غلام علی
کہتے ہیں انسان اپنی زبان کے پیچھے چھپا ہوتا ہے۔ زبان ہی ہے جو انسان کو تخت پہ بٹھاتی ہے یا دار پہ لٹکاتی ہے۔ اس کا استعمال بھی انسان ہی کے مرہون منت ہوتا ہے۔یہ قدرت کا عظیم عطیہ، لحن انسانی کا کمال، شعورِ آدم کا اعجازاور سب سے بڑا ذریعہ ابلاغ ہونے کے ساتھ ساتھ وسیلہ علم ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کے نزدیک زبان ایک ایسا درندہ ہے جس کے کھلے چھوڑنے پر انسان کو پھاڑ کھاتی ہے۔ یہ تلوار سے زیادہ طاقت ور اور پھول سے زیادہ نرم ہے ۔ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اس کا استعمال کس طرح کرتا ہے۔ کہتے ہیں پہلے تولو پھر بولو۔معاشرے میں مختلف قسم کے لوگ آباد ہیں کچھ ایسے ہیں جو اپنے لفظوں کے پہرے دار ہوتے ہیں ۔ رکھ رکھائو کی جیل میں قید رہتے ہیں ۔ احساس ذمہ داری ان کی پہچان ہوتی ہے، معاملہ فہمی میںلاجواب ہوتے ہیں، دوسروں کے جذبات کے قدرد ان ہوتے ہیں۔ معاملات میں کھرے اور سچے ہوتے ہیں ۔انسانیت اُن کا سرمایہ حیات ہوتی ہے۔ وہ نہ تو کسی سے دغا، نہ ہی دھوکہ کرتے ہیں ،نہ کسی کے جذبات سے کھیلتے ہیں ،نہ ہی غیر ذمہ دار رویوں کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔نہ کسی کی چغل خوری، نہ کسی کی غیبت، نہ کسی کی عیب تراشی، نہ ناپ تول میں کمی،اور نہ ہی وعدہ خلافی کرتے ہیں۔
دوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہیں جو تیز طبیعت ہونے کی بدولت بولنے میں بھی تیز ہوتے ہیں ۔ زبان کا غیر ضروری استعمال کرتے ہیں۔شاید وہ نادانی کی دنیا میں رہتے ہیں۔ اپنے لفظوں کے ذمہ دار نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کو نہ تو کسی کی عزت نفس کا خیال ہوتا ہے اورنہ کسی کی شہرت پہ حرف آنے کا ڈر۔ ابن الوقت قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ان میں انسانیت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہوتی ۔ان کے ذاتی مفادات ہی ان کی پہلی ترجیح ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ خطرناک قسم کے ہوتے ہیں اپنے مفادات کے لئے کسی بھی دوسرے کاکوئی بھی نقصان کر سکتے ہیں ۔یہ ہمہ وقت دوسروں کی عیب تراشی میںمگن رہتے ہیں۔ غیبت ، چغل خوری، جھوٹ ، دھوکہ ان کا مشغلہ زندگی ہوتا ہے۔کچھ حاصل ہو جانے پر شوخی کے غبارے میں ہوا بھرتے نظر آتے ہیں۔ غیر ضروری بولنا، بلاوجہ دوسروں کی بات میں ٹانگ اڑا نا، اپنے سے بڑے لوگوں کے بارے میں تبصرے کرنا ان کا معمول ہوتاہے۔ ہر محکمے میں بڑے افسروں کے ساتھ اپنے تعلقات کا نقارہ بجاتے ہیں ۔مختلف افسروں کے بارے میں معلومات اپنی جیب میں لئے ہوتے ہیں۔ایسے لوگ مہمان کی خدمت کرنا، پھر اس خدمت کا چرچا کرنا اپنے ہاضمے کا سبب سمجھتے ہیں۔بڑے بڑے ہوٹلوں کی معلومات رکھنا ، محفلوں میں ان کے ریٹ بتانا،سننے والے پر تأثر جھاڑنا کہ وہ اکثر ان ہوٹلوں میں آتا جاتا ہے۔زیادہ گویائی کی بدولت دوسروں کا راز بھی نہیں رکھ پاتے۔
؎ جو بول زبانوں نکل گیا اوہ تیر کمانوں نکل گیا
چلو چھوڑیں ہمارا موضوع انسانی زبان اور اس کا استعمال ہے اگر استعمال اچھا ہوگا تو شہرت بھی اچھی ہو گی اگر ترش ہوئی تو انسان کی پہچان بھی تلخ ہو گی۔انسان کی نسبت زبان اور الفاظ سے جڑ گئی ہے۔ اگر اچھا بولے گا تو لوگ سنیں گے ، لوگ سنیں گے تو مائل ہوں گے۔اچھے الفاظ منافع بخش فصل کی طرح ہوتے ہیں۔اچھے الفاظ اور اچھے لہجے دشمن کو بھی اپنا کر سکتے ہیں۔تلخ لہجہ ، سخت الفاظ اپنوں کو بھی دور لے جاتے ہیں جن کا خمیازہ کبھی نہیں ہو پاتا۔جارج برنارڈ شاہ نے کہا تھا کہ زبان بہت طاقتور ہتھیار ہے اگر صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو یہ دلوں کو فتح کر سکتی ہے۔الفاظ اور لہجے انسان کی اندرونی سلطنت کے مخبر ہوتے ہیں ۔ جو کچھ انسان کے اندر ہوتا ہے وہی زبان کے ذریعے باہر آتا ہے۔پروین شاکر نے تو کہا تھاکہ
سنا ہے وہ بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
ایسی بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
زندگی نے کبھی کسی سے وفا نہیںکی ۔ کسی کو یہ معلوم بھی نہیں کہ کس موڑ پر شام ہو جائے ۔انسانی زندگی میں مرکزی کردار زبان کا ہے لہٰذازبان کا استعمال ہی انسان کو زندہ رکھ سکتا ہے۔نہج البلاغہ میں ہے کہ دنیا میں ایسے رہو کہ لوگ تمہاری ملاقات کے مشتاق ہو ںمر جائو تو گریہ کریں۔پھر ارشاد ہوتا ہے:عقل مند کی زبان اس کے دل کے پیچھے ر ہتی ہے اور احمق کا دل اس کی زبان کے پیچھے رہتا ہے۔کچھ لوگ بد زبان اور منہ پھٹ ہوتے ہیں ۔ ان کے ساتھ مختلف طعنے منسوب ہو جاتے ہیں ۔ جیسے وہ تو لمبی زبان والا ہے ۔ یہ طعنہ مردوں میں ذرا کم ہے مگر خواتین میں زبان زدِ عام ہے کہ وہ بڑی لمبی زبان والی ہے ۔ یہ زیادہ تر ان خاندانوں میں ہوتا ہے جن کی عورتیںجاہل، فارغ اور لڑاکو ہوتی ہیں، سارا دن فارغ رہتی ہیں فراغت کا خلا پورا کرنے کے لئے آپس میں لڑتی رہتی ہیں پھر وہ لمبی زبان کا راگ الاپتی ہیں۔حقیقتاً ان کی زبان لمبی نہیں ہوتی بلکہ وہ بولنے میں غیر محتاط ہوتی ہیں ۔ ان کی غیر سنجیدگی ان کو لے ڈوبتی ہے۔ کہیں لکھا ہوایہ پڑھا تھا کہ لمبا دھاگہ اور لمبی زبان ہمیشہ الجھ جاتے ہیں اس لئے دھاگہ لپیٹ کر اور زبان سمیٹ کر رکھنی چاہیے۔کالی زبان والابھی ایک بڑامشہور طعنہ ہے۔یہ اس شخص سے منسوب ہو جاتا ہے کہ جو اکثر برا بولتا ہے ۔وہ جو بولتا ہے اتفاقاً وہی ہو بھی جاتا ہے۔اس میں بولنے والے کی نیت بری نہیں ہوتی بلکہ یہ اتفاق ہوتا ہے۔
انسانی زبان اور دل کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے اگر زبان اور دل کی مطابقت ہو جائے تو انسان ولی، نہ ہو تو منافق۔اولیائے کرام نے اپنی میٹھی زبان کو ہی ذریعہ تبلیغ بنایا اور بہت سے لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل کیا ۔اگر اجازت دیں تو آخرمیں ایک بات کہتا جائوں ؟ بولنے میں محتاط ، دل دینے میں احتیاط
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے