فضل الرحمن اہلخانہ، ساتھیوں پر ٹیکس چوری کا الزام
ذاتی اکائونٹس تک محدود نہ رہا جائے، مختلف فلاحی، تعلیمی اور کاروباری اداروں کے ساتھ منسلک تمام مالی لین دین اور فنڈز کی بھی گہرائی سے چھان بین کی جائے، ٹیکس گوشواروں اور بینک ٹرانزیکشنز کا آپس میں تقابلی جائزہ لیا جائے: شکایت کرنیوالے کا مطالبہ
اسلام آباد (بیورو رپورٹ ، مانیٹرنگ ڈیسک ) جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اہل خانہ اور ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف مبینہ ٹیکس چوری اور آمدن چھپانے کے الزامات کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں باضابطہ شکایت جمع کرا دی گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف بی آر کو موصول ہونے والی اس شکایت میں مولانا فضل الرحمان کے قریبی رشتہ داروں اور معروف سیاسی و تنظیمی شخصیات کے نام شامل ہیں، جن افراد کے خلاف مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور ٹیکس چوری کی شکایات درج کرائی گئی ہیں ان میں سینیٹر کامران مرتضیٰ، لطف الرحمان، ضیاء الرحمان، اسعد محمود اور ابرار احمد خان کے نام سرفہرست ہیں، درخواست میں ان تمام پانچ افراد کے نام پر موجود اثاثوں، بینک اکائونٹس اور آمدن کے ذرائع کی مکمل اور غیر جانبدارانہ جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا گیا ہے۔بتایا جارہا ہے کہ درخواست کے متن میں سینیٹر کامران مرتضیٰ کے متعدد ملکی اور غیر ملکی کرنسی میں موجود بینک اکائونٹس کی مشکوک مالی سرگرمیوں کی باقاعدہ تحقیقات کرنے کا تقاضا کیا گیا ہے، اسی طرح لطف الرحمان کے مختلف تجارتی بینکوں میں موجود اکائونٹس اور ان کی کاروباری سرگرمیوں کی مروجہ ٹیکس قوانین کے تحت سخت جانچ کی درخواست کی گئی ہیجے یو آئی ف کے رہنماء ضیاء الرحمان کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے مختلف بینک اکائونٹس میں مبینہ طور پر غیر واضح اور مشتبہ رقوم موجود ہیں، جن کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں، مزید برآں سابق وفاقی وزیر اسعد محمود کے مختلف بینک اکائونٹس کی جانچ پڑتال کرکے ممکنہ ٹیکس چوری کی اصل حقیقت سامنے لانے کی استدعا کی گئی ہے، جب کہ ابرار احمد خان کے بینک اکائونٹس، ٹریول اینڈ ٹورز کے کاروبار اور ان سے جڑے تمام تر مالی معاملات کی چھان بین کا مطالبہ کیا گیا ہے۔شکایت گزار نے ایف بی آر حکام پر زور دیا ہے کہ صرف ذاتی اکائونٹس تک محدود نہ رہا جائے بلکہ مختلف فلاحی، تعلیمی اور کاروباری اداروں کے ساتھ منسلک تمام مالی لین دین اور فنڈز کی بھی گہرائی سے چھان بین کی جائے، متعلقہ افراد کے ظاہر کردہ اثاثوں، جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں اور بینک ٹرانزیکشنز کا آپس میں تقابلی جائزہ لیا جائے، مبینہ غیر ظاہر شدہ آمدن اور مشتبہ مالی لین دین کے تمام پہلوئوں کو سامنے لانے کے لیے فوری طور پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا آغاز کیا جائے اور قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔