تہران: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہوسکیں۔
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کسی ممکنہ سمجھوتے سے ابھی کافی دور ہیں کیونکہ تہران امریکی مطالبات کو حد سے زیادہ سمجھتا ہے اور انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا چاہتا ہے تو اسے ایران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات طے ہونے کے بعد جوہری پروگرام کے معاملے پر مذاکرات شروع کیے جاسکتے ہیں۔ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ثالث دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے اور کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، تاہم اہم معاملات پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ایران پر دوبارہ حملے کیے تو تہران بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا ردعمل صرف خطے تک محدود نہیں ہوگا بلکہ خطے سے باہر بھی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ایرانی عہدیدار کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات پر دونوں ممالک کے درمیان تاحال اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا۔