واشنگٹن(آئی این پی )امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد مشرقِ وسطی میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ میں مزید شدت نہ آنے کے امکانات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی کمی ریکارڈ کی گئی ۔جمعرات کو ایشیائی مارکیٹس کاروبار کے دوران برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودے 97 سینٹ یعنی 1.03 فیصد کمی کے ساتھ 93.65 ڈالر فی بیرل پر کیے گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) خام تیل کے سودے 1.14 ڈالر یعنی 1.29 فیصد کی کمی کے ساتھ 86.98 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوئے۔اس سے قبل دونوں بنیادی بینچ مارکس میں گزشتہ سیشن کے دوران 8 فیصد سے زائد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی تھی جو 31 اگست کے بعد کم ترین سطح ہے۔برطانوی خبر رساں ا دارے نے خلیجی حکومتوں کے قریبی ذرائع اور معاشی تجزیہ کاروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وسط مدتی انتخابات کے نتیجے میں امریکی کانگریس میں اپوزیشن ڈیموکریٹس کے کنٹرول کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس فوجی اقدامات کا اختیار محدود ہو سکتا ہے، جس کے باعث وائٹ ہاس کے پاس اب تہران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی ترغیب زیادہ ہے۔اسپارٹا کمیوڈٹیز کی سینئر آئل اینالسٹ جون گوہ کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد مارکیٹ ٹرمپ انتظامیہ کے اگلے اقدامات کا اندازہ لگا رہی ہے اور جنگ کے خاتمے کے امکانات کو بنیاد بنا کر قیمتیں نیچے آ رہی ہیں، تاہم ان کے بقول مکمل سفارتی تصفیے کا راستہ تاحال غیر یقینی ہے اور عالمی اسٹریٹجک ذخائر میں کمی کے باعث مارکیٹ میں اتار چڑھا ئوبرقرار رہ سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیجی تیل کی ترسیل جنگ سے قبل کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے، جس نے مسلسل کئی ماہ کے تعطل کے بعد عالمی منڈی کو ایک بار پھر سرپلس کی حالت میں داخل کر دیا ہے۔