آگاہی بورڈز کی تنصیب لٹک گئی

 لاہور کے 10 بڑے ٹریفک سرکل میں 654 سائن بورڈ کی فوری ضرورت ، حادثات ،ٹریفک جام میں اضافہ 
 لاہور (خصوصی رپورٹ ) لاہور میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے اور شہریوں کو آگاہی فراہم کرنے کے لئے ٹیپا کا سائن بورڈز کی تنصیب کا منصوبہ تاخیر کا شکار ہو گیا ۔ شہر کے مختلف مقامات پر ٹریفک آگاہی بورڈز کی کمی کے باعث نہ صرف شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ ٹریفک حادثات اور رش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ سروے کے مطابق لاہور کے 10 بڑے ٹریفک سرکل میں 654 سائن بورڈز کی فوری ضرورت ہے، مگر یہ منصوبہ اب تک مکمل نہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق شہر میں ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کرانا مشکل ہوتا جا رہا ہے، اور اس کی ایک بڑی وجہ اہم مقامات پر ٹریفک آگاہی سائن بورڈز کی کمی ہے۔ون وے، نو پارکنگ، خطرناک یوٹرن اور حد رفتار سے متعلق اہم سائن بورڈز نہ ہونے کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض مقامات پر ڈرائیورز غلط سمت میں گاڑیاں چلاتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ غیر قانونی پارکنگ کے باعث ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔ٹریفک پولیس اور ٹیپا کی جانب سے ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کیلئے کئی اعلانات کئے گئے، مگر سائن بورڈز کی تنصیب کا منصوبہ تا حال مکمل نہ ہو سکا۔ایک سروے کے مطابق اچھرہ 83، صدر 99،شاہدرہ 47 ،سٹی ڈویڑن میں 108، ماڈل ٹاو ن 116 ،گلبرگ 44 ،کینٹ 41، مغلپورہ 61، انارکلی 42 اور ڈیفنس میں 13 سائن بورڈ لگانے کی ضرورت ہے۔سائن بورڈز کی کمی کے باعث شہریوں کو راستوں کا تعین کرنے میں بھی دشواری ہے۔ ون وے اور یوٹرن کے نشانات واضح نہ ہونے کی وجہ سے اکثر ڈرائیورز غلط سمت میں گاڑیاں لے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے اور حادثات کا خدشہ بڑھ گیا ۔ پنجاب موٹر وہیکل رولز کے تحت سڑکوں پر مناسب نشانات کی موجودگی نہ ہونا انتظامیہ کی غفلت تصور کی جاتی ہے، جبکہ لاہور ہائی کورٹ بھی ماضی میں ٹریفک نشانات کی کمی کا نوٹس لے چکی ہے۔ذرائع کے مطابق، ٹیپا نے سائن بورڈز کی تنصیب کا منصوبہ بنا تو لیا تھا، مگر فنڈز کی عدم دستیابی اور حکومتی عدم توجہ کے باعث یہ منصوبہ التوا کا شکار ہے۔