کتھارسس کروں کیوں نہ آج میں خود میں چھپی خامیوں کو جانچنے کی کوشش کروں کیوں کہ مجھے یہ پوسٹ پڑھ کر ایسا محسوس ہوا کہ شاید میں بھی اسی سسٹم کا حصہ ہوں کچھ خرابی میری وجہ سے بھی ضرور ہوگی تو قارئین میری یہ تحریر میرا خود کا کتھارسس کرنے کیلئے ہے نہ کہ کسی برے کو برا کہنے کیلئے
قارئین کرام ہم بحیثیت مسلمان بحیثیت امت رسول دنیا میں خود کو بہت ہی اعلٰی و ارفع تصور کرتے ہیں اور پوری دنیا میں دو شعبے ایسے ہیں جنہیں نہایت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ایک شعبہ تدریس کا اور دوسرا شعبہ ڈاکٹرز کا یعنی معالج کا کیوں کہ اگر استاد انسان کو تعلیم سے آراستہ کرتا ہے تو ڈاکٹر انسان کی جان بچانے میں کردار ادا کرتا ہے قارئین یاد رہے کہ میں نے لفظ انسان کا انتخاب کیا ہے کسی بھی مذہب یا مسلک کا نہیں
تو بات نکلی تھی پمز ہسپتال سے نکلی ہوئی ڈیڈ باڈی کی جسے الشفاء￿  ہسپتال اسلام آباد میں پورے سات دن رکھنے کے بعد مردہ کو مردہ قرار دیا گیا تو بحیثیت مسلمان اور بحیثیت انسان ہم کس راہ پہ چلتے جا رہے ہیں اور ہماری منزل کون سی ہے کیا پاکستانی ہونے اور اس معاشرے کا حصہ ہونے کی صورت میں اس گھناؤنے نظام کا میں بھی حصہ ہوں؟؟؟
بہت زیادہ سوچ بچار کے بعد میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ہاں میں بھی اس مردار لاش کا گوشت کھا رہا ہوں میں بھی اس فرسودہ نظام کا حامی اور حصہ ہوں کیونکہ میں نے کبھی کسی جاہل سکول مالک کو اس کی جاہلیت پہ سرزنش تو کیا کبھی اس کی حوصلہ شکنی تک نہیں کی بلکہ میں نے اسے اپنی نسلوں کو سنوارنے کا کام سونپ رکھا ہے میں نے ایسے کئی جاہلوں کو جاننے کے باوجود بھی کبھی ان کے خلاف بولنے یا لکھنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی تو پھر میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ میں اعلٰی ظرف انسان ہوں میں یہ دعوٰی کیسے کر سکتا ہوں کہ میں اس معاشرے کا معزز انسان ہوں اب اگر ایک جاہل کچھ پڑھے لکھے لوگوں کا پرنسپل بن کر معاشرے میں تعلیم کے فروغ کیلئے کام کرے گا تو وہ کام کیسا ہوگا ؟
میرے ملک میں ہزاروں ایسے تعلیمی ادارے ہیں جن کے مالکان نے چند ہزار روپے پہ ٹیچرز بھرتی کئے ہوئے ہیں اور خود ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ کے عہدہ پہ فائز ہو کر معاشرے کو ڈبونے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں 
اسی طرح دوسرا شعبہ ہیلتھ کا بعینہ بہت سے جاہل اور انپڑھ لوگوں نے پیسے کے بل بوتے پر اچھی بلڈنگ میں اچھا سامان لگا کر ڈگری ہولڈر ڈاکٹرز کو کمیشن اور تنخواہ پہ رکھا اور خود کے دفتر کے باہر سی ای او یا ڈائریکٹر کی پلیٹ آویزاں کر کے معزز ہو گئے تو جناب من جہاں تنخواہ کے ساتھ ساتھ کمیشن بھی ملے تو پھر مردہ کو مردہ قرار دینے میں وقت تو لگے گا ہی
کسی دانا نے کہا تھا کہ اے مسلمان تو نے نماز بھی پڑھی روزہ بھی رکھا حج بھی کئے لیکن تیری ذلالتیں ختم نہ ہو سکیں تو اے مسلمان ایک بار ایماندار ہو کر دیکھ لے شائد تیری تقدیر بدل جائے اور تجھے دنیا میں معزز کر دیا جائے
قارئین یہ سوشل میڈیا بھی بڑا ظالم ہے اس میں بہت سارے لوگ جعلی پارسا اور جعلی معزز بن کر چھپے بیٹھے ہیں لیکن اب ہمیں ان کا پردہ فاش کرنا ہوگا اب ایک ایک کر کے اس فرسودہ نظام کو بدلنے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تو یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں گے کہ کہیں میں بھی تو اس نظام کو برقرار رکھنے میں شامل تو نہیں ہمیں اپنا اپنا کتھارسس کرنا ہوگا