وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی عوام اور حکومت کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
انہوں نے سابق صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی وفات پر تعزیت اور ان کے بلندی درجات کے لیے دعائیں بھی کیں۔شہباز شریف نے کہا کہ کشمیری ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں مگر حقِ آزادی سے دستبردار نہیں ہوں گے، اور مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل کشمیریوں کی امنگوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا اور مقبوضہ وادی کے ہر کونے سے کشمیر بنے گا۔وزیراعظم نے معرکۂ حق میں پاک فوج کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو ذلت آمیز شکست دی، اور بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کے جارحانہ عزائم خطے میں امن کے لیے خطرہ ہیں اور پاکستان کی بہادر افواج بھارتی کٹھ پتلیوں کا وہی حشر کریں گی جو معرکۂ حق میں بھارتی طیاروں کا ہوا۔شہباز شریف نے فلسطین اور کشمیر کے عوام کو خود ارادیت کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا اور اعلان کیا کہ آزاد کشمیر میں انفراسٹرکچر بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رہیں گے۔
ان کے اعلان کردہ ترقیاتی اقدامات میں شامل ہیں:
مہاجرین کا وظیفہ 3,500 سے بڑھا کر 6,000 روپے ماہانہ کرنا۔
مظفرآباد میں دانش یونیورسٹی کا سب کیمپس قائم کرنا۔
اسلام آباد طرز کا خدمت سینٹر مظفرآباد میں بنانا۔
2,096 کشمیری طلبہ کو لیپ ٹاپس فراہم کرنا، مزید 1,700 طلبہ کو فراہم کیے جائیں گے۔
ایجوکیشن بینیولنٹ فنڈ کے تحت کشمیری نوجوانوں کو بین الاقوامی جامعات میں تعلیم کے مواقع دینا۔
آزاد کشمیر کے سکولوں کی چھتوں کی تعمیر و مرمت کے لیے ایک ارب روپے فنڈز فراہم کرنا۔
وزیراعظم نے کہا کہ قائد نواز شریف کے وژن کے مطابق کشمیر کاز اور قومی ترقی کے اہداف حاصل کیے جائیں گے اور کشمیری عوام کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔