لاہور(خصوصی رپورٹ)پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی کے زیر انتظام نیشنل بینک پارک لاہور میں بودھی کے درخت پر لگے گلابی پھولوں کی بہار نے باغ کو نئی رعنائی بخش دی۔ ڈی جی پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی احمد عثمان جاوید کے مطابق یہ درخت مذہبی شناخت بھی رکھتا ہے۔ بدھ مت کے پیروکار اس درخت کو جسے مقامی طور پر "بدھا ٹری"کہا جاتا ہے، مقدس مانتے ہیں۔ روایت کے مطابق سدھارتھ گوتم نے بودھ گایا کے مقام پر اسی درخت کے نیچے مراقبہ کیا اور گیان پا کر "بدھ" یعنی "بیدار شخص"کہلائے۔ بدھ مت کے پیروکار مذہبی آثار، بشمول گوتم بدھ کے جسمانی باقیات کی تعظیم کرتے ہیں اور یہی احترام بودھی کے درخت کو بھی دیتے ہیں۔ ایک زندہ پودا ہونے کے ناطے یہ درخت بدھ اور انکے گیان کے درمیان تعلق سمجھا جاتا ہے۔ بدھ مت کے پیروکار درخت کو الگ ہستی مانتے ہیں اور عقیدت کیساتھ اسکے پاس آتے ہیں۔ پی ایچ اے لاہور کے لارنس گارڈن، نیشنل بینک باغ اور ریس کورس باغ میں بودھی کے درختوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ پاکستان میں یہ درخت عموما ستمبر سے نومبر کے دوران پتوں کا کچھ حصہ جھاڑنے کے بعد پھولتا ہے اور اسے دھوپ خوب راس آتی ہے۔ احمد عثمان جاوید نے کہا کہ بدھا ٹری محض آرائشی پودا نہیں، اس میں ایک تاریخ بسی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لاہور کے باغات میں موجود تاریخی ورثے کو بھی اجاگر کیا جائے۔ پی ایچ اے ان درختوں کی دیکھ بھال جاری رکھے گی۔