اسلام آباد(خصوصی رپورٹ ) سینئر سیاستدان مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ٹرمپ نیتن یاہو کے کہنے پر ایران جنگ میں پھنس گئے، اب فیس سیونگ چاہتے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آدھے اسرائیل نے نیتن یاہو کو مسترد کردیا ہے، نیتن یاہو سمجھتے تھے کہ نسل کشی کے ذریعے انہیں مقبولیت حاصل ہوگی۔اسرائیلی وزیراعظم سے متعلق فیصلہ واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کریں گے، ٹرمپ کی حمایت سے نیتن یاہو کو انتخابات میں فائدہ پہنچا ہے۔مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ایران جنگ امریکی داخلی سیاست پر اثر انداز ہورہی ہے، جنگ کے باعث ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے اور امریکی کانگریس میں بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ امریکا کا یہ دعوی غلط ثابت ہوگیا کہ دنیا میں کہیں بھی کچھ ہو، اسے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ایران نے آبنائے ہرمز بند کرکے ہی ٹرمپ کو کمزور کردیا ہے۔سینئر سیاستدان کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ ٹرمپ مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پرحملہ کریں گے۔مشاہد حسین سید نے بتایا کہ ایران نے چھبیس امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، جہاں چالیس ہزار فوجی موجود تھے، ان حملوں سے امریکا کو پچاس ارب ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ خطے میں امریکی فوجی اڈے غیر فعال ہوگئے۔انھوں نے دعوی کیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے محسن رضائی کو خط لکھ کر کہا کہ امریکا امن چاہتا ہے، امریکا اب ایران کے ساتھ معاہدے کی کوشش کررہا ہے۔سابق سینیٹر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ بری طرح پھنس چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایران جنگ سے نکلنے کے لئے انہیں فیس سیونگ مل جائے، ٹرمپ نیتن یاہو کے کہنے پر ایران جنگ میں پھنسے ہیں۔