سہمی ہو ئی سچائیا ں

 آکاش علی فرتاش

کسی بھی ملک میں آخری فیصلے کا اختیار عوام کے پاس ہوا کرتا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ عوام کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جاہل رکھا گیا ہے ور ہمیشہ عوام سے غلط فیصلے کروائے گئے ہیں اور تیسری دنیا کے ممالک میں صدیوںسے ایسا ہورہا ہے کہ وہاں تعلیم کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دی جارہی جس کی وجہ سے عوام کی بھاری اکثریت کو یہ شعور حاصل نہیں ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط ہے اور یہی وجہ ہے کہ تیسری دنیا کے عوام کو دلائل کی بجائے جذبات سے قائل کیا جاتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جہاں تعلیم کی کمی ہوگی وہاں صرف جذبات کا سکہ کیش ہوگا جیسا کہ پاکستان میں ہمیشہ سے یہ رجحان رہا ہے کہ عوام کو دلائل کی بجائے جذبات سے قائل کیا گیا ہے اور ہمیشہ عوام کی بھاری اکثریت کے جذبات ابھار کر انہیں سڑکوں پر لانے کی رسم پاکستان میں عام ہے اور یہ ایک المیہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی سرزمین پر عوام کا مسلسل استحصال ہو رہا ہے اور بھاری اکثریت چونکہ ان پڑھ ہے لہذا بہت کم تعداد صحیح اور غلط کا شعور رکھتی ہے اور عوام کی بھاری اکثریت کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ا?مریت پسند سیاست دان ہمیشہ عوام کو جذبات سے قائل کرتے ہیں جبکہ جمہوریت پسند لیڈ ردلائل سے عوام کو اپنا ہم نوا بناتے ہیں اور عوام کو جذبات سے گمراہ کرنے کی عادت صرف سیاست دانوں نے نہیں اپنائی بلکہ پاکستانی صحافت بھی عوام کے جذبات اْبھار کر انہیں گمراہ کرنے میںرواں دواںہیں اور پاکستان کے مذہبی پیشوا بھی جذباتی رشتہ ْابھار کر عوام کو اپنا ہم نوا بنانے میں مصروف ہیں اور پاکستان میں عوام کا استحصال کرنے والے تمام طبقات یہ ہرگز نہیں چاہتے کہ عوام میں تعلیم عام ہو کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ جب عوام میں تعلیم عام ہو گی تو عوام باشعور ہو جائیں گے اور جب عوام باشعور ہوں گے تو پھر وہ جذبات سے قائل نہیں ہوں گے بلکہ دلائل سے قائل ہوں گے اور عوام استحصال پسند طبقات سے نجات حاصل کر لیں گے جبکہ استحصال پسند طبقات عوام کو اپنے زیر اثر رکھنا چاہتے ہیں اور اْن کی شدید خواہش ہے کہ وہ عوام پر قابض رہیں اور اب جبکہ پاکستان میں جمہوریت بحال ہو چکی ہے اور جمہوری ذہن رکھنے والے سیاست دان عوام کو اکیسویں صدی میں داخل کرنا چاہتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ تعلیم کو عام کیا جائے اور پاکستان میں تعلیم عام کرنے کے لئے مزید مفت تعلیم تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے اور پاکستان کے ذرائع ابلاغ جو ابھی تک ہزاروں سال پہلے کی فضا میں سانس لے رہے ہیں انہیں بھی جدید فضاؤں میں سانس لینے کی تلقین کی جائے کیونکہ عوام کا شعور بیدار کرنے میں ذرائع ابلاغ کا بھی خاطر خواہ حصہ ہوا کرتا ہے۔ اب یہاں میں پاکستان کے ذرائع ابلاغ کا ایک سرسری جائزہ پیش کرنا چاہتا ہوں جو کچھ یوں ہے کہ پاکستان میں شائع ہونے والے 
جرائد جو خصوصاً کراچی سے شائع ہوتے ہیں وہ صرف جرائم کی کہانیوں کی اشاعت عمل میں لا کر معاشرے میں جرائم پسند افراد پیدا کرنے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں جبکہ لاہور سے شائع ہونے والے اکثر میگزین مذہبی فرقوں کی آبیاری کرنے میں مصروف ہیں اور قوم کے مختلف فرقوں میں انتہا پسندانہ جذبات ابھار رہے ہیں باالفاظ دیگر مذہب کے نام پر تشدد پرستی پھیلانے میں مصروف ہیں جبکہ مختلف ناموں سے شائع ہونے والے اکثر قومی اخبارات اخبار تو ہیں لیکن قومی نہیں ہیں کیونکہ وہ یہ سوچ کر سچ کا ساتھ نہیں دیتے اور سچ بات نہیں لکھتے کہ کہیں انتہا پسند فرقے ان کی بلند و بالا عمارتوں اور کروڑوں کے کاروبار کو تہس نہیں نہ کر دیں۔اِسی طرح ریڈیو اور ٹیلی ویڑن کے بارے میں بھی عام تاثریہ ہے کہ ان سرکاری ابلاغ سے بھی فرقہ وارانہ جہالت کی آبیاری ہو رہی ہے لیکن کبھی کبھارپْو پھوٹنے کا منظر بھی دکھائی دے جاتا ہے جبکہ سینما جیسا ذریعہ ابلاغ پہلے ہی کمرشل بنیادوں پر زندہ ہے جبکہ پاکستانی ادب کو بھی تو اہم پرستی کا عارضہ لاحق ہو چکا ہے لیکن کہیں نہ کہیں سے جدید سوچ کی کرنیں بھی پھوٹ رہی ہیں اسی طرح اخبارات کے صفحات پر بھی بسا اوقات سہی ہوئی سچائیاں دکھائی دے جاتی ہیں لیکن یہ سچائیاں تمام تر توانائیوں اور تسلسل کے ساتھ دکھائی نہیں دیتیں لہذا اب سوچنا یہ ہے کہ ابلاغ کے وہ تمام ذرائع جو صرف پیسہ تخلیق کرنے میں مصروف ہیں وہ باشعور قوم کیسے تخلیق کریں گے؟ اگر باشعور قوم کو تخلیق نہ کیا گیا تو پاکستان اکیسویں صدی میں کیسے داخل ہو گا لہذا پاکستانی عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی اصلاح خود کریں، آئند ہ عام انتخابات سے پہلے عوام یہ فیصلہ کر لیں کہ جو آمریت پسند سیاست دان عوام کو صرف جذبات سے قائل کرتے ہیں اْن کا ساتھ نہ دیا جائے اور جو جمہوریت پسند لیڈر دلائل سے عوام کو اپنا ہم نوا بناتے ہیں اْن کی بھر پور حمایت کی جائے اِسی طرح تشدد پرستی اور انتہا پسندی پھیلانے والے مذہبی فرقوں اوران رہنماؤں کو کْلی طور پر ردکر دیا جائے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو بیگانی اولاد کے خون سے ملکی سڑکیں سرخ کیا کرتے ہیں لہذا ایک پْر امن اور خوشحال قوم کی تخلیق کے لئے ضروری ہے کہ عوام قومی فیصلے کرتے وقت جذبات کی بجائے شعور سے کام لیں۔