ہر پاکستانی ملکی ترقی میں کردار ادا کرے

طلعت بٹ
سوال کو سمجھنا نصف جواب کے برابر ہے ! سقراط کے اس چھوٹے سے جملے میں زندگی کی حقیقت پوشیدہ ہے۔ ہم کسی کے سوال کا جواب دینے سے پہلے خود کو سچا اور سوال کرنے والے کو جھوٹا ثابت کرنے کی تیاری میں اصل مسئلہ سمجھنے سے قبل جواب حاضر کرنا چاہتے ہیں۔ زندگی کے کسی بھی شعبہ میں جھانک کر دیکھ لیں ہر کسی کو اپنا کردار دوسروں کی نسبت زیادہ پاکیزہ دکھائی دے گا۔ جبکہ جس شخص کو بھی دیکھا دوسروں کی خامیاں نکالنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ میرا مقصد کسی کی برائی کرنا نہیں ہے بلکہ معاشرے میں پنپ رھی اس منطق  کی طرف اشارہ ہے۔ پاکستان میں عام آدمی اگر کسی دفتر یا دوکان پر کسی غرض سے جاتا ہے تو اس کا پالا ایک ایسے انسان سے پڑتا ہے جو ہر طرح سے اس کے معاملے کو الجھا کر اپنا الو سیدھا کرنے کے چکر میں نظر آتا ہے۔ بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر شخص دوسرے شخص کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہا ہے۔ میں کسی بھی شخص کے دین ایمان پر شک نہیں کر رہا ہاں یہ ضرور آپ کے  گوش گزار کر رہا ہوں کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کو بیوقوف بنا رہا ہے۔ میرا ملک دنیا بھر میں بہت سی اچھی چیزوں میں سب سے آگے ہے مگر زندگی کے چاروں طرف عجیب مصنوئی غلاف لپٹا ہوا ہے اور شب و روز یہ تماشہ صدیوں سے دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پاکستان میں جعلی دستاویزات اور مصنوعات کھلے عام چل رہی ہیں ادویات اور دودھ تک خالص دستیاب نہیں۔ اگر اسی طرح یہ سب کچھ چلتا رہا تو جلد ہی ملک میں عجیب انتشار پیدا ہو جانے کا خطرہ نظر آ رہا ہے۔ جس کا ذکر کرنا مجھے بھی ناگوار گزر رہا ہے۔ مگر کچھ حقائق ایسے ہیں جن سے روح گردانی منافقت کے مترادف اور روشنی ڈالنا معاشرے میں شعور اجاگر کرنا ہے میری کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کی اس تشویشناک حالت پر کچھ دیر تبصرہ کروں جو میں اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔ اور قوم کی حالت کو درست ڈگر پر ڈال کر اسی جہاں فانی سے کنارہ کروں۔ جیسا کہ میں  بیان کر چکا ہوں کہ اب میرے ملک کے باسیوں کی نفساتی حالت بھی اتنی نازک ہو چکی ہے کہ ہر شخص افراتفری کا شکار ہے۔ دراصل پاکستان کی معاشی صورتحال اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ ہر آنے والے دن کے ساتھ ایک بیجا خوف اور وسوسہ اپنا گھر مضبوط کرتا چلا جا رہا ہے۔ میرے پاس کوئی ان حالات کے علاج معالجے کیلئے کوئی ہسپتال نہیں مگر ایک کام بخوبی سر انجام دے سکتا ہوں اپنی قوم کی اخلاقی اور شعوری بیداری کے لئے کچھ مثبت بھاشن آپکی نذر کر سکتا ہوں کیونکہ پاکستان کی حالت زار دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس عظیم ملک کو کسی منصوبہ بندی کیساتھ کمزور کیا گیا ہے اور اس منصوبے میں شامل افراد ہمارے اپنے لوگ ہی ہیں جو اپنے ملک کو کمزور کرکے خود تو اربوں ڈالرز اڑا کر لے گئے مگر ملک کے باشندوں کی حالت ایسی ہیبت ناک بنا گئے کہ اس پر بات کرنا بھی مذاق بن چکا ہے۔ میں نے ہمیشہ لوگوں کیلئے بڑے خوبصورت پروگرام لکھے اور ملک و قوم کی بہتری کے لئے خاص طور پر غریب عوام کو خصوصی پروگریسو پلاننگ پروگرام ارسال کئے اور ہمیشہ کرتا رہوں گا۔ میں نے دنیا بھر کے کلچر اور تہذیب کو بہت قریب سے دیکھا پڑھا اور جانچا اور محسوس کیا ہے کہ ہمارا معاشرہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح ہی ہے مگر دنیا کی دوڑ میں پچھلی قطار میں کھڑے اپنے زوال کا تماشہ دیکھ رہے ہیں ایسے میں ہمیں ایک بھی مخلص ہیرو یا قاید دستیاب نہ ہو سکا۔ بڑی حیرت کی بات ہے 26 کروڑ 
انسانوں میں کوئی ایک بھی رہبر یا لیڈر دستیاب نہیں۔ اس پوری کی پوری بربادی میں سب سے پہلے۔ مذہبی پیشواؤں ، اساتذہ کا اور آخر میں سیاسی جماعتوں کا رول رہا ہے۔ چونکہ معاشی صورتحال اتنی بگڑ چکی ہے کہ سب سے پہلے مرحلے میں معاشیات کیطرف توجہ دینی ہوگی۔ آج کی دنیا میں ترقی کی رفتار بہت تیز ہے۔ انفرادی طور پر ہر پاکستانی کا فرض بنتا ہے کہ اپنی بگڑی ہوئی حالت کو درست کریں پھر اجتماعی طور پر ترقی کے میدان میں انقلاب برپا کریں۔ جیسا کہ پاکستان ایک زرخیز ملک ہے اور ہمارے ہاں ہر قسم کی زمین اور موسم پائے جاتے ہیں ہم ایک قوم تھے ، مگر اب ایک سوال بن چکے ہیں ! اس لیے شکوے تو بے شمار ہیں مگر ایک ہی صدا میں سب کچھ بیان کرنا ممکن نہیں کچھ شکایات میں اگلے لیٹر کے لئے بچا کر رکھ لیتا ہوں۔ میرا مقصد پاکستان کے ان نوجوانوں سے ہے جو آگے جا کر ملک کی بھاگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں لینے والے ہیں۔ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے اب آپ بھی اپنا فریضہ ادا کریں۔ اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ کسی بھی شخص کو آپ کی وجہ سے نقصان نہیں ہونا چاہئے اور جہاں تک ممکن ہو اپنے اندر انقلاب برپا کریں میرے چند الفاظ میرے ملک کے ان جوانوں کے نام ہیں جن پر مستقبل میں بہت سی امیدیں لگی ہوئی ہیں۔ تو کوئی شک نہیں کے پاکستان بھی دوسری دنیا کی طرح ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائے۔ اس امید کے ساتھ کہ آنے والے دن خوشحالی کی نوید لے کر آپ کی آئندہ زندگی میں آئیں اور مسکراتی ہوئی صبح کا سورج آپ کیلئے امن و شانتی کے ساتھ طلوع ہو ، اور آپ ترقی کی جانب جانے والی راہوں پر ہمیشہ گامزن رہیں۔۔۔ آمین ثم آمین۔۔۔