لیاقت بلوچ
اسلام محبت اوراخوت کا دین ہے؛ اسلام چاہتا ہے کہ تمام لوگ محبت،پیار اوراخوت کے ساتھ زندگی بسر کریں مگر قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں محبت کوغلط رنگ دے کرمحبت کے لفظ کو بدنام کردیا گیا اور معاشرے میں محبت کی بہت ساری غلط صورتیں رائج کردی گئی ہیں۔اِس کی ایک مثال عالمی سطح پر ''ویلنٹائن ڈے '' کا منایا جانا ہے۔ ہر سال 14 فروری کو عالمی یومِ محبت کے طور پر '' ویلنٹائن ڈے'' کے نام سے منایا جانے والا یہ بیہودہ تہوار اور اس جیسی دیگر خرافات کے ذریعے پاکستانی معاشرے کو دیمک زدہ کرنا مذموم عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا واحد مقصد مسلم معاشروں کے دینی، تہذیبی اقدار کو پارہ پارہ کرکے معاشرے میں بیراہ روی، مادرپدر آزادی اور عوام بالخصوص نوجوان طبقے کے اخلاق و کردار کو تباہ کرنا ہے۔ معاشرے کو تباہی و بے راہ روی کے راستے پر لگانے والے اس بے ہودہ مغربی تہوار کی تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ، اسلامیانِ پاکستان نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں مذمت اور مخالفت کی ہے اور اِسے کسی بھی معاشرے کے لیے زہرِ قاتل قرار دیا ہے۔مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام نے ویلنٹائن ڈے جیسے بیہودہ تہوار کے خلاف فتاویٰ بھی جاری کیے ہیں اور اِسے معاشرے میں بے حیائی، بے شرمی اور بے غیرتی پھیلانے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
کوئی بھی مسلمان نہیں چاہتا کہ اسی کی بہن بیٹی کسی نامحرم کو پھول یا تحائف پیش کرے۔ تاہم ہمارے معاشرے میں موجود ایک چھوٹا سا لبرل طبقہ اس تہوار کے فروغ کے لیے سرگرداں نظر آتا ہے۔ مسلم نوجوان لڑکوں، لڑکیوں کا وہ طبقہ جو بدقسمتی سے اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہے، وہ بھی غیرشعوری طور پر اس بیہودہ، مخربِ اخلاق اورمعاشرتی تباہی پر مبنی تہوار میں حصہ ڈالتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ایسے لبرل مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے یہ تو جان لیں کہ یہ دن کیوں یا کس کی یاد میں منایا جاتا ہے یا اس کا پسِ منظر (back ground)کیا ہے؟ اس تہوار کی حقیقت کیا ہے؟ ایک مسلمان ہونے کے ناطے اس کا منانا جائز ہے یا ناجائز اور اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
ویلنٹائن ڈیکاتاریخی پس منظر کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک پادری تیسری صدی عیسوی کے آخر میں رومی بادشاہ کے زیر حکومت رہتا تھا۔ کسی نافرمانی کی وجہ سے بادشاہ نے پادری کو جیل میں بند کردیا۔ دورانِ اسیری اْس پادری کی جیل کے چوکیدار کی لڑکی سے علیک سلیک ہوگئی اور دونوں ایک دوسرے کے "عشق" میں مبتلا ہو گئے، یہا ںتک کہ اس لڑکی نے نصرانیت قبول کرلی۔ وہ لڑکی ایک سرخ گلاب کاپھول لے کر اسیر پادری کے پاس آنے لگی۔ جب بادشاہ کو اس معاملے کا علم ہوا تو اس نے پادری کو پھانسی دینے کا حکم دے دیا۔ پادری کو جب یہ پتا چلا تو اس نے سوچا کہ آخری لمحات اپنی معشوقہ کے ساتھ گزارے۔ چنانچہ اس نے اس کے پاس ایک کارڈ بھیجا جس پر لکھا تھا ’’مخلص ویلنٹائن کی طرف سے‘‘ پھر اس پادری کو 14فروری کے دن پھانسی دے دی گئی۔ بس اس دن کے بعد سے یورپ میں ہر سال اس تاریخ کو لڑکوں کی طرف سے لڑکیوں کو کارڈبھیجنے کا رواج چل پڑا۔ آج یورپی ممالک اور بدقسمتی سے بعض اسلامی ممالک میں بھی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں یہ دن بڑے زور و شور سے مناتے ہیں۔اس موقع پر کارڈ اور خاص طور سے سرخ گلاب کے پھول پیش کیے جاتے ہیں اور مختلف رنگین محفلیں سجائی جاتی ہیں۔ افسوس کہ مسلمان معاشرہ بھی اس قسم کی بے ہودہ رسم کا شکار ہورہا ہے، حالانکہ یہ ایک خالص غیر مسلم بلکہ کسی بھی معاشرے کے لیے تباہ کْن غیر اخلاقی تہوار ہے۔اسلام میں ویلنٹائن ڈے منانا ، سرخ گلاب کا پھول یا اس نوعیت کے تحفے تحائف دینا قطعاًجائز نہیں کیونکہ دینِ اسلام کی تعلیمات میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن جب ہم مسلمان ہوکر بھی یہ دن مناتے ہیں تو اسلام دشمن عناصر بہت خوش ہوتے ہیں کہ مسلمان بھی اس کاشکار ہو رہے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اسلامی تہواروں میں غیر مسلموں کو اس زوروشور سے شامل ہوتے ہوئے دیکھا ہے؟ ہرگز نہیں۔شریعت اسلامیہ کا اس بارے میں موقف جاننے کے لیے درجِ ذیل احادیثِ مبارکہ سے رہنمائی ملتی ہے۔ حضرت ابو سعید خدریؒ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ؐ نے فرمایا ’’تم لوگ اپنے سے پہلی قوموں(یہود ونصاریٰ) کی قدم بقدم پیروی کروگے،اگر وہ لوگ گوہ کے سوراخ میں داخل ہونگے توتم لوگ اس میں بھی داخل ہونے کی کوشش کروگے، آپ ؐ سے پوچھا گیا کہ پہلی قوم سے آپ کی مراد یہودو نصاریٰ ہیں؟ تو آپ ؐنے فرمایا پھر اور کون؟‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔ اس حدیثِ مبارکہ میں نبی ؐ نے یہ خبر دی ہے کہ اْمتِ محمدیہ ؐکے کچھ لوگ ہر بْرے اور خلافِ شرع کام میں یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پر چلیں گے اور بغیر سوچے سمجھے ان کی تقلید میں مبتلا ہوجائیں گے۔اِس حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں مسلمانوں کو اس بات پر غور کرنا ہو گا کہ 14فروری کو یہ دن منا نا ہمارے لیے جائز ہے یا ناجائز؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس سے دینِ اسلام بلکہ کسی بھی آسمانی کتاب یا مذہب کا کوئی تعلق نہیں، پھر بھی ہم اس کو منائیں تو یہ ہماری بد بختی نہیں تو اور کیا ہے؟ ایک طرف ہم اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کی باتیں کریں تو دوسری طرف یہود و نصاریٰ کے طور طریقوں کو بے سوچے سمجھے اپناتے چلے جائیں تو یہ کہاں کی عقلمندی اور کیسا اسلام ہے؟ اسلام میں نامحرم مرد و عورت کا آپس میں اختلاط سختی سے منع ہے ، تو پھر ہماری نئی نسل کا اس بے ہودہ رسم کی پیروی کرتے ہوئے غیرمحرم مرد یا عورت کو پھول اور کارڈ پیش کرنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟
پاکستان میں جب ویلنٹائن ڈے کی روایت عروج پر پہنچی تو محبِ دین، محبِ وطن نوجوانوں نے اسے یوم حیاء کے طور پر منانا شروع کردیا۔ اس روایت کو شروع کرنے کا سہرا اسلامی جمعیت طلبہ کے سر ہے،پاکستان میں پہلی مرتبہ ’’یوم حیا‘‘ منانے کا فیصلہ 9فروری 2009ء کو پنجاب یونیورسٹی لاہور میں کیا گیا۔ ویلنٹائن کے مقابے میں اس روز کو ’’یوم حیا ‘‘ کا نام اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ پنجاب کے ناظم قیصر شریف نے دیا ،انہوں نے 9 فروری کو اعلان کیا کہ پنجاب یونیورسٹی میں 14فروری 2009 کو ویلنٹائن کی بجائے ’’یوم حیا ‘‘ منایا جائے گا۔ اگلے سال جب قیصر شریف اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب کے ناظم بنے تو انہوں نے ’’یوم حیا ‘‘ کو 14 فروری 2010 کے روز پورے صوبے میں جوش وخروش سے منانے کا فیصلہ کیا اور پھر 2011ء میں پورے پاکستان میں ٰ’’ یوم حیا‘‘ منانے کا سلسلہ چل پڑا جسے اگلے سال یعنی 2012ء سے پوری دْنیا میں باقاعدگی کیساتھ منایا جانے لگا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ’’یوم حیا ‘‘ کے بانی قیصر شریف صاحب ہیں جو اس وقت جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ہیں۔
اب 14 اپریل کو دنیا بھر میں جہاں ایک طبقہ سرخ پھولوں کا تبادلہ کرتا ہوا نظر آتا ہے تو وہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کی ایک غالب اکثریت اس دِن کو ‘‘یوم حیا ء ’’ کیطور پر مناتی ہے۔ یوم حیاء منانے کا مقصد محبت کے نام پر ہونے والی فحاشی و عریانی کے خلاف حجاب، شرم و حیاء اور اسلامی اقدار کو پروان چڑھانا اور مسلم نوجوان لڑکوں، لڑکیوں کو اس بیہودہ اور مخربِ اخلاق رسم سے بچانا ہے۔یوں حیاء ڈے پاکستان سمیت دْنیا بھر میں بیراہ روی کو روکنے کے حوالے سے ایک اچھی اور مقبولِ عام روایت بن گئی ہے۔
ملائیشیا کی حکومت نے سرکاری طور پر ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ ملائشین حکومت کا مؤقف ہے کہ ویلنٹائن ڈے نوجوانوں کو برباد کر کے اخلاقی پستی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ملائیشیا میں 14 فروری کے دن اگر کوئی کسی کو عوامی جگہ پر پرپوز کرتا ہے تو اس کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ سال 2010 میں حکومت ایران نے بھی سرکاری طور پر ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ایرانی حکومت نے کہا کہ یہ مغربی ثقافت ہے اور ناجائز تعلقات کو فروغ دیتی ہے۔ اس دن اگر کوئی غیر شادی شدہ جوڑا ڈانس کرتا نظر آئے تو انہیں ایران میں جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب، ازبکستان سمیت چند دیگر ممالک میں بھی ویلنٹائن ڈے سرکاری طور پر نہیں منایا جاتا۔
پاکستان میں بھی جب پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں بالخصوص حکومتی سرپرستی میں ہماری اسلامی اقدار کو تاخت و تاراج کرنے کے لیے دیگر خباثتوں کیساتھ ساتھ ویلنٹائن ڈے کو بھی یہاں رواج دیا گیا تو اس کے خلاف 2017ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک شہری کی طرف سے پٹیشن دائر کی گئی۔ فریقین کو سْننے کے بعد جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے عوامی سطح پر ویلنٹائن ڈے کی تقریبات کو مسلم ثقافت کے منافی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کر دی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نیسرکاری سطح پر ویلنٹائن ڈے منانے اور میڈیا پر اس کی تشہیر نہ کرنے کا حکم جاری کیا اور اسلام آباد کی انتظامیہ کو بھی حکم دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ عوامی مقامات پر ویلنٹائن ڈے نہ منایا جائے۔عدالت نے اپنے حکم نامے میں وزارت اطلاعات اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے حکام سے کہا کہ پرائیویٹ میڈیا ہاؤسز کو ایسے پروگرامات کی کوریج سے بھی روکا جائیاور جو میڈیا ہاؤس ویلنٹائن ڈے کی کوریج کرے اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شرم و حیا، عفت و عصمت اور پاکدامنی مسلم معاشرے کی پہچان اور اہل اسلام کا طرہ امتیاز ہے جبکہ ویلنٹائن ڈے یوم بیحیائی اور ناجائز و نام نہادمحبت کے غیراخلاقی اظہار کا نام ہے۔ یہ تہوار اسلام کے مضبوط خاندانی نظام کی تباہی و بربادی اور نوجوان نسل کی جنسی بے راہ روی کا سبب ہے۔ یہ تہوار بے حیائی،فحاشی، عریانی، لھو و لعب، میوزک، ناچ گانا، اسراف اور دیگر غیر اخلاقی کاموں اور گناہوں پر مشتمل ہوتا ہے جن سے نام نہاد ناجائز محبت، عشق و عاشقی اور جنون و دیوانگی جنم لیتے ہیں جن کا نتیجہ زنا، ہم جنس پرستی، فعل قوم لوط، گینگ ریپ وغیرہ کی شکل میں نکلتا ہے، جن کی بنا پر لوگ اللہ تعالی کی بہت زیادہ نافرمانی کے مرتکب ہو کر اللہ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔قرآن پاک کی سورہ النور میںاللہ رب العزت کا ارشاد گرامی ہے:
ترجمہ: (بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پھیل جائے، ان کے لیے دنیا وآخرت میں درد ناک عذاب ہوگا، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے)۔
یعنی وہ تمام ذرائع و وسائل جن سے فحاشی وعریانی اور بے حیائی کی اشاعت ہو، بے راہ روی اور اخلاق باختگی کے دروازے کھلیں, ممنوع اورحرام ہیں۔ مسلمان قوم کی اپنی الگ پہچان, اپنا الگ تشخص اور اپنی الگ تہذیب و ثقافت ہے جوکہ مغرب اور مغربی تہذیب سے بہت ممتاز، خوبصورت، جامع اور فطرت کے قریب تر ہے۔ اگر مسلمان اپنی تہذیب کو بھلاکر کر اغیار کی نقالی کریں گے تو یہ سراسر خسارے کا سودا اور دْنیا و آخرت میں اللہ اور خاتم الانبیاء والمرسلین حضرت محمد مصطفٰیؐ کی شدید ناراضگی اور قیامت تک کے انسانوں کے لیے اللہ کے پسندیدہ اور اکمل دینِ اسلام سے واضح روگردانی ہوگی۔ بقول اقبال
اپنی مِلت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاصہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
عالمی بے حیائی اور اباحیت پر مبنی ویلنٹائن ڈے کو روکنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو خدانخواستہ مغربی معاشرے میں موجود بے حیائی، فحاشی، عریانی، نکاح کی بجائے آزاد جنسی ملاپ اور نتیجتاً ایچ آئی وی ایڈز جیسے لاعلاج موذی مرض کا تیزی سے پھیلاؤ، ہم جنس پرستی وغیرہ کے منفی اثرات و نتائج ہمارے معاشرے میں بھی تیزی سے فروغ پانا شروع ہوجائیں گے(جس کے آثار کافی حد تک اس وقت پاکستانی معاشرے پر پھیلتے ہوئے نظر بھی آرہے ہیں)۔
ویلنٹائن ڈے کی ترویج کرنے والے سیکولر، لادین عناصر یہ بیبنیاد اور گمراہ کْن تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کی مخالفت معاشرے میں محبت کی مخالفت ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام ہی محبت کا سب سے بڑا داعی ہے۔ اللہ اور اس کے رسول سے محبت عبودیت کا اہم حصہ اور مقصد زندگی ہے۔ والدین سے محبت، رشتہ داروں سے محبت، میاں بیوی کا باہمی رشتہ، اولاد سے محبت، یہ فطری محبتیں نہ کسی موسم کی پابند ہیں نہ ہی کسی تاریخ کی۔ جبکہ دوسری طرف ویلنٹائن ڈے کے نام سے جس محبت کی بات کی جاتی ہے، یہ محبت کے نام پر زنا، جنسی بیراہ روی کا فروغ اور محبت جیسیخوبصورت نام کا مذاق ہے۔ یہ محبت نہیں بلکہ جنسی ہوس ہے؛ یہ محبت نہیں بلکہ آوارگی و فحاشی اور بے حیائی ہے؛ یہ محبت نہیں بلکہ اسلام کے خاندانی نظام پر نقب ہے اور یہ محبت نہیں بلکہ نوجوان نسل کی تباہی و بربادی کا تازیانہ ہے۔
اسلام دینِ فطرت ہے۔ اسلام معاشرے میں رواداری، محبت، امن و سلامتی کے فروغ پر زور دیتا ہے۔ کس سے اور کیسے محبت کرنی ہے؟ اسلامی شریعت اس حوالے سے مکمل راہنمائی فراہم کرتا ہے:
1 غض بصر(یعنی اپنی نگاہوں کو پست رکھنا): مومنین کی بڑی اہم صفت ہوتی ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اور آنکھوں کی خیانت اور دیگرگناہوں سے بچتے ہیں۔اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں سور? النور میں ارشاد فرمایا ہے
ترجمہ: ]اے نبی کہہ دیجئے مومن مردوں سے کہ وہ اپنی نگاہوں کو پست رکھا کریں اور اپنے شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں، یہ اْن کے لیے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں اللہ اْن کی خوب خبر رکھتا ہے)۔
2 حفظ فرج (یعنی شرمگاہ کی حفاظت کرنا): مومنین اپنی شرم و حیا اور عزت و عصمت کی حفاظت کرتے ہیں اور اپنے ستر کو کسی غیر محرم کے سامنے نہیں کھولتے۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے سورہ المومنون میں ارشاد فرمایا ہے کہ:
ترجمہ: (اور وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں)۔
3 فروغ حیا (یعنی حیا کو عام کرنا): حیا ایمان کا حصہ ہے اور اس کے بغیر کامیاب زندگی ممکن نہیں ہو سکتی۔ حضور نبی کریم? کا ارشاد مبارک ہے کہ:
الحیاء من الایمان۔ (صحیح بخاری:24)
ترجمہ: (حیا ایمان کا حصہ ہے)۔
حیاء صرف بھلائی اور خیر و برکت کا باعث بنتی ہے۔ حیاء انسان کے اندر بہت ساری مثبت صفات پیدا کرکے اْسے انمول موتی کی طرح قیمتی بنا دیتی ہے۔ ایک اور حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ "اگر تم میں حیاء نہ رہے تو پھر جو مرضی کرتے پِھرو۔"
4 اعراض (یعنی جاہلوں سے منہ پھیر کر ان سے بے توجہی برتنا): مومنین جہالت اختیار کرنے والوں کی سرگرمیوں میں شمولیت اختیار نہیں کرتے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ:
ترجمہ: ( اور وہ لغو (یعنی بے مقصد کاموں) سے اعراض کرتے ہیں)۔
قرآن و حدیث کے مذکورہ بالا حوالہ جات اور واضح تعلیمات کی روشنی میں ہر مسلمان مرد و عورت پر لازم ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے معاشرے کے افراد کو بیراہ روی پر ڈالنے والے ویلنٹائن ڈے جیسے بیہودہ، اخلاق باختہ اور غیراسلامی تہوار کی مخالفت اور مذمت کرے اور اس دن شرم و حیا اور عزت و عصمت کے فروغ پر مبنی حیاء ڈے منانے کو اپنا شعار بنائے۔ ہمارے دینی فرائض میں بھی یہ شامل ہے کہ ہم اپنی اسلامی اقدار و روایات کی حفاظت کریں اور معاشرے میں بے حیائی کے فروغ کو روکیں اور حیا کے چلن اور طور طریقوں کو عام کریں، خصوصاً خواتین میں حجاب اور پردہ کے کلچر کو پروان چڑھائیں، نہ صرف اپنے اقوال و افعال کے ذریعے بلکہ اپنے کردار کے ذریعے بھی ہم بھلائی اور حیا کے علم بردار بنیں۔ تاکہ یومِمحشرکو شرمندگی سے بچ سکیں اور اللہ سبحانہ وتعالٰی اور خاتم الانبیاء والمرسلین، رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفٰیؐکے حضور سرخرو ہوکر پیش ہوسکیں۔
اگر ہم نے بیحیائی کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کی کوشش نہ کی اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو پھر کہیں ہمارا معاملہ یہ نہ ہو جائے کہ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔
۔۔۔۔۔ ٭۔۔۔۔۔