لاہور کے 6 بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ایک ہفتے کے دوران فلو، ، کورونا اور انفلوئنزا کے35ہزار مریض رپورٹ

 سموگ بڑھ گئی،لاہور پر بیماریوں کا حملہ
 میو ہسپتال میں 11 ہزار سے زائد، سروسز ہسپتال میں 9 ہزار 800 جناح ہسپتال میں ایک ہزار سے زائد مریضعلاج کیلئے آئے، جنرل ہسپتال، گنگارام ہسپتال اور چلڈرن ہسپتال میں بھی رش رہا، شہریوں کو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کی ہدایت
 لاہور (خصوصی رپورٹ) لاہور میں سموگ کی شدت میں اضافے کے ساتھ مختلف موسمی اور وائرل بیماریوں نے بھی شہریوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کورونا کے مختلف ویرینٹس اور انفلوئنزا وائرس کے پھیلاوٓ کے باعث بخار، کھانسی، نزلہ، گلے میں درد اور جسمانی درد کی شکایات بڑھنے لگی ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہر کے چھ بڑے سرکاری ہسپتالوں میں گزشتہ سات روز کے دوران فلو، کورونا اور انفلوئنزا جیسی علامات کے ساتھ 35 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔ میو ہسپتال میں 11 ہزار سے زائد، سروسز ہسپتال میں 9 ہزار 800 سے زائد جبکہ جناح ہسپتال میں ایک ہزار سے زائد مریض سامنے آئے۔ اس کے علاوہ جنرل ہسپتال، گنگارام ہسپتال اور چلڈرن ہسپتال میں بھی ہزاروں مریض فلو جیسی علامات کے ساتھ علاج کے لیے پہنچے۔ ذرائع کے مطابق ریپڈ ٹیسٹنگ کے دوران کورونا کے مثبت کیسز بھی سامنے آئے ہیں، جس سے صحت کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ سروسز ہسپتال کے شعبہ ناک، کان اور گلا کے سربراہ کے مطابق کورونا کے مختلف ویرینٹس پہلے کے مقابلے میں کم شدت والے ہوسکتے ہیں، تاہم ان کی علامات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ فلو کی علامات ظاہر ہونے پر خود تشخیص اور علاج کے بجائے مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔ پروفیسر شہباز غوری کا کہنا ہے کہ کورونا، فلو اور سموگ سانس کی بیماریوں سے ملتی جلتی علامات پیدا کرسکتے ہیں، اس لیے شہری احتیاط برتیں اور بروقت طبی معائنہ کرائیں۔ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اور وائرل بیماریوں کے پیش نظر شہریوں کو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز، ماسک کے استعمال اور صفائی کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔