بشریٰ بی بی کا پارٹی رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا اعلان، ڈی چوک پر اکیلا چھوڑنے پر ناراضی

بشریٰ بی بی کا پارٹی رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا اعلان، ڈی چوک پر اکیلا چھوڑنے پر ناراضی

بشریٰ بی بی نے 24 نومبر کے ڈی چوک احتجاج کے دوران پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کی غیر موجودگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ انہیں کارکنوں کے ساتھ اکیلا چھوڑ کر پارٹی کے اہم رہنما غائب ہوگئے، اور اب وہ ان پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ فرار ہوگئیں۔ بشریٰ بی بی نے کہا کہ ایسے رہنماؤں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، اور اس حوالے سے رپورٹ بانی چیئرمین عمران خان کو پیش کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی نے پارٹی کے رہنماؤں کو واضح طور پر کہا تھا کہ 24 نومبر کو احتجاج کے دوران ہر صورت ڈی چوک پہنچیں اور وہاں رہیں، لیکن احتجاج کے دوران یہ رہنما غائب ہوگئے، اور بشریٰ بی بی کارکنوں کے ساتھ اکیلا رہ گئیں۔

پارٹی کے اہم رہنماؤں نے بعد میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ بانی چیئرمین عمران خان نے احتجاج کا مقام سنگجانی کو کہا تھا، تاہم بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ڈی چوک جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد، کارکنوں کی گرفتاری اور فائرنگ کے واقعات پر بعض رہنماؤں نے میڈیا کو بتایا کہ یہ فیصلہ غلط تھا اور بشریٰ بی بی سمیت دیگر رہنماؤں نے کارکنوں کو چھوڑ کر وہاں سے فرار ہو گئے۔بشریٰ بی بی نے ان بیانات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان بیانات سے کارکنوں کا حوصلہ ٹوٹا اور پارٹی کو نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے رہنماؤں کے خلاف پارٹی ڈسپلن کے تحت کارروائی کی جائے گی اور کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔