اداکار شفیع محمد شاہ کی 19ویں برسی 17نومبر کو منائی جائے گی

لاہور(شوبز ڈیسک)نامور اداکار شفیع محمد شاہ کی 19ویں برسی 17نومبر کو منائی جائے گی ۔شفیع محمد شاہ نے اردو اور سندھی فلموں میں بھی کردار نبھائے لیکن پاکستان اور دنیا بھر میں مقبولیت ٹیلی ویژن ڈراموں کی بدولت ملی۔ 1948 میں کنڈیارو میں پیدا ہونے والے شفیع محمد شاہ نے سندھ یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ایم اے کا امتحان پاس کیا اور ایک زرعی بینک میں ملازمت اختیار کرلی لیکن وہ بطور اداکار کام کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ ان کی آواز میں خاص قسم کی مٹھاس، نرمی اور لہجے میں وہ دھیما پن تھا جس میں ایک جاذبیت اور کشش تھی۔ ان کا یہی انداز اور لب و لہجہ انھیں ریڈیو پاکستان تک لے گیا جہاں وہ صدا کار کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے لگے۔فنکار کی حیثیت سے اپنے سفر کا آغاز کرنے کے بعد شفیع محمد شاہ نے ملازمت ترک کی اور لاہور آ گئے جہاں اداکار محمد علی نے فلم ’’کورا کاغذ ‘‘میں ایک کردار دلوا دیا۔ اسی زمانے میں ٹیلی وژن کے نہایت قابل اور نام ور پروڈیوسر شہزاد خلیل نے انہیںاپنے ڈرامے ’’اڑتا آسمان ‘‘میں ایک کردار کی پیشکش کی اور یوں ٹی وی کے ناظرین سے ان کا تعارف ہوا۔ انہوں نے لاہور میں قیام کے دوران چند فلموں میں کام کیا اور پھر کراچی آگئے۔شفیع محمد شاہ کو سیریل ’’تیسرا کنارا ‘‘اور ’’آنچ ‘‘سے ملک گیر شہرت ملی۔ ٹیلی وژن کے مقبول ترین ڈراموں ’’آنچ‘‘، ’’چاند گرہن‘‘،’’ جنگل‘‘،’’ دائرے‘‘،‘’’ تپش‘‘،’’ کالا پل‘‘، ’’ماروی ‘‘میں شفیع محمد شاہ نے اپنے کرداروں میں حقیقت کا رنگ بھرا اور ناظرین کے دل جیتے۔شفیع محمد نے سیاست کی دنیا میں بھی قدم رکھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے ٹکٹ پر انہوںنے قومی اسمبلی کی نشست پر انتخاب میں حصہ لیا لیکن کام یاب نہ ہوسکے۔ حکومتِ پاکستان نے انہیںصدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا اور بعد از مرگ شفیع محمد شاہ کے لیے ستارہ امتیاز کا اعلان کیا گیا۔