روزانہ20 سے30مقدمات سماعت کیلئے مقرر ہوتے ہیں‘خواتین کی وراثت اور جائیداد کی تقسیم سے متعلق زیر التوا مقدمات 30 اگست 2027 تک نمٹانے کا ہدف ہے
نظام انصاف پر عوامی اعتماد مضبوط بنانے کیلئے بینچ اور بار کے درمیان مسلسل رابطہ اور باہمی احترام ضروری ہے:سپریم کورٹ بار کی نومنتخب اور سبکدوش کابینہ سے ملاقات میں گفتگو
اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ بار کی نومنتخب اور سبکدوش کابینہ کی ملاقات ہوئی،ملاقات میں عدالتی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیاگیا جبکہ چیف جسٹس نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے ہر بینچ کے سامنے روزانہ تقریبا 20 سے 30 مقدمات سماعت کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں، فوجداری اور سروس مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی بینچز تشکیل دیے گئے ہیں۔ سال 2025 تک دائر ہونے والی سزائے موت کی اپیلوں کے فیصلے کر دیے گئے ہیں جبکہ سال 2026 میں دائر ہونے والی سزائے موت کی اپیلوں کی سماعت جاری ہے۔ خواتین کی وراثت اور جائیداد کی تقسیم سے متعلق زیر التوا مقدمات 30 اگست 2027 تک نمٹانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ جمعرات کوچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیی آفریدی سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نومنتخب اور سبکدوش ہونے والی کابینہ نے ملاقات کی۔نومنتخب کابینہ کی قیادت سید امجد شاہ اور سبکدوش ہونے والی کابینہ کی قیادت ہارون الرشید نے کی۔ چیف جسٹس نے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دی اور سبکدوش ہونے والی کابینہ کے تعاون کو سراہا۔ملاقات میں چیف جسٹس نے کہا کہ بینچ اور بار نظام انصاف کے اہم ستون ہیں، نظام انصاف پر عوامی اعتماد مضبوط بنانے کے لیے بینچ اور بار کے درمیان مسلسل رابطہ اور باہمی احترام ضروری ہے۔چیف جسٹس نے بار نمائندگان کو عدالتی اصلاحات، کیس مینجمنٹ، ڈیجیٹل تبدیلی اور عوامی سہولیات میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔